شاعری

کون تھا اس کے ہوا خواہوں میں جو شامل نہ تھا

کون تھا اس کے ہوا خواہوں میں جو شامل نہ تھا اب ہوا معلوم مجھ کو دل بھی میرا دل نہ تھا عشق کی بیتابیوں پر حسن کو رحم آ گیا جب نگاہ شوق تڑپی پردۂ محمل نہ تھا تھیں نگاہ شوق کی رنگینیاں چھائی ہوئی پردۂ محمل اٹھا تو صاحب محمل نہ تھا قہر ہے تھوڑی سی بھی غفلت طریق عشق میں آنکھ جھپکی ...

مزید پڑھیے

عشق ہے اک کیف پنہانی مگر رنجور ہے

عشق ہے اک کیف پنہانی مگر رنجور ہے حسن بے پردا نہیں ہوتا مگر دستور ہے خستگی نے کر دیا اس کو رگ جاں سے قریب جستجو ظالم کہے جاتی تھی منزل دور ہے لے اسی ظلمت کدہ میں اس سے محرومی کی داد اس سے آگے اے دل مضطر حجاب نور ہے لب پہ موج حسن جب چمکے تبسم نام ہو رب ارنی کہہ کے چیخ اٹھوں تو برق ...

مزید پڑھیے

یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوا

یہ کیا کہا کہ غم عشق ناگوار ہوا مجھے تو جرعۂ تلخ اور سازگار ہوا سرشک شوق کا وہ ایک قطرۂ ناچیز اچھالنا تھا کہ اک بحر بے کنار ہوا ادائے عشق کی تصویر کھنچ گئی پوری وفور جوش سے یوں حسن بے قرار ہوا بہت لطیف اشارے تھے چشم ساقی کے نہ میں ہوا کبھی بے خود نہ ہشیار ہوا لیے پھری نگہ شوق ...

مزید پڑھیے

یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والے

یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والے یہاں گمراہ کہلاتے ہیں منزل دیکھنے والے خط ساغر میں راز حق و باطل دیکھنے والے ابھی کچھ لوگ ہیں ساقی کی محفل دیکھنے والے مزے آ آ گئے ہیں عشوہ ہائے حسن رنگیں کے تڑپتے ہیں ابھی تک رقص بسمل دیکھنے والے یہاں تو عمر گزری ہے اسی موج و تلاطم میں وہ ...

مزید پڑھیے

اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے

اسرار عشق ہے دل مضطر لیے ہوئے قطرہ ہے بے قرار سمندر لیے ہوئے آشوب دہر و فتنۂ محشر لیے ہوئے پہلو میں یعنی ہو دل مضطر لیے ہوئے موج نسیم صبح کے قربان جائیے آئی ہے بوئے زلف معنبر لیے ہوئے کیا مستیاں چمن میں ہیں جوش بہار سے ہر شاخ گل ہے ہاتھ میں ساغر لیے ہوئے قاتل نگاہ یاس کی زد سے ...

مزید پڑھیے

نہ کھلے عقد ہائے ناز و نیاز

نہ کھلے عقد ہائے ناز و نیاز حسن بھی راز اور عشق بھی راز راز کی جستجو میں مرتا ہوں اور میں خود ہوں ایک پردۂ راز بال و پر میں مگر کہاں پائیں بوئے گل یعنی ہمت پرواز ساز دل کیا ہوا وہ ٹوٹا سا ساری ہستی ہے گوش بر آواز لذت سجدۂ ہائے شوق نہ پوچھ ہائے وہ اتصال ناز و نیاز دیکھ رعنائی ...

مزید پڑھیے

پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئے

پاس ادب میں جوش تمنا لئے ہوئے میں بھی ہوں اک حباب میں دریا لئے ہوئے رگ رگ میں اور کچھ نہ رہا جز خیال دوست اس شوخ کو ہوں آج سراپا لئے ہوئے سرمایۂ حیات ہے حرمان عاشقی ہے ساتھ ایک صورت زیبا لئے ہوئے جوش جنوں میں چھوٹ گیا آستان یار روتے ہیں منہ میں دامن صحرا لئے ہوئے اصغرؔ ہجوم ...

مزید پڑھیے

جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے

جان نشاط حسن کی دنیا کہیں جسے جنت ہے ایک خون تمنا کہیں جسے اس جلوہ گاہ حسن میں چھایا ہے ہر طرف ایسا حجاب چشم تماشا کہیں جسے یہ اصل زندگی ہے یہ جان حیات ہے حسن مذاق شورش سودا کہیں جسے میرے وداع ہوش کو اتنا بھی ہے بہت یہ آب و رنگ حسن کا پردا کہیں جسے اکثر رہا ہے حسن حقیقت بھی ...

مزید پڑھیے

یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہے

یہ عشق نے دیکھا ہے یہ عقل سے پنہاں ہے قطرہ میں سمندر ہے ذرہ میں بیاباں ہے ہے عشق کہ محشر میں یوں مست و خراماں ہے دوزخ بگریباں ہے فردوس بہ داماں ہے ہے عشق کی شورش سے رعنائی و زیبائی جو خون اچھلتا ہے وہ رنگ گلستاں ہے پھر گرم نوازش ہے ضو مہر درخشاں کی پھر قطرۂ شبنم میں ہنگامۂ طوفاں ...

مزید پڑھیے

موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں

موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں یا خون اچھل رہا ہے رگ ماہتاب میں وہ موت کہ کہتے ہیں جس کو سکون سب وہ عین زندگی ہے جو ہے اضطراب میں دوزخ بھی ایک جلوۂ فردوس حسن ہے جو اس سے بے خبر ہے وہی ہے عذاب میں اس دن بھی میری روح تھی محو نشاط دید موسیٰ الجھ گئے تھے سوال و جواب میں میں اضطراب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3959 سے 4657