شاعری

شب نہ یہ سردی سے یخ بستہ زمیں ہر طرف ہے

شب نہ یہ سردی سے یخ بستہ زمیں ہر طرف ہے مہ پکارے ہے فلک پروردگی تو برف ہے شاہ گل کا حکم سیاروں کے یہ ہے باغ میں جو نہ پی کر آئے مے نوکر نہیں بر طرف ہے سرخ ہے رومال شالی اس کے تحت الجنگ تک مصحف رخسار پر یا جدول شنگرف ہے نو خطوں کے دل میں جز مشق ستم طرز وفا یکسر مو ہو سکے کرسی نشیں ...

مزید پڑھیے

شورش سے چشم تر کی زبس غرق آب ہوں

شورش سے چشم تر کی زبس غرق آب ہوں دن رات بحر غم میں برنگ حباب ہوں یہ دور اب تو ہے کہ رقیبوں کی بزم میں تو مست ہو شراب سے اور میں کباب ہوں مجھ خوں گرفتہ پر مرے قاتل کمر نہ باندھ میں آپ اپنے قتل کا خواہاں شتاب ہوں ہر صبح و شام باغ میں صحرا میں جوں نسیم اس گل کی جستجو کی ہوس پر خراب ...

مزید پڑھیے

اے ہمدماں بھلاؤ نہ تم یاد رفتگاں

اے ہمدماں بھلاؤ نہ تم یاد رفتگاں واماندگاں کو ہے یہی ارشاد رفتگاں جو غنچہ ناشگفتہ ہی جھڑ جائے شاخ سے ہے اس چمن میں وہ دل ناشاد‌ رفتگاں چشم‌ و دل و جگر کے لئے اشک درد و داغ ہم پاس ہے یہ تحفہ‌ٔ امداد رفتگاں اس کارواں سرا میں یہ بانگ جرس نہیں ہے یہ صدائے نالہ و فریاد ...

مزید پڑھیے

ہو جس قدر کہ تجھ سے اے پر جفا جفا کر

ہو جس قدر کہ تجھ سے اے پر جفا جفا کر کہتا ہوں میں بھی تجھ سے اے با وفا وفا کر بیت الصنم میں جا کر ہمدم بہ رب کعبہ لایا ہوں اس صنم کو گھر تک خدا خدا کر گوہر جو اشک کے ہیں کچھ چشم کے صدف میں غلطاں نہ خاک میں کر آنسو بہا بہا کر مرتے ہیں ہم تو لیکن سن تیری آمد آمد امید نے رکھا ہے اب تک ...

مزید پڑھیے

مرے دل میں ہجر کے باب ہیں تجھے اب تلک وہی ناز ہے

مرے دل میں ہجر کے باب ہیں تجھے اب تلک وہی ناز ہے جو یہ جی ہی لینے پہ ہے نظر تو قبول ہو یہ نماز ہے یہی کھوج لینے کے واسطے پھروں ہوں میں ساتھ نسیم کے کہ چمن میں کوئی ہے گل کہیں تری بو سے محرم راز ہے کوئی اور قصہ شروع کر جو تمام کہہ سکے ہم نفس کہ فسانہ زلف سیاہ کا شب ہجر سے بھی دراز ...

مزید پڑھیے

معرکے میں عشق کے سر سے گزرنے سے نہ ڈر

معرکے میں عشق کے سر سے گزرنے سے نہ ڈر گر اٹھاتا ہے تو یہ جوکھوں تو مرنے سے نہ ڈر جان من تیرا گریباں گیر ہو سکتا ہے کون عاشقوں کے خوں میں تو دامن کے بھرنے سے نہ ڈر زاہدا تو صحبت رنداں میں آیا ہے تو سن ترک گالی کا نہ کر پگڑی اترنے سے نہ ڈر گر سبک باری کی خواہش ہے تو اس قاتل سے ...

مزید پڑھیے

لالہ رو تم غیر کے پالے پڑے

لالہ رو تم غیر کے پالے پڑے دیکھنے کے ہیں ہمیں لالے پڑے جب نظر سرمے کے دنبالے پڑے دل کے پیچھے تیر اور بھالے پڑے اس برس فرقت میں تیرے اشک کے چشم سے بہتے ہیں پرنالے پڑے ہم ہوائے وصل میں یاں تک پھرے جو ہوس کے پاؤں میں چھالے پڑے عارض اس کے پر نہیں زلف سیاہ گنج پر سوتے ہیں دو کالے ...

مزید پڑھیے

جو مریض عشق کے ہیں ان کو شفا ہے کہ نہیں

جو مریض عشق کے ہیں ان کو شفا ہے کہ نہیں اے طبیب ان کی بھی دنیا میں دوا ہے کہ نہیں خوبرو جتنے ہیں عالم میں جفاکار ہیں سب یاد کیا جانیں انہیں طور وفا ہے کہ نہیں تنگ اتنا ہے زمانہ کہ چمن میں گل تک صبح دم چاک گریباں ہی صبا ہے کہ نہیں مری بے تابی کے احوال کو شب کے اس سے نامہ بر تو نے ...

مزید پڑھیے

دلا یہ مے کدۂ عشق ہے شراب تو پی

دلا یہ مے کدۂ عشق ہے شراب تو پی شراب اگر نہیں خون‌ دل خراب تو پی بہے جو دھار دم تیغ سے نہ جا پیاسا سبیل نذر شہیداں یہی ہے آب تو پی برنگ شبنم گل داغ عشق سے دل پر جو گل نہ کھائے تو بے خود نہ ہو گلاب تو پی نہ آفتاب قیامت سے ڈر مئے گل رنگ کرے چمن میں اگر سیر ماہتاب تو پی ولا یہ جام مئے ...

مزید پڑھیے

وہیں جی اٹھتے ہیں مردے یہ کیا ٹھوکر سے چھونا ہے

وہیں جی اٹھتے ہیں مردے یہ کیا ٹھوکر سے چھونا ہے وہ رفتار اور وہ قامت قیامت کا نمونہ ہے گھٹا آتا ہے دم یہ عشق نے آتش ہے سلگائی دل سوزاں سے یا قسمت دھواں آنکھوں کا دونا ہے ارے او خانہ آباد اتنی خوں ریزی یہ قتالی کہ ایک عاشق نہیں کوچہ ترا ویران سونا ہے کباب دل اگرچہ سوختہ ہے چکھ تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 318 سے 4657