اس بت نے گلابی جو اٹھا منہ سے لگائی
اس بت نے گلابی جو اٹھا منہ سے لگائی شیشے میں عجب آن سے جھمکے تھی خدائی عالم میں نشے کے شب مہتاب نے تیرے خورشید سے مکھڑے نے طلسمات دکھائی گو غیر سے ملنے کی قسم کھاتے ہو پیارے چھپتی نہیں وہ بات جو ہو دل سے بنائی واللہ ہمیں عشق کی سب بھول ہوئی چال کافر تری رفتار نے پھر یاد ...