شاعری

دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے

دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے ہے یقیں کچھ گمان میں کچھ ہے صنم اپنے کو ہم خدا جو کہیں کب قصور اس کی شان میں کچھ ہے کچھ نہ دیکھا کسی مکان میں ہم کہتے ہیں لا مکان میں کچھ ہے تشنۂ خوں ہیں لعل لب تیرے سرخیٔ رنگ پان میں کچھ ہے تیرے دیدار کی ہوس کے سوا دیکھ تو میری جان میں کچھ ہے تو ...

مزید پڑھیے

محبت سے طریق دوستی سے چاہ سے مانگو

محبت سے طریق دوستی سے چاہ سے مانگو مرے صاحب کسی سے دل جو مانگو راہ سے مانگو گئے فرہاد و قیس ان کا نظیر اک میں جہاں میں ہوں عزیزاں خیر باقی ماندگاں اللہ سے مانگو خط اس کافر نے قتل عام کا فرماں نکالا ہے مسلمانو پناہ اس آفت ناگاہ سے مانگو اگر ہے عزم روم و زنگ کی تسخیر کا بارے کمک ...

مزید پڑھیے

ہماری چاہ صاحب جانتے ہیں

ہماری چاہ صاحب جانتے ہیں کہوں کیا آہ صاحب جانتے ہیں جلانا عاشقوں کا جان اے جاں قیامت واہ صاحب جانتے ہیں بھلا دینے کی زلفوں میں دلوں کو نرالی راہ صاحب جانتے ہیں تمہاری مست آنکھوں سے ہے بے خود جسے آگاہ صاحب جانتے ہیں تمہارے مکھڑے کی ذرہ جھلک ہے کہ جس کو ماہ صاحب جانتے ہیں ملو ...

مزید پڑھیے

بلبل وہ گل ہے خواب میں تو گا کے مت جگا

بلبل وہ گل ہے خواب میں تو گا کے مت جگا یا چٹکیوں کی غنچوں سے بجوا کے گت جگا وہ گلعذار باغ میں آوے جو رحم کر کہتے ہیں گل گلوں سے کریں آج رت جگا ہمدم وہ بذلہ سنج تو آتے ہی سو رہا خوش‌ طبعیوں سے بول کے باہم جگت جگا تا صبح شام سے رہے مجلس میں دور جام ساقی ہمیں جگائے تو با کیفیت ...

مزید پڑھیے

صنم نے جب لب گوہر‌ فشان کھول دیئے

صنم نے جب لب گوہر‌ فشان کھول دیئے صدف کے موج تبسم نے کان کھول دیئے تری نسیم تبسم نے غنچہ ساں دل کے جو عقدے بند تھے آناً فان کھول دیئے سرشک چشم نے کر شہر‌ بند دل کو خراب تمام عشق کے راز نہان کھول دیئے یہ کس کی کاوش مژگاں نے دل سے تا‌ سر چشم ہزار چشمۂ آب روان کھول دیئے چمن چمن ...

مزید پڑھیے

یوں گھر سے محبت کے کیا بھاگ چلے جانا

یوں گھر سے محبت کے کیا بھاگ چلے جانا کچھ اس میں سمجھتا ہے دے آگ چلے جانا تا شہر عدم ہم کو مشکل نظر آتا ہے آلائش ہستی سے بے لاگ چلے جانا کوچے سے ترے گاہے گھر شب کو جو آتا ہوں پھر صبح ہوئے سوتے اٹھ جاگ چلے جانا اس زلف کے افعی نے مارا ہے جسے اس کے اشک آنکھ سے اور منہ سے ہیں جھاگ چلے ...

مزید پڑھیے

مل اس پری سے کیا کیا ہوا دل

مل اس پری سے کیا کیا ہوا دل شیدا ہوا دل رسوا ہوا دل برق تجلی دیکھ اس نگہ کی جوں طور جل کر سرما ہوا دل اس سنگ دل کی مے خوار گی سے خون جگر میں مینا ہوا دل ہیں منقسم یہ خوں بار آنکھیں جن کی بدولت دریا ہوا دل جوش جنوں سے عشق بتاں میں سینا ہوا کوہ صحرا ہوا دل سوزاں ہے از بس داغ ...

مزید پڑھیے

میں جیتے جی تلک رہوں مرہون آپ کا

میں جیتے جی تلک رہوں مرہون آپ کا گر آج قصد کیجیے مجھ سے ملاپ کا میں یہ سمجھ کے دوڑوں ہوں آیا وہ شہسوار کھٹکا سنوں ہوں جب کسی گھوڑے کی ٹاپ کا تم گاؤ اپنے راگ کو اس پاس واعظو مشتاق جو گدھا ہو تمہارے الاپ کا گو دخت رز سے ملنے میں بد ٹھہرے محتسب دینا نہیں دھرانے میں ہم اس کے باپ ...

مزید پڑھیے

آنا ہے تو آ جاؤ یک آن مرا صاحب

آنا ہے تو آ جاؤ یک آن مرا صاحب اک آن کے ہیں ہم بھی مہمان مرا صاحب مدت سے تمہارا میں سو جان سے ہوں عاشق کیوں جان کے ہوتے ہو انجان مرا صاحب غصے ہو اٹھے مجھ پر کیوں تیر و کماں لے کر میں ہونے کو بیٹھا ہوں قربان مرا صاحب ناگاہ صنم یارو مجھ سے جو ملا آ کر مجھ پر یہ خدا کا ہے احسان مرا ...

مزید پڑھیے

تم جانتے ہو کس لئے وہ مجھ سے گیا لڑ

تم جانتے ہو کس لئے وہ مجھ سے گیا لڑ اے ہمدم من اس کے کہیں اور لگی لڑ اس نے شجر دوستی اب دل سے اکھاڑا کہنے سے رقیبوں کے ہے فتنے کی بندھی جڑ اس بت کو کہاں پہنچیں بت آذر کے تراشے ہاتھ اپنے سے تیار کرے جس کو خدا گھڑ دل دوز نگہ یار کی ہوتی ہے مقابل برچھی کی انی سی مرے سینے میں گئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 316 سے 4657