شاعری

وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا

وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا مگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتا برے اچھے ہوں جیسے بھی ہوں سب رشتے یہیں کے ہیں کسی کو ساتھ دنیا سے کوئی لے کر نہیں جاتا گھروں کی تربیت کیا آ گئی ٹی وی کے ہاتھوں میں کوئی بچہ اب اپنے باپ کے اوپر نہیں جاتا کھلے تھے شہر میں سو در مگر ...

مزید پڑھیے

مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہے

مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہے اسی لیے تو سمندر پہ رحم آتا ہے وہ اس طرح بھی مری اہمیت گھٹاتا ہے کہ مجھ سے ملنے میں شرطیں بہت لگاتا ہے بچھڑتے وقت کسی آنکھ میں جو آتا ہے تمام عمر وہ آنسو بہت رلاتا ہے کہاں پہنچ گئی دنیا اسے پتہ ہی نہیں جو اب بھی ماضی کے قصے سنائے جاتا ہے اٹھائے ...

مزید پڑھیے

اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلے

اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلے میں چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلے کتاب ماضی کے اوراق الٹ کے دیکھ ذرا نہ جانے کون سا صفحہ مڑا ہوا نکلے میں تجھ سے ملتا تو تفصیل میں نہیں جاتا مری طرف سے ترے دل میں جانے کیا نکلے جو دیکھنے میں بہت ہی قریب لگتا ہے اسی کے بارے میں سوچو تو فاصلہ ...

مزید پڑھیے

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے جو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خود مختاریوں کو کون سمجھائے کہاں سے بچ کے چلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے ...

مزید پڑھیے

میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے

میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے وقت پڑنے پہ ہاتھوں سے جاتے رہے بارشیں آئیں اور فیصلہ کر گئیں لوگ ٹوٹی چھتیں آزماتے رہے آنکھیں منظر ہوئیں کان نغمہ ہوئے گھر کے انداز ہی گھر سے جاتے رہے شام آئی تو بچھڑے ہوئے ہم سفر آنسوؤں سے ان آنکھوں میں آتے رہے ننھے بچوں نے چھو بھی لیا چاند ...

مزید پڑھیے

لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا

لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا ہمارے دور میں آنسو زباں نہیں ہوتا جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا یہ کس مقام پہ لائی ہے میری تنہائی کہ مجھ سے آج کوئی بد گماں نہیں ہوتا بس اک نگاہ مری راہ دیکھتی ہوتی یہ سارا شہر مرا میزباں نہیں ہوتا ترا خیال نہ ...

مزید پڑھیے

میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گا

میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گا لیکن مری آنکھوں میں تجھے ڈر نہ ملے گا سر پر تو بٹھانے کو ہے تیار زمانہ لیکن ترے رہنے کو یہاں گھر نہ ملے گا جاتی ہے چلی جائے یہ مے خانے کی رونق کم ظرفوں کے ہاتھوں میں تو ساغر نہ ملے گا دنیا کی طلب ہے تو قناعت ہی نہ کرنا قطرے ہی سے خوش ہو تو سمندر ...

مزید پڑھیے

کھل کے ملنے کا سلیقہ آپ کو آتا نہیں

کھل کے ملنے کا سلیقہ آپ کو آتا نہیں اور میرے پاس کوئی چور دروازہ نہیں وہ سمجھتا تھا اسے پا کر ہی میں رہ جاؤں گا اس کو میری پیاس کی شدت کا اندازہ نہیں جا دکھا دنیا کو مجھ کو کیا دکھاتا ہے غرور تو سمندر ہے تو ہے میں تو مگر پیاسا نہیں کوئی بھی دستک کرے آہٹ ہو یا آواز دے میرے ہاتھوں ...

مزید پڑھیے

بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیں

بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیں ایک سے جانے ہم کتنے ہو جاتے ہیں ہم بھی دل کی بات کہاں کہہ پاتے ہیں آپ بھی کچھ کہتے کہتے رہ جاتے ہیں خوشبو اپنے رستہ خود طے کرتی ہے پھول تو ڈالی کے ہو کر رہ جاتے ہیں روز نیا اک قصہ کہنے والے لوگ کہتے کہتے خود قصہ ہو جاتے ہیں کون بچائے گا پھر ...

مزید پڑھیے

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا تو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تری کیا ہر شخص مرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا پیاسے رہے جاتے ہیں زمانے کے سوالات کس کے لیے زندہ ہوں بتا بھی نہیں سکتا گھر ڈھونڈ رہے ہیں مرا راتوں کے پجاری میں ہوں کہ چراغوں کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 310 سے 4657