شاعری

گو اور بھی غم شامل غم ہو کے رہیں گے

گو اور بھی غم شامل غم ہو کے رہیں گے ہم فاتح ہر رنج و الم ہو کے رہیں گے بیباکیٔ تحریر یہ دستور خداوند اک روز مرے ہاتھ قلم ہو کے رہیں گے اے مرد سخن جرم سخن خوب ہیں لیکن یہ جرم ترے خوں سے رقم ہو کے رہیں گے کعبے سے نکالے ہوئے بت پوجنے والو کیا پھر یہ شناسائے حرم ہو کے رہیں گے کہتے ...

مزید پڑھیے

دو گھڑی ان کے ہاں گزار آئے

دو گھڑی ان کے ہاں گزار آئے عشق کی عاقبت سنوار آئے ہر نفس اک نیا تصادم ہے وقت ٹھہرے تو کچھ قرار آئے کچھ تو ہو اہل دل کی دنیا میں مے ملے یا کہیں بہار آئے اپنا انجام زیست کیا ہوگا ہم اگر موت کو بھی ہار آئے تھک چکی ہے شعاع شمس کہن روشنی کا نیا منار آئے ہم ازل سے رواں تھے سوئے ...

مزید پڑھیے

دل ہے بیتاب نظر کھوئی ہوئی لگتی ہے

دل ہے بیتاب نظر کھوئی ہوئی لگتی ہے زندگی دکھ میں بہت روئی ہوئی لگتی ہے تجھ کو سوچوں تری طاعت میں رہوں تو مجھ کو خوشبوؤں سے یہ زمیں دھوئی ہوئی لگتی ہے سانس لیتے ہی دھواں دل میں اتر جاتا ہے آگ سی شے یہاں کچھ بوئی ہوئی لگتی ہے سامنے حشر نظر آتا ہے لیکن دنیا خواب غفلت میں ابھی سوئی ...

مزید پڑھیے

کر کے ساری حدوں کو پار چلا

کر کے ساری حدوں کو پار چلا آج پھر سے میں کوئے یار چلا اس نے وعدہ کیا تھا ملنے کا کر کے اس پر میں اعتبار چلا جانے کیا بات اس میں ایسی تھی اس کی جانب جو بار بار چلا مٹ گئے غم مل گئیں خوشیاں رب کو دل سے جو میں پکار چلا کیوں ہو بے کیف زندگی اس کی لے کے توقیرؔ ماں کا پیار چلا

مزید پڑھیے

رہوں اس میں ہر دم نہ ہو آنا جانا

رہوں اس میں ہر دم نہ ہو آنا جانا تیری زلفیں ہو گر مرا آشیانا محبت کا ایسا لکھیں ہم فسانہ جسے یاد رکھے یہ سارا زمانا چرا لے گیا میری نیندیں بھی آخر مجھے دیکھ کر وہ ترا مسکرانا مرے شعر مجھ کو ہیں جاں سے عزیز جسے بھی سنانا ادب سے سنانا اے توقیرؔ بچپن میں کرتے تھے کیا کیا چلو یاد ...

مزید پڑھیے

اپنے گھر پر بلا لیا اس نے

اپنے گھر پر بلا لیا اس نے دیپ سارے بجھا دیا اس نے چاندنی سی بکھر گئی ہر سو رخ سے پردہ ہٹا دیا اس نے کھو گیا اس کی مست آنکھوں میں ایسے نظریں ملا لیا اس نے رکھ کے گودی میں سر میرا اپنی دل کی دھڑکن بڑھا دیا اس نے کیوں نہ ہو ناز اپنی قسمت پر مجھ کو اپنا بنا لیا اس نے وقت رخصت نمی تھی ...

مزید پڑھیے

پلکوں کو تیری شرم سے جھکتا ہوا میں دیکھوں

پلکوں کو تیری شرم سے جھکتا ہوا میں دیکھوں دھڑکن کو اپنے دل کی رکتا ہوا میں دیکھوں پینے کا شوق مجھ کو ہرگز نہیں ہے مگر قدموں کو مے کدے پہ رکتا ہوا میں دیکھوں یارب کرم کی بارش اک بار ایسی کر دے ہر پھول کو چمن میں ہنستا ہوا میں دیکھوں جب بھی اٹھیں دعا کی خاطر یہ ہاتھ میرے آنکھوں کو ...

مزید پڑھیے

رخ سے نقاب ان کے جو ہٹتی چلی گئی

رخ سے نقاب ان کے جو ہٹتی چلی گئی چادر سی ایک نور کی بچھتی چلی گئی آئے وہ میرے گھر پہ تو جانے یہ کیا ہوا ہر ایک چیز خود سے نکھرتی چلی گئی گزرا جدھر جدھر سے مرا پیار دوستو خوشبو ادھر ہواؤں میں گھلتی چلی گئی آئی بہار اب کے چمن میں کچھ اس طرح گل کی ہر ایک شاخ لچکتی چلی گئی توقیرؔ کر ...

مزید پڑھیے

زوال حسن کو حسن نگار کیا جانے

زوال حسن کو حسن نگار کیا جانے خزاں قدم بہ قدم ہے بہار کیا جانے لکھا ہے اس کے مقدر میں اضطراب دوام قرار کیا ہے دل بے قرار کیا جانے نصیب راحت قرب دوام ہو جس کو وہ لذت خلش انتظار کیا جانے سمجھ رہے ہیں جسے سب گناہ گار یہاں اسی پہ ہو کرم کردگار کیا جانے کئے پہ اپنے ہو خود منفعل بشر ...

مزید پڑھیے

حسن ہے جان غزل اور عشق ایمان غزل

حسن ہے جان غزل اور عشق ایمان غزل کائنات شعر میں ہے خوب سامان غزل سچ کہا ہے آفتاب آمد دلیل آفتاب جز غزل دیکھا نہیں ہے اور عنوان غزل رند ہے ساغر بدست اور پارسا مست الست سایہ افگن سر پہ دونوں کے ہے دامان غزل تلخیٔ پند و نصائح بھی گوارا ہو گئی حضرت واعظ بھی ہیں ممنون احسان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 386 سے 4657