شاعری

اس بت نے گلابی جو اٹھا منہ سے لگائی

اس بت نے گلابی جو اٹھا منہ سے لگائی شیشے میں عجب آن سے جھمکے تھی خدائی عالم میں نشے کے شب مہتاب نے تیرے خورشید سے مکھڑے نے طلسمات دکھائی گو غیر سے ملنے کی قسم کھاتے ہو پیارے چھپتی نہیں وہ بات جو ہو دل سے بنائی واللہ ہمیں عشق کی سب بھول ہوئی چال کافر تری رفتار نے پھر یاد ...

مزید پڑھیے

ادھر وہ بے مروت بے وفا بے رحم قاتل ہے

ادھر وہ بے مروت بے وفا بے رحم قاتل ہے ادھر بے صبر و بے تسکین و بے طاقت مرا دل ہے ادھر صیاد چشم و دام زلف و ناوک مژگاں ادھر پہلو میں دل اک صید لاغر نیم بسمل ہے ادھر اس کو تو میرے نام سے بھی ننگ ہے ہر دم ادھر سینے میں دل مشتاق ہے عاشق ہے مائل ہے ادھر وہ خود پرست عیار ہے مغرور ہے خود ...

مزید پڑھیے

کافر ہوئے صنم ہم دیں دار تیری خاطر

کافر ہوئے صنم ہم دیں دار تیری خاطر تسبیح توڑ باندھا زنار تیری خاطر گل سینہ چاک بلبل نالاں چمن میں دیکھی آنکھوں کے دکھ سے نرگس بیمار تیری خاطر ابرو کی تو اشارت جس کی طرف کرے تھا چلتی تھی مجھ میں اس میں تلوار تیری خاطر میں جھوٹ سچ بھی یک دم آنسو نہ ان کے پونچھے جو چشم روز و شب ہیں ...

مزید پڑھیے

خانۂ دل کا جو طوائف ہے

خانۂ دل کا جو طوائف ہے قصد بیت الحرم سے خائف ہے آئنہ حسن کے صحیفے کا لوح پرواز ہے صحائف ہے گل رخوں میں لطیفہ گو ہیں ہزار پر وہ گلدستۂ‌ ظرائف ہے ذکر تیرا بہ رب کعبہ صنم ہم کو اوراد ہے وظائف ہے کیا کہوں میں ظفرافتیں اس کی بے سخن معدن ظرائف ہے نشۂ ہوش سے یہ کیفیت عالم کیف پر ...

مزید پڑھیے

میری خبر نہ لینا اے یار ہے تعجب

میری خبر نہ لینا اے یار ہے تعجب جی سے بچے جو مجھ سا بیمار ہے تعجب وعدہ خلافیوں سے تیری ہے دل میں شبہہ ہووے جو حشر میں بھی دیدار ہے تعجب تم کہتے ہو کہ وہ آتا ہے پاس تیرے اس یار سے تو یارو بسیار ہے تعجب ہستی سے اک نفس کا ہے فاصلہ عدم تک تس پر بھی ہے پہنچنا دشوار ہے تعجب کافی نہ تھا ...

مزید پڑھیے

جی چاہے کعبے جاؤ جی چاہے بت کو پوجو

جی چاہے کعبے جاؤ جی چاہے بت کو پوجو یہ سن رکھو محبؔ تم عاشق کبھو نہ ہوجو خوں سو دلوں کا ہوگا مشاطہ تیری گردن زلفوں کا اس کی ٹوٹا شانے سے ایک مو جو جس جا فرشتے کے پر جلتے ہوں پاؤں دھرتے دل اس گلی میں سر سے شایاں ہے جائے تو جو اک دم میں دیکھ لیجو پھر جیب پارہ پارہ بے فائدہ ہے ناصح ...

مزید پڑھیے

دنیا میں کیا کسی سے سروکار ہے ہمیں

دنیا میں کیا کسی سے سروکار ہے ہمیں تجھ بن تو اپنی زیست ہی دشوار ہے ہمیں تو ہی نہیں تو جان تری جان کی قسم یہ جان کس کے واسطے درکار ہے ہمیں گرتے ہیں دکھ سے تیری جدائی کے ورنہ خیر چنگے بھلے ہیں کچھ نہیں آزار ہے ہمیں مر بچ کے دن تو گزرے ہے جوں توں پر اس طرح نظروں میں نور مہر شب تار ہے ...

مزید پڑھیے

مے گلگوں کے جو شیشے میں پری رہتی ہے

مے گلگوں کے جو شیشے میں پری رہتی ہے چشم مستوں میں عجب جلوہ گری رہتی ہے ہے پھندیت ایک وہ بانکا کہ لڑے جب تک آنکھ مردمک پنجۂ مژگاں میں بھری رہتی ہے باغ میں جب وہ گل تازہ بہار آتا ہے بوئے گل پھر تو ہوا پر ہی دھری رہتی ہے نالہ بلبل ہے چمن زار ہے دل داغوں سے آہ تا صبح نسیم سحری رہتی ...

مزید پڑھیے

پہلے صف عشاق میں میرا ہی لہو چاٹ

پہلے صف عشاق میں میرا ہی لہو چاٹ شمشیر‌ نگہ تیری نے کیا کیا نہ کیا کاٹ گلشن میں ہنسی دیکھ کے اس گل کی یکایک حسرت سے گئے غنچوں کے یک لخت جگر پھاٹ اتنا بھی دیا صبر نہ اس نفس دنی کو کتے کی طرح بیٹھتا قسمت کا دیا چاٹ دھلوائیے کیا جامۂ عصیاں کو بساؤ چل کوچ میں دریا کے کنارے ہیں کھڑے ...

مزید پڑھیے

ہے مرے پہلو میں اور مجھ کو نظر آتا نہیں

ہے مرے پہلو میں اور مجھ کو نظر آتا نہیں اس پری کا سحر یارو کچھ کہا جاتا نہیں اشک کی بارش میں دل سے غم نکل آتا نہیں گھر سے باہر مینہ برسنے میں کوئی جاتا نہیں چاک جیب اپنے کو میں بھی جوں گریبان سحر ناصحا تا دامن محشر تو سلواتا نہیں شمع ساں رشتے پر الفت کے لگا دیتے ہیں سر عاشق اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 317 سے 4657