دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے
دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے ہے یقیں کچھ گمان میں کچھ ہے صنم اپنے کو ہم خدا جو کہیں کب قصور اس کی شان میں کچھ ہے کچھ نہ دیکھا کسی مکان میں ہم کہتے ہیں لا مکان میں کچھ ہے تشنۂ خوں ہیں لعل لب تیرے سرخیٔ رنگ پان میں کچھ ہے تیرے دیدار کی ہوس کے سوا دیکھ تو میری جان میں کچھ ہے تو ...