وہ میرا ہے تو کبھی بھی نہ آزماؤں اسے
وہ میرا ہے تو کبھی بھی نہ آزماؤں اسے مرا نہیں ہے تو پھر کس لئے ستاؤں اسے وہ ماہتاب سے بڑھ کر کے ہو گیا سورج جو خود بھی آئے تو کیسے گلے لگاؤں اسے میں چاہتا ہوں مرا پیار اس سے ایسا ہو وہ روٹھتا رہے میں بارہا مناؤں اسے تمام دن کی مشقت بھری تکان کے بعد تمام رات محبت سے پھر جگاؤں ...