شاعری

شام آئی تو کوئی خوش بدنی یاد آئی

شام آئی تو کوئی خوش بدنی یاد آئی مجھے اک شخص کی وعدہ شکنی یاد آئی مجھے یاد آیا کہ اک دور تھا سرگوشی کا آج اسی دور کی اک کم سخنی یاد آئی مسند نغمہ سے اک رنگ تبسم ابھرا کھلکھلاتی ہوئی غنچہ دہنی یاد آئی لب جو یاد آئے تو بوسوں کی خلش جاگ اٹھی پھول مہکے تو مجھے بے چمنی یاد آئی پھر ...

مزید پڑھیے

اپنے دکھ درد کا افسانہ بنا لایا ہوں

اپنے دکھ درد کا افسانہ بنا لایا ہوں ایک اک زخم کو چہرے پہ سجا لایا ہوں دیکھ چہرے کی عبارت کو کھرچنے کے لیے اپنے ناخن ذرا کچھ اور بڑھا لایا ہوں بے وفا لوٹ کے آ دیکھ مرا جذبۂ عشق آنسوؤں سے تری تصویر بنا لایا ہوں میں نے اک شہر ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن اس شہر کو آنکھوں میں بسا ...

مزید پڑھیے

سکوت اس کا ہے صبر جمیل کی صورت

سکوت اس کا ہے صبر جمیل کی صورت میں جس کے لب پہ تھا سحر طویل کی صورت کسی کو میری ضرورت نہیں سو بے مصرف گڑا ہوا ہوں کسی گھر میں کیل کی صورت میں رہتا خیمۂ جاں اب کہاں یہ نسب کروں چٹخ رہا ہے بدن خشک جھیل کی صورت اتر گیا ہے پیمبر کوئی مرے اندر ٹھہر گیا ہوں میں دریائے نیل کی صورت

مزید پڑھیے

خاک اڑاتے ہوئے یہ معرکہ سر کرنا ہے

خاک اڑاتے ہوئے یہ معرکہ سر کرنا ہے اک نہ اک دن ہمیں اس دشت کو گھر کرنا ہے یہ جو دیوار اندھیروں نے اٹھا رکھی ہے میرا مقصد اسی دیوار میں در کرنا ہے اس لیے سینچتا رہتا ہوں میں اشکوں سے اسے غم کے پودے کو کسی روز شجر کرنا ہے تیری یادوں کا سہارا بھی نہیں ہے منظور عمر بھر ہم کو اکیلے ہی ...

مزید پڑھیے

زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے

زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے جیسے کوئی جنگ ہاری جا رہی ہے جس جگہ پہلے کے زخموں کے نشاں میں پھر وہیں پر چوٹ ماری جا رہی ہے وقت رخصت آب دیدہ آپ کیوں ہیں جسم سے تو جاں ہماری جا رہی ہے بول کر تعریف میں کچھ لفظ اس کی شخصیت اپنی نکھاری جا رہی ہے دھوپ کے دستانے ہاتھوں میں پہن کر برف ...

مزید پڑھیے

دل میں حسرت کوئی بچی ہی نہیں

دل میں حسرت کوئی بچی ہی نہیں آگ ایسی لگی بجھی ہی نہیں اس نے جب خود کو بے نقاب کیا پھر کسی کی نظر اٹھی ہی نہیں جیسا اس بار کھل کے روئے ہم ایسی بارش کبھی ہوئی ہی نہیں زندگی کو گلے لگاتے کیا زندگی عمر بھر ملی ہی نہیں منتظر کب سے چاند چھت پر ہے کوئی کھڑکی ابھی کھلی ہی نہیں میں جسے ...

مزید پڑھیے

دل کشتۂ نظر ہے محروم گفتگو ہوں

دل کشتۂ نظر ہے محروم گفتگو ہوں سمجھو مرے اشارے میں سرمہ در گلو ہوں مدت سے کھو گیا ہوں سرگرم جستجو ہوں اپنا ہی مدعا ہوں اپنی ہی آرزو ہوں صورت سوال ہوں میں پوچھو نہ میرا مطلب میں اپنے مدعا کی تصویر ہو بہ ہو ہوں ہے دل میں جوش حسرت رکتے نہیں ہیں آنسو رستی ہوئی صراحی ٹوٹا ہوا سبو ...

مزید پڑھیے

عشق جو معراج کا اک زینہ ہے

عشق جو معراج کا اک زینہ ہے یہ ہمارا مذہب پارینہ ہے اب تو خود بینی عبادت ہو گئی رات دن پیش نظر آئینہ ہے واعظ اب بھی جرم ہے کیا مے کشی چاندنی ہے اور شب آدینہ ہے جب سے زلفوں کا پڑا ہے اس میں عکس دل مرا ٹوٹا ہوا آئینہ ہے سر بہ مہر داغ کرتے ہیں عزیزؔ دل ہمارا عشق کا گنجینہ ہے

مزید پڑھیے

مآل دوستی کہیے حدیث مہوشاں کہیے

مآل دوستی کہیے حدیث مہوشاں کہیے ملے دل سے ذرا فرصت تو دل کی داستاں کہیے مگر اس خامشی سے اہل دل کا کچھ بھرم تو ہے جو کچھ کہیے تو ساری عمر کی محرومیاں کہیے غم دل اولیں دور تمنا کی امانت ہے نوید عیش اگر سنیے نصیب دشمناں کہیے جو رکھ لے خستگی کی شرم ایسی برق رحمت ہے گرے جو آشیاں سے ...

مزید پڑھیے

ہلاکت دل ناشاد رائیگاں بھی نہیں

ہلاکت دل ناشاد رائیگاں بھی نہیں نگاہ دوست میں اب کوئی امتحاں بھی نہیں تلاش دیر و حرم کا مآل کیا کہیے سکوں یہاں بھی نہیں ہے سکوں وہاں بھی نہیں تری نگاہ نے کھولا معاملہ دل کا نظر زباں نہیں رکھتی پہ بے زباں بھی نہیں اسی کو سارے زمانے سے ہم چھپائے رہے وہ ایک بات زمانے سے جو نہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3811 سے 4657