شاعری

اگر کچھ موڑ رستے میں نہ آتے

اگر کچھ موڑ رستے میں نہ آتے تو ممکن تھا تجھے ہم بھول جاتے متاع ہوش کی بازی لگا کر بساط عشق پہ ہم ہار جاتے کہاں ماضی کہاں امروز و فردا کہاں سے داستاں اپنی سناتے غرور ضبط سے پہلو بچا کر تمہیں کو دوستو ہم آزماتے اگر ہوتا نہ کچھ خود پر بھروسہ تمہیں اے دردؔ ہم محرم بناتے

مزید پڑھیے

اب تو سوچ لیا ہے یارو دل کا خوں ہو جانے دوں

اب تو سوچ لیا ہے یارو دل کا خوں ہو جانے دوں جن لوگوں نے درد دیا ہے میں ان کو افسانے دوں اور ذرا سی دیر میں تھک کر سو جائیں گے تارے بھی کب تک گھائل ہونٹوں کو میں گیت برہ کے گانے دوں اپنے جنوں کا سینہ چھلنی ہونے دوں میں کب تک اور اتنے سارے فرزانے ہیں کس کس کو سمجھانے دوں کب تک وہ ...

مزید پڑھیے

تم نے ہمارا ساتھ دیا تو خود کو ہم پا جائیں گے

تم نے ہمارا ساتھ دیا تو خود کو ہم پا جائیں گے ورنہ اپنی ذات سے ہمدم پھر دھوکا کھا جائیں گے کڑی دھوپ میں ہم لے آئے اپنے کومل گیتوں کو ان کے پھول سے چہرے دیکھیں دھوپ میں کمھلا جائیں گے آنکھیں موند کے چلنے والے دھن کے پکے نکلے تو چلتے چلتے اک دن آخر منزل کو پا جائیں گے کون ہواؤں کے ...

مزید پڑھیے

اندروں نیند کا اک خالی مکاں ہوتا تھا

اندروں نیند کا اک خالی مکاں ہوتا تھا میری آنکھوں میں ترا خواب نہاں ہوتا تھا روز جاتے تھے بہت دور تلک ہم دونوں پر یہ معلوم نہیں ہے میں کہاں ہوتا تھا دشت کے پار بہت دور تھی اک آبادی اور اس سمت بہت گہرا دھواں ہوتا تھا خوف کے بعد بھی وحشت ہی نظر آتی تھی وحشتوں سے بھی پرے کوئی جہاں ...

مزید پڑھیے

ہیں کس لیے اداس کوئی پوچھتا نہیں

ہیں کس لیے اداس کوئی پوچھتا نہیں رستہ خود اپنے گھر کا ہمیں سوجھتا نہیں نقش وفا کسی کا کوئی ڈھونڈھتا نہیں اہل وفا کا پھر بھی بھرم ٹوٹتا نہیں اہل ہنر کی بات تھی اہل نظر کے ساتھ اب تو کوئی بھی ان کی طرف دیکھتا نہیں ہم سے ہوئی خطا تو برا مانتے ہو کیوں ہم بھی تو آدمی ہیں کوئی دیوتا ...

مزید پڑھیے

جانے کتنا جیون پیچھے چھوٹ گیا انجانے میں

جانے کتنا جیون پیچھے چھوٹ گیا انجانے میں اب تو کچھ قطرے ہیں باقی سانسوں کے پیمانے میں اپنی پیاس لیے ہونٹوں پر لوٹ آئے میخانے میں کتنے تشنہ لب بیٹھے تھے پہلے ہی میخانے میں کیا کیا روپ لیے رشتوں نے کیسے کیسے رنگ بھرے اب تو فرق نہیں کچھ لگتا اپنے اور بیگانے میں جذبوں کی مسمار ...

مزید پڑھیے

ہم نے اپنے آپ سے جب بات کی

ہم نے اپنے آپ سے جب بات کی آ گئی رستے میں اک دیوار سی اپنے دروازے پہ دستک دے کوئی ایک سناٹے پہ دنیا کھو گئی کون سے نقطے پہ لا کر توڑتے عمر رفتہ تیری یادوں کی کڑی دردؔ اپنا ہم تعارف دیں تو کیا ہم تو اپنے آپ سے ہیں اجنبی

مزید پڑھیے

بہت اکتا گیا ہوں اپنے جی سے

بہت اکتا گیا ہوں اپنے جی سے مرا دل بھر گیا ہے ہر کسی سے بہ زعم خود اجل سے میں لڑا ہوں بہ زعم خود میں ہارا زندگی سے نہ جانے کس گلی میں کھو گیا ہوں میں کٹ کر آپ اپنی زندگی سے مرا ماضی مری یادیں کہاں ہیں یہ پوچھوں اب تو کیا پوچھوں کسی سے نہ جانے کتنے عنواں رشک کرتے جو اپنی داستاں ...

مزید پڑھیے

ایک تصویر جو تشکیل نہیں ہو پائی

ایک تصویر جو تشکیل نہیں ہو پائی کینوس پر کبھی تکمیل نہیں ہو پائی یہ جو اک بھیڑ ہے یہ بھیڑ کی بڑی مدت سے میری تنہائی میں تحلیل نہیں ہو پائی تیرگی نے کوئی تعویذ کیا ہے شاید اس لیے روشنی ترسیل نہیں ہو پائی میں نے ہر لفظ نبھایا تھا بڑی شدت سے پر مری شاعری انجیل نہیں ہو پائی سارا ...

مزید پڑھیے

مہتاب فضا کے آئنے میں

مہتاب فضا کے آئنے میں دیکھا تھا خدا کے آئنے میں تم خواب سے دو قدم نکل کر چھپ جاؤ دعا کے آئنے میں گہرائیاں ناپتا رہوں گا دیکھوں گا خلا کے آئنے میں اس پیڑ کا ڈر بتا رہا ہے طوفان‌ ہوا کے آئنے میں چہرا ہے مگر طلسم جیسا چھپ جائے ڈرا کے آئنے میں چل خواب سمیت ڈوب جائیں پوشاک ہٹا کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 344 سے 4657