وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا
وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا مگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتا برے اچھے ہوں جیسے بھی ہوں سب رشتے یہیں کے ہیں کسی کو ساتھ دنیا سے کوئی لے کر نہیں جاتا گھروں کی تربیت کیا آ گئی ٹی وی کے ہاتھوں میں کوئی بچہ اب اپنے باپ کے اوپر نہیں جاتا کھلے تھے شہر میں سو در مگر ...