شاعری

زمانے پھر نئے سانچے میں ڈھلنے والا ہے

زمانے پھر نئے سانچے میں ڈھلنے والا ہے ذرا ٹھہر کہ نتیجہ نکلنے والا ہے ابھی ہجوم عزیزاں ہے زیر تخت مراد مگر زمانہ چلن تو بدلنے والا ہے ہوئی ہے ناقۂ لیلیٰ کو سارباں کی تلاش جلوس شہر کی گلیوں میں چلنے والا ہے ضمیر اپنی تمنا کو پھر اگل دے گا سمندروں سے یہ سونا اچھلنے والا ہے نیا ...

مزید پڑھیے

کوئی نہ چاہنے والا تھا حسن رسوا کا

کوئی نہ چاہنے والا تھا حسن رسوا کا دیار غم میں رہا دل کو پاس دنیا کا فریب صبح بہاراں بھی ہے قبول ہمیں کوئی نقیب تو آیا پیام فردا کا ہم آج راہ تمنا میں جی کو ہار آئے نہ درد و غم کا بھروسا رہا نہ دنیا کا تری وفا نے دیا درس آگہی ہم کو ترے جنوں نے کیا کام چشم بینا کا الجھ کے رہ گئی ہر ...

مزید پڑھیے

مژگاں پہ آج یاس کے موتی بکھر گئے

مژگاں پہ آج یاس کے موتی بکھر گئے ظلمت بڑھی جو رات کی تارے نکھر گئے کیسی ضیا ہے یہ جو منور ہیں بام و در سوئے فلک یہ کس کی فغاں کے شرر گئے شکوے ہیں آسماں سے زمیں سے شکایتیں الزام ان کے جور کے کس کس کے سر گئے محفل میں آئی کس کی صدائے شکست دل ساقی کے ہاتھ رک گئے ساغر ٹھہر گئے سینہ ...

مزید پڑھیے

ستم ہے دل کے دھڑکنے کو بھی قرار کہیں

ستم ہے دل کے دھڑکنے کو بھی قرار کہیں تمہارے جبر کو اپنا ہی اختیار کہیں سکوں وہی ہے جسے چارہ گر سکوں کہہ دیں کہاں یہ اذن کہ کچھ تیرے بے قرار کہیں چھپائیں داغ جگر پھول جتنا ممکن ہو کہیں نہ اہل نظر ان کو دل فگار کہیں فضا ہے ان کی چمن ان کے آشیاں ان کے خزاں کے زخم کو جو غنچۂ بہار ...

مزید پڑھیے

روشن ہوں دل کے داغ تو لب پر فغاں کہاں

روشن ہوں دل کے داغ تو لب پر فغاں کہاں اے ہم صفیر آتش گل میں دھواں کہاں ہے نام آشیاں کا مگر آشیاں کہاں نکھرے ہوئے ہیں خاک میں تنکے کہاں کہاں اٹھ اٹھ کے پوچھتا ہی رہا راہ کا غبار کہتا مگر یہ کون لٹا کارواں کہاں باقی نہیں ہیں جیب و گریباں کے تار بھی لکھیں گے اے بہار تری داستاں ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ خون شہیداں کے رنگ سے آباد

ہمیشہ خون شہیداں کے رنگ سے آباد یہ کربلائے معلیٰ یہ بصرہ و بغداد جہاں کو پھر سے نوید بہار دیتے ہیں ابو غریب کی جیلوں کے کچھ ستم ایجاد حیات و مرگ کے سب مرحلے تمام ہوئے کفن لپیٹ کے نکلے ہیں ہرچہ باد آباد پرانی بستیاں سب خاک و خوں میں غلطاں ہیں ''کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں ...

مزید پڑھیے

فریب راہ محبت کا آسرا بھی نہیں

فریب راہ محبت کا آسرا بھی نہیں میں جا رہا ہوں مگر کوئی راستا بھی نہیں ہر ایک کہتا ہے راہ وفا ہے نا ہموار مگر خلوص سے اک آدمی چلا بھی نہیں کسی کے ایک اشارے پہ دو جہاں رقصاں مرے لیے مری زنجیر کی صدا بھی نہیں عجیب طرفگیٔ شوق ہے کہ سوئے عدم گئی ہے خلق مگر کوئی نقش پا بھی نہیں یہ ...

مزید پڑھیے

ہر ایک گام پہ سجدہ یہاں روا ہوگا

ہر ایک گام پہ سجدہ یہاں روا ہوگا خودی کا دور ہے ہر شخص اب خدا ہوگا بنام فصل بہاراں خزاں کی پوجا ہے یہی مذاق گلستاں رہا تو کیا ہوگا دھواں سا اٹھنے لگا دل سے اہل محفل میں نیا چراغ کوئی بزم میں جلا ہوگا تمہارے شہر میں آئے ہیں اہل غربت پھر اس آس پر کہ کوئی درد آشنا ہوگا جرس ہے ان کا ...

مزید پڑھیے

کئی بھیانک کالی راتوں کے اندھیارے میں (ردیف .. ر)

کئی بھیانک کالی راتوں کے اندھیارے میں تنہائی میں جلتی بتی گھر میں ہوئی اسیر کوئی اپنا بن دروازے دستک دے اک بار خاموشی کی پیٹھ پہ کھینچے سیدھی ایک لکیر سینے میں ٹوٹی ہر خواہش کی نازک ننھی نوک کجلائی آنکھوں کے آگے خوابوں کی تعبیر تن کا جوگی من کا سائل مانگے میٹھی نیند روٹی ...

مزید پڑھیے

تھکاوٹوں سے بیٹھ کے سفر اتاریئے کہیں

تھکاوٹوں سے بیٹھ کے سفر اتاریئے کہیں بلا سے گرم ریت ہو اگر نہ مل سکے زمیں کہو تو اس لباس میں تمہارے ساتھ میں چلوں غبار اوڑھ لوں گا میں بدن پہ آج کچھ نہیں بطوں کا غول اب یہاں اتر کے پا سکے گا کیا کھڑے ہو تم جہاں پہ اب وہ نرم جھیل تھی نہیں کھلے ہوئے مکان میں ادا بھی تیری خوب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 335 سے 4657