شاعری

وہ میرا ہے تو کبھی بھی نہ آزماؤں اسے

وہ میرا ہے تو کبھی بھی نہ آزماؤں اسے مرا نہیں ہے تو پھر کس لئے ستاؤں اسے وہ ماہتاب سے بڑھ کر کے ہو گیا سورج جو خود بھی آئے تو کیسے گلے لگاؤں اسے میں چاہتا ہوں مرا پیار اس سے ایسا ہو وہ روٹھتا رہے میں بارہا مناؤں اسے تمام دن کی مشقت بھری تکان کے بعد تمام رات محبت سے پھر جگاؤں ...

مزید پڑھیے

زخم فرقت کو تری یاد نے بھرنے نہ دیا

زخم فرقت کو تری یاد نے بھرنے نہ دیا غم تنہائی مگر رخ پہ ابھرنے نہ دیا آج بھی نقش ہیں دل پر تری آہٹ کے نشاں ہم نے اس راہ سے اوروں کو گزرنے نہ دیا تو نے جس روز سے چھوڑا اسے خالی رکھا میں نے خوشیوں کو بھی اس دل میں ٹھہرنے نہ دیا ربط جو تجھ سے بنایا سو بنائے رکھا تو ہی کیا تیرا تصور ...

مزید پڑھیے

دل مانتا نہیں ہے منانے کے بعد بھی

دل مانتا نہیں ہے منانے کے بعد بھی کرتا ہے ان کو یاد بھلانے کے بعد بھی پیماں کی نذر ہو گئے چین و سکوں، قرار لیکن نبھا نہیں ہے نبھانے کے بعد بھی اک لفظ یاد تھا مجھے ترک وفا مگر بھولا ہوا ہوں ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی تسکین دل نصیب نہیں ہے تو کیا ہوا ہونا یہی ہے پیار جتانے کے بعد ...

مزید پڑھیے

ہم نے دیکھا ہے اتنے کھنڈر خواب میں

ہم نے دیکھا ہے اتنے کھنڈر خواب میں اب تو لگتا نہیں ہم کو ڈر خواب میں اپنی برسوں سے ہے اک وہی آرزو روز آ جائے ہے جو نظر خواب میں وقت آنے پہ سب کو غشی آ گئی جو بتاتے تھے خود کو نڈر خواب میں ظلم کی آندھیاں بڑھ کے طوفاں ہوئیں مست دنیا ہے پر رات بھر خواب میں عشق کی یہ مسافت بھی کیا ...

مزید پڑھیے

آ جاؤ اب تو زلف پریشاں کئے ہوئے

آ جاؤ اب تو زلف پریشاں کئے ہوئے ہم راہ پر ہیں شمع فروزاں کئے ہوئے مایوس قلب ہے تری آمد کا منتظر دہلیز پر نگاہ کو چسپاں کئے ہوئے عہد وفا کو توڑ کے ہم بھی ہیں مضمحل تم بھی ادھر ہو چاک گریباں کئے ہوئے آؤ تو میرے صحن میں ہو جائے روشنی مدت گزر گئی ہے چراغاں کئے ہوئے بیٹھے ہیں تشنہ ...

مزید پڑھیے

سکوت شب کے ہاتھوں سونپ کر واپس بلاتا ہے

سکوت شب کے ہاتھوں سونپ کر واپس بلاتا ہے مری آوارگی کو میرا گھر واپس بلاتا ہے میں جب بھی دائروں کو توڑ کر باہر نکلتا ہوں ہوا کے ناتواں جھونکے کا ڈر واپس بلاتا ہے اسی کے حکم پر اس کو میں تنہا چھوڑ آیا تھا خدا جانے مجھے وہ کیوں مگر واپس بلاتا ہے اشارے کر رہا ہے دوریوں کا کھولتا ...

مزید پڑھیے

رفتہ رفتہ ختم قصہ ہو گیا ہونا ہی تھا

رفتہ رفتہ ختم قصہ ہو گیا ہونا ہی تھا وہ بھی آخر میرے جیسا ہو گیا ہونا ہی تھا دشت امکاں میں یہ میرا مشغلہ بھی خوب ہے روزن دیوار چہرہ ہو گیا ہونا ہی تھا ڈوبتا سورج تمہاری یاد واپس کر گیا شام آئی زخم تازہ ہو گیا ہونا ہی تھا عہد ضبط غم پہ قائم تھا دم رخصت مگر وہ سکوت جاں بھی دریا ہو ...

مزید پڑھیے

اندھیرے میں تجسس کا تقاضا چھوڑ جانا ہے

اندھیرے میں تجسس کا تقاضا چھوڑ جانا ہے کسی دن خامشی میں خود کو تنہا چھوڑ جانا ہے سمندر ہے مگر وہ چاہتا ہے ڈوبنا مجھ میں مجھے بھی اس کی خاطر یہ کنارہ چھوڑ جانا ہے بہت خوش ہوں میں ساحل پر چمکتی سیپیاں چن کر مگر مجھ کو تو اک دن یہ خزانہ چھوڑ جانا ہے طلوع صبح کی آہٹ سے لشکر جاگ جائے ...

مزید پڑھیے

کتنی مجبور ہے مت پوچھئے حالت میری

کتنی مجبور ہے مت پوچھئے حالت میری جاگتی آنکھ میں سو جاتی ہے قسمت میری رات کے پچھلے پہر فکر سے لڑتے لڑتے آج پھر ہار گئی نیند سے راحت میری آرزو عشق وفا لطف و کرم بے معنی ہائے کس کام کی ہے دوستو دولت میری سرخ رو ہونے ہی والی ہے خطائے گندم اٹھنے والے ہے پشیمانی سے شہرت ...

مزید پڑھیے

سانس چڑھتی ہوئی اترتی ہوئی

سانس چڑھتی ہوئی اترتی ہوئی زندگی ٹوٹتی بکھرتی ہوئی ہر طرف موت ہی کی دستک ہے دل کی آواز کیوں ہے مرتی ہوئی گہری تاریکیوں میں جگنو سی آنکھ کھلتی ہے اپنی ڈرتی ہوئی کلمۂ حق لبوں پہ جاری رکھ روشنی سی ہو کچھ ابھرتی ہوئی کیا قیامت کا دن نکل آیا جلتے سورج سے گرم دھرتی ہوئی صبر صورت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3949 سے 4657