شاعری

واں جو کچھ کعبے میں اسرار ہے اللہ اللہ

واں جو کچھ کعبے میں اسرار ہے اللہ اللہ سو مرے بت میں نمودار ہے اللہ اللہ دیر میں کعبے میں میخانے میں اور مسجد میں جلوہ گر سب میں مرا یار ہے اللہ اللہ اس کے ہر نقش قدم پر کریں عاشق سجدہ بت کافر کی وہ رفتار ہے اللہ اللہ حسن کے اس کی کیا طور تجلی دل کو ہائے کیا جلوۂ دیدار ہے اللہ ...

مزید پڑھیے

تروار کھینچ ہم کو دکھاتے ہو جب نہ تب

تروار کھینچ ہم کو دکھاتے ہو جب نہ تب کیا مر رہے جواں کو ستاتے ہو جب نہ تب تقصیر ہم سے کون سی ایسی ہوئی وقوع منہ پر جو ہاتھ میرے دھراتے ہو جب نہ تب از بس مزاج ہم سے تمہارا کشیدہ ہے آزردہ بات میں ہوئے جاتے ہو جب نہ تب اب تو رکھا ہے کاٹ ہمارا یہ آپ نے غیروں سے مل پتنگ اڑاتے ہو جب نہ ...

مزید پڑھیے

بلبل بجائے اپنے تجھے ہم نوا سے بحث

بلبل بجائے اپنے تجھے ہم نوا سے بحث واشد میں گل کی محض غلط ہے صبا سے بحث آئینے کو نہ چاہئے عاشق کے دل کے ساتھ برعکس اپنی شکل کے روئے صفا سے بحث اب تو غرور حسن ہے ایسا بتاں تمہیں مطلق محل خوف نہیں ہے خدا سے بحث مبحث سے اس مقام کے خارج ہے دخل غیر جب آشنا کو آن پڑے آشنا سے بحث بلبل ...

مزید پڑھیے

اک ادھوری سی شام باقی ہے

اک ادھوری سی شام باقی ہے لمحوں سے انتقام باقی ہے سارے دشمن کو لکھ لیا اس نے صرف میرا ہی نام باقی ہے جھومتے پھر رہے ہیں بس وہ ہی جن کے ہاتھوں میں جام باقی ہے کوئی صورت نہیں مگر اس کا کورے کاغذ پہ نام باقی ہے تم کہو گے تو وقت لے لوں ذرا صبح باقی ہے شام باقی ہے

مزید پڑھیے

مجھ کو دنیا سے بے خبر کر دے

مجھ کو دنیا سے بے خبر کر دے دیکھ لے مجھ کو معتبر کر دے صبح کو دے دے شام کی رونق شام کو درد کی سحر کر دے دن چڑھے لے لے جاں بھلے میری جسم روشن تو رات بھر کر دے اس کی رگ میں بہے لہو میرا عشق انجام ہم سفر کر دے

مزید پڑھیے

پہچانے تو ہر دم وہی ہر آن وہی ہے

پہچانے تو ہر دم وہی ہر آن وہی ہے جاناں وہی اے جان وہی جان وہی ہے آسائش تن راحت جاں تازہ کئے روح واللہ مع الآن کما کان وہی ہے کعبہ میں وہی خود ہے وہی دیر میں ہے آپ ہندو کہو یا اس کو مسلمان وہی ہے بخشے ہے وہی خاک کو دین و دل و ایماں غارت گر دین و دل و ایمان وہی ہے پردہ ہے تعین کا ...

مزید پڑھیے

ساتھ غیروں کے ہے سدا غٹ پٹ

ساتھ غیروں کے ہے سدا غٹ پٹ اک ہمیں سے رکھے ہے دل میں کپٹ چنگل‌ باز ہیں تری مژگاں طائر دل کو پل میں لے ہے جھپٹ تیری اس وضع‌ دل ربائی سے گھر کے گھر ہو گئے ہیں چوڑ چپٹ وہ بھی دن پھر دکھائے گا اللہ رات کو سوئے تو گلے سے لپٹ پاس جب غیر کو بٹھاتا ہے جائے ہے دل ترے ملاپ سے ہٹ دیتے ہو ...

مزید پڑھیے

کیا باغ جہاں میں نام ان کا سرو کہہ کہہ کر

کیا باغ جہاں میں نام ان کا سرو کہہ کہہ کر کئی آہیں جو نکلی تھیں مرے سینے سے رہ رہ کر سحاب‌ و برق ہیں یا شیشہ و ساغر ہیں کیا ہم تم کہ ہم جس وقت روویں تم ہنسو اس وقت قہہ قہہ کر ہمارا گریہ دیکھے چشم کم سے کیوں نہ دریا کو سمندر سے کئی جاتے ہیں یاں اک پل میں بہہ بہہ کر ہوئے جس گل کے ہم ...

مزید پڑھیے

اے دل آتا ہے چمن میں وہ شرابی تو پہنچ

اے دل آتا ہے چمن میں وہ شرابی تو پہنچ لے کے پیالہ گل کا غنچہ کی گلابی تو پہنچ بھر کے ساغر کیجیے خالی غم دوراں سے دل اب نہ کر تاخیر اے ساقی شتابی تو پہنچ پہنے قاصد جب تلک یک بار شرح اشتیاق لے کر اے بیتاب دل کی اضطرابی تو پہنچ خواہش دل ہے کہ کیجے سیر اقلیم جنوں ٹک مدد کو اس کی اے ...

مزید پڑھیے

آج جس پر یہ پردہ داری ہے

آج جس پر یہ پردہ داری ہے کل اسی کی تو دعوے داری ہے آئینہ مجھ سے کہہ رہا ہے یہی میرے چہرے پہ بے قراری ہے آج وعدہ وہ پھر نبھائے گا وادی و گل پہ کیا خماری ہے تیری آنکھیں یہ صاف کہتی ہے رات کتنی حسیں گزاری ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 319 سے 4657