شاعری

دشمن سے بھی ہاتھ ملایا جا سکتا ہے

دشمن سے بھی ہاتھ ملایا جا سکتا ہے درد کا بھی تو لطف اٹھایا جا سکتا ہے پھر سے ایک محبت بھی کی جا سکتی ہے تیرے غم سے ہاتھ چھڑایا جا سکتا ہے سانجھا کوئی بیچ میں پیڑ لگا لیتے ہیں جس کا دونوں گھر میں سایہ جا سکتا ہے ہمسائے جو اپنے گھر میں آج نہیں ہیں دیواروں کو درد سنایا جا سکتا ...

مزید پڑھیے

زمین چشم میں بوئے تھے میں نے خواب کے بیج

زمین چشم میں بوئے تھے میں نے خواب کے بیج مگر اگے تو کھلا وہ تھے اضطراب کے بیج مجھے ہی کاٹ کے مٹی میں گاڑنا ہوگا کہ کون دے گا مری جاں تمہیں گلاب کے بیج زمیں پہ ایسے چمکتے ہیں ریت کے ذرے کسی نے جیسے بکھیرے ہوں آفتاب کے بیج وہ میری روح میں اترا تو کب گمان بھی تھا دبا رہا ہے مری روح ...

مزید پڑھیے

رات کی رات پڑاؤ کا میلہ کوچ کی دھول سویرے

رات کی رات پڑاؤ کا میلہ کوچ کی دھول سویرے محل مکان کٹیا چھپر سب بنجاروں کے ڈیرے سورج ڈھلتے ہی گلیوں میں فتنے جاگ اٹھتے ہیں رین نہیں جب اپنے بس میں کیسے رین بسیرے وہ تو ہم سے سادہ دلوں کا حشر یہی ہونا تھا ورنہ تم سے ترک وفا کے حیلے تھے بہتیرے جان بچے گی تو پہنچیں گے داد رسوں کے ...

مزید پڑھیے

جتنے تھے رنگ حسن بیاں کے بگڑ گئے

جتنے تھے رنگ حسن بیاں کے بگڑ گئے لفظوں کے باغ شہر کی صورت اجڑ گئے اس آندھیوں کی فصل میں ہے کس بنا پہ ناز تم کیا ہو آسمانوں کے خیمے اکھڑ گئے یہ معجزہ حیات کا معمول بن گیا اتنی دفعہ چراغ ہواؤں سے لڑ گئے قطرے لہو کے جن کو سمجھتے ہو بے نمو اکثر زمین شور میں بھی جڑ پکڑ گئے گردن ...

مزید پڑھیے

تمیز اپنے میں غیر میں کیا تمہیں جو اپنا نہ کر سکے ہم

تمیز اپنے میں غیر میں کیا تمہیں جو اپنا نہ کر سکے ہم ہر ایک محفل ہوئی گوارا تمہاری محفل سے کیا اٹھے ہم سحر پشیمان آرزو ہیں چراغ شب تھے سو جل بجھے ہم خراج اشکوں کا خون دل سے جو ہم کو لینا تھا لے چکے ہم نہ شمع کانپی نہ گیت ڈوبے اٹھے جو ہم ان کی انجمن سے چلو بس اچھا ہوا کہ ایسے کہاں ...

مزید پڑھیے

دل خستگاں میں درد کا آذر کوئی تو آئے

دل خستگاں میں درد کا آذر کوئی تو آئے پتھر سے میرے خواب کا پیکر کوئی تو آئے دریا بھی ہو تو کیسے ڈبو دیں زمین کو پلکوں کے پار غم کا سمندر کوئی تو آئے چوکھٹ سے حال پوچھا تو بازار سے سنا اک دن غریب خانے کے اندر کوئی تو آئے جو زخم دوستوں نے دیے ہیں وہ چھپ تو جائیں پر دشمنوں کی سمت سے ...

مزید پڑھیے

والہانہ مرے دل میں مری جاں میں آ جا

والہانہ مرے دل میں مری جاں میں آ جا میرے ایماں میں مرے وہم و گماں میں آ جا موند ان آنکھوں کو صاحب نظراں میں آ جا حد نظارگیٔ کون و مکاں میں آ جا آیت رحمت یزداں کی طرح دل میں اتر ایک اک لفظ میں ایک ایک بیاں میں آ جا تجھے سینے سے لگا لوں تجھے دل میں رکھ لوں درد کی چھاؤں میں زخموں کی ...

مزید پڑھیے

پس‌ ترک عشق بھی عمر بھر طرف مژہ پہ تری رہی

پس‌ ترک عشق بھی عمر بھر طرف مژہ پہ تری رہی مری کشت جاں بھی عجیب ہے کہ خزاں کے ساتھ ہری رہی کئی بار دور کساد میں گرے مہر و ماہ کے دام بھی مگر ایک قیمت جنس دل جو کھری رہی تو کھری رہی نہ وہ رسم پردگیٔ وفا نہ چھپا چھپا سا پیام ہے نہ شمیم و گل سے کلام ہے نہ صبا کی نامہ بری رہی میں تہی ...

مزید پڑھیے

مٹا کے انجمن آرزو صدا دی ہے

مٹا کے انجمن آرزو صدا دی ہے چلے بھی آؤ کہ ہر روشنی بجھا دی ہے گر اتفاق سے پایا ہے قطرۂ شبنم سمندروں کو مری پیاس نے دعا دی ہے ہجوم راہ رواں روند کر گزرتا ہے بساط دل کی کہاں ہم نے یہ بچھا دی ہے دلوں کا خوں کرو سالم رکھو گریباں کو جنوں کی رسم زمانہ ہوا اٹھا دی ہے نہ مڑ کے دیکھے گی ...

مزید پڑھیے

لمحوں نے یوں سمیٹ لیا فاصلہ بہت

لمحوں نے یوں سمیٹ لیا فاصلہ بہت میں نے پڑھا تو کچھ نہ تھا لیکن پڑھا بہت کتنے جنوں نواز بچھڑ کے چلے گئے جوش جنوں کے ساتھ نہ تھا ولولہ بہت ڈوبا سفینہ جس میں مسافر کوئی نہ تھا لیکن بھرے ہوئے تھے وہاں نا خدا بہت سو دائروں میں بٹ کے نمایاں نہ ہو سکے سوچو اگر تو ہوگا بس اک دائرہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3762 سے 4657