فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سے
فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سے اور پھر سامنے آنے میں ہے گھونگھٹ ہم سے آپ کا قصد محبت ہے اگر غیروں سے قرض لے لیجئے تھوڑی سی محبت ہم سے سو گئے ہم تو ہم آغوش ہوئے خواب میں وہ اب تو کرنے لگے کچھ کچھ وہ لگاوٹ ہم سے ایک بوسہ کی طلب میں ہوئی محنت برباد وصل کی رات ہوئی یار سے کھٹ ...