شاعری

سر پر مرے عمر بھر رہی دھوپ

سر پر مرے عمر بھر رہی دھوپ جس سمت چلا ادھر چلی دھوپ کم ایسی وطن میں بھی نہ تھی دھوپ غربت میں بلائے جاں بنی دھوپ ماں ہے نہ یہاں شجر ہے کوئی تا حد نگاہ دھوپ ہی دھوپ برسوں سے لٹک رہی ہے سر پر خنجر کی طرح کھنچی ہوئی دھوپ یادوں کے نہاں کدے میں چمکی تتلی کے پروں پہ ناچتی دھوپ اک روپ ...

مزید پڑھیے

بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوں

بہت قرینے کی زندگی تھی عجب قیامت میں آ بسا ہوں سکون کی صبح چاہتا تھا سو شام وحشت میں آ بسا ہوں میں اپنی انگشت کاٹتا تھا کہ بیچ میں نیند آ نہ جائے اگرچہ سب خواب کا سفر تھا مگر حقیقت میں آ بسا ہوں وصال فردا کی جستجو میں نشاط امروز گھٹ رہا ہے یہ کس طلب میں گھرا ہوا ہوں یہ کس اذیت میں ...

مزید پڑھیے

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں

کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں ایک نگاہ کا سناٹا ہے اک آواز کا بنجر پن میں کتنا تنہا بیٹھا ہوں قربت کے ویرانے میں آج اس پھول کی خوشبو مجھ میں پیہم شور مچاتی ہے جس نے بے حد عجلت برتی کھلنے اور مرجھانے میں ایک ملال کی گرد ...

مزید پڑھیے

وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا

وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا میں نے اک وصل کو اک ہجر کی حالت لکھا میں نے لکھا کہ صف دل کبھی خالی نہ ہوئی اور خالی جو ہوئی بھی تو ملامت لکھا یہ سفر پاؤں ہلانے کا نہیں آنکھ کا ہے میں نے اس باب میں رکنے کو مسافت لکھا لکھنے والوں نے تو ہونے کا سبب لکھا ہے میں نے ہونے کو نہ ہونے کی ...

مزید پڑھیے

جو یہاں حاضر ہے وہ مثل گماں موجود ہے

جو یہاں حاضر ہے وہ مثل گماں موجود ہے اور جو غائب ہے اس کی داستاں موجود ہے اے غبار خواہش یک عمر اپنی راہ لے اس گلی میں تجھ سے پہلے اک جہاں موجود ہے اب کسی انبوہ گم گشتہ کی جانب ہو سفر اور کوئی چپکے سے کہہ دے تو کہاں موجود ہے شاید آ پہنچا ہے عہد انتظار گفتگو چار جانب خلقت لب بستگاں ...

مزید پڑھیے

جو بات شرط وصال ٹھہری وہی ہے اب وجہ بد گمانی

جو بات شرط وصال ٹھہری وہی ہے اب وجہ بد گمانی ادھر ہے اس بات پر خموشی ادھر ہے پہلی سے بے زبانی کسی ستارے سے کیا شکایت کہ رات سب کچھ بجھا ہوا تھا فسردگی لکھ رہی تھی دل پر شکستگی کی نئی کہانی عجیب آشوب وضع داری ہمارے اعصاب پر ہے طاری لبوں پہ ترتیب خوش کلامی دلوں میں تنظیم نوحہ ...

مزید پڑھیے

بے حد غم ہیں جن میں اول عمر گزر جانے کا غم

بے حد غم ہیں جن میں اول عمر گزر جانے کا غم ہر خواہش کا دھیرے دھیرے دل سے اتر جانے کا غم ہر تفصیل میں جانے والا ذہن سوال کی زد پر ہے ہر تشریح کے پیچھے ہے انجام سے ڈر جانے کا غم جانے کب کس پر کھل جائے شہر فنا کا دروازہ جانے کب کس کو آ گھیرے اپنے مر جانے کا غم یہ جو بھیڑ ہے بے حالوں کی ...

مزید پڑھیے

دل سویا ہوا تھا مدت سے یہ کیسی بشارت جاگی ہے

دل سویا ہوا تھا مدت سے یہ کیسی بشارت جاگی ہے اس بار لہو میں خواب نہیں تعبیر کی لذت جاتی ہے اس بار نظر کے آنگن میں جو پھول کھلا خوش رنگ لگا اس بار بصارت کے دل میں نادیدہ بصیرت جاگی ہے اک بام سخن پر ہم نے بھی کچھ کہنے کی خواہش کی تھی اک عمر کے بعد ہمارے لیے اب جا کے سماعت جاگی ہے اک ...

مزید پڑھیے

دنیا کو ولولہ دل ناشاد سے ہوا

دنیا کو ولولہ دل ناشاد سے ہوا یہ طول اس خلاصۂ ایجاد سے ہوا فصل جنوں میں سینہ و ناخن کو میرے دیکھ کیا بے ستوں پہ تیشہ فرہاد سے ہوا رحمت نے بڑھ کے سرد جہنم کو کر دیا کیسا قصور یہ دل ناشاد سے ہوا خوش ہوں میں وقت نزع خوشا لذت فراغ جو کچھ ہوا وہ آپ کے ارشاد سے ہوا یہ ہے حقیقت عدم و ...

مزید پڑھیے

کر چکے برباد دل کو فکر کیا انجام کی

کر چکے برباد دل کو فکر کیا انجام کی اب ہمیں دے دو یہ مٹی ہے ہمارے کام کی ڈوب دے دے بادۂ گل رنگ میں زاہد اگر دیکھیے رنگینیاں پھر جامۂ احرام کی عکس ابرو دیکھتے ہیں بادۂ سرجوش میں عید ہے ساقی پرستوں میں ہلال جام کی ابتدائے عشق ہے اور بجھ رہا ہے دل مرا ہو چلی دھیمی ابھی سے لو چراغ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3812 سے 4657