شاعری

فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سے

فتنہ خو لے گئی دل چھین کے جھٹ پٹ ہم سے اور پھر سامنے آنے میں ہے گھونگھٹ ہم سے آپ کا قصد محبت ہے اگر غیروں سے قرض لے لیجئے تھوڑی سی محبت ہم سے سو گئے ہم تو ہم آغوش ہوئے خواب میں وہ اب تو کرنے لگے کچھ کچھ وہ لگاوٹ ہم سے ایک بوسہ کی طلب میں ہوئی محنت برباد وصل کی رات ہوئی یار سے کھٹ ...

مزید پڑھیے

پاتا نہیں جو لذت آہ سحر کو میں

پاتا نہیں جو لذت آہ سحر کو میں پھر کیا کروں گا لے کے الٰہی اثر کو میں آشوب گاہ حشر مجھے کیوں عجیب ہو جب آج دیکھتا ہوں تری رہ گزر کو میں ایسا بھی ایک جلوہ تھا اس میں چھپا ہوا اس رخ پہ دیکھتا ہوں اب اپنی نظر کو میں جینا بھی آ گیا مجھے مرنا بھی آ گیا پہچاننے لگا ہوں تمہاری نظر کو ...

مزید پڑھیے

آلام روزگار کو آساں بنا دیا

آلام روزگار کو آساں بنا دیا جو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیا میں کامیاب دید بھی محروم دید بھی جلووں کے اژدہام نے حیراں بنا دیا یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی یوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا کچھ شورشوں کی نذر ہوا خون عاشقاں کچھ جم کے رہ گیا اسے حرماں بنا دیا اے شیخ وہ بسیط ...

مزید پڑھیے

گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاں

گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاں خون ہے کچھ جما ہوا قلب کہاں جگر کہاں ہے یہ طریق عاشقی چاہیئے اس میں بے خودی اس میں چناں چنیں کہاں اس میں اگر مگر کہاں زلف تھی جو بکھر گئی رخ تھا کہ جو نکھر گیا ہائے وہ شام اب کہاں ہائے وہ اب سحر کہاں کیجیے آج کس طرح دوڑ کے سجدۂ نیاز یہ بھی تو ...

مزید پڑھیے

مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہونا

مے بے رنگ کا سو رنگ سے رسوا ہونا کبھی میکش کبھی ساقی کبھی مینا ہونا از ازل تا بہ ابد محو تماشا ہونا میں وہ ہوں جس کو نہ مرنا ہے نہ پیدا ہونا سارے عالم میں ہے بیتابی و شورش برپا ہائے اس شوخ کا ہم شکل تمنا ہونا فصل گل کیا ہے یہ معراج ہے آب و گل کی میری رگ رگ کو مبارک رگ سودا ...

مزید پڑھیے

ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھی

ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھی یہ بھی کیا گھر ہے کہ ہے برباد بھی آباد بھی دل کے مٹنے کا مجھے کچھ اور ایسا غم نہیں ہاں مگر اتنا کہ ہے اس میں تمہاری یاد بھی کس کو یہ سمجھایئے نیرنگ کار عاشقی تھم گئے اشک مسلسل رک گئی فریاد بھی سینے میں درد محبت راز بن کر رہ گیا اب وہ حالت ہے کہ ...

مزید پڑھیے

صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیں

صرف اک سوز تو مجھ میں ہے مگر ساز نہیں میں فقط درد ہوں جس میں کوئی آواز نہیں مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں وہ مزے ربط نہانی کے کہاں سے لاؤں ہے نظر مجھ پہ مگر اب غلط انداز نہیں پھر یہ سب شورش‌ و ہنگامۂ عالم کیا ہے اسی پردے میں اگر حسن جنوں ...

مزید پڑھیے

جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہے

جینے کا نہ کچھ ہوش نہ مرنے کی خبر ہے اے شعبدہ پرداز یہ کیا طرز نظر ہے سینے میں یہاں دل ہے نہ پہلو میں جگر ہے اب کون ہے جو تشنۂ پیکان نظر ہے ہے تابش انوار سے عالم تہہ و بالا جلوہ وہ ابھی تک تہہ دامان نظر ہے کچھ ملتے ہیں اب پختگی عشق کے آثار نالوں میں رسائی ہے نہ آہوں میں اثر ...

مزید پڑھیے

سامنے ان کے تڑپ کر اس طرح فریاد کی

سامنے ان کے تڑپ کر اس طرح فریاد کی میں نے پوری شکل دکھلا دی دل ناشاد کی اب یہی ہے وجہ تسکیں خاطر ناشاد کی زندگی میں نے دیار حسن میں برباد کی ہوش پر بجلی گری، آنکھیں بھی خیرہ ہو گئیں تم تو کیا تھے، اک جھلک سی تھی تمہاری یاد کی چل دیا مجنوں تو صحرا سے کسی جانب مگر اک صدا گونجی ہوئی ...

مزید پڑھیے

خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے

خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے کہ اس کو ڈھونڈھتے ہیں کعبہ و بت خانہ برسوں سے تڑپنا ہے نہ جلنا ہے، نہ جل کر خاک ہونا ہے یہ کیوں سوئی ہوئی ہے فطرت پروانہ برسوں سے کوئی ایسا نہیں یا رب کہ جو اس درد کو سمجھے نہیں معلوم کیوں خاموش ہے دیوانہ برسوں سے کبھی سوز تجلی سے اسے نسبت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3958 سے 4657