شاعری

دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤں

دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں جوانان چمن کے ہاتھ پاؤں جب نہ دیکھے چار دن اس گل بدن کے ہاتھ پاؤں سوکھ کر کانٹا ہوئے اہل چمن کے ہاتھ پاؤں ہم وہ میکش ہیں جو ہوتا ہے ہمیں رنج خمار ٹوٹتے ہیں ساقی پیماں شکن کے ہاتھ پاؤں ان کے مقتولوں کی قبریں اس قدر کھودی ...

مزید پڑھیے

اے صنم سب ہیں ترے ہاتھوں سے نالاں آج کل

اے صنم سب ہیں ترے ہاتھوں سے نالاں آج کل صورت ناقوس ہیں گبر و مسلماں آج کل باغ میں کہتے ہیں وہ لالے کا تختہ دیکھ کر گل کھلاتی ہے عجب خاک شہیداں آج کل حرف مطلب اپنے دیوانے کا بھی سن جا ذرا ہو تجھے چھٹی جو اے طفل‌ دبستاں آج کل موسم جوش جنوں ہے جامۂ گل کی طرح خودبخود ہوتے ہیں ٹکڑے ...

مزید پڑھیے

دل ہے غذائے رنج جگر ہے غذائے رنج

دل ہے غذائے رنج جگر ہے غذائے رنج پیدا کیا ہے ہم کو خدا نے برائے رنج حاصل کسی سے کچھ نہیں ہوتا سوائے رنج دنیا میں لائی ہے ہمیں قسمت برائے رنج آدم سے باغ خلد چھٹا ہم سے کوئے یار وہ ابتدائے رنج ہے یہ انتہائے رنج ممکن نہیں ہے آئے جو بوئے گل نشاط ایسے دماغ جاں میں بھری ہے ہوائے ...

مزید پڑھیے

فکر رنج و راحت کیسی

فکر رنج و راحت کیسی دوزخ کیسا جنت کیسی بدلی ان کی عادت کیسی الٹی اپنی قسمت کیسی ہر شے میں ہے اس کا جلوہ کثرت میں ہے وحدت کیسی آپس میں اے گبرو مسلماں ناحق ناحق حجت کیسی الفت میں ذلت رکھی ہے عزت کیسی حرمت کیسی زہد زاہد لا حاصل ہے بے گاری کو اجرت کیسی سن کر میری سینہ کوبی بولے ...

مزید پڑھیے

محشر کا ہمیں کیا غم عصیاں کسے کہتے ہیں

محشر کا ہمیں کیا غم عصیاں کسے کہتے ہیں پلے پہ وہ بت ہوگا میزاں کسے کہتے ہیں عشاق پھرے دردر ایواں کسے کہتے ہیں سر بار رہا تن پر ساماں کسے کہتے ہیں وصل بت مہرو ہے شرب مئے گلگوں ہے پھر اور عنایات یزداں کسے کہتے ہیں قیدی رہے وحشت میں بے خود تھے مگر ایسے یہ بھی نہ کھلا ہم پر زنداں ...

مزید پڑھیے

آپ اپنی بے وفائی دیکھیے

آپ اپنی بے وفائی دیکھیے ہم سے اور ایسی برائی دیکھیے بات پھر ہم سے بنائی دیکھیے پھر وہی تقریر آئی دیکھیے آئنہ اس بت کو دکھلا کر کہا اور صورت ہاتھ آئی دیکھیے عرش کی زنجیر پر طرہ ہوا نالۂ دل کی رسائی دیکھیے ہم اسیران طلسم خاک ہیں کیا ہوا وقت رہائی دیکھیے مار ڈالا منہ چھپا کر آپ ...

مزید پڑھیے

بت پرستی سے نہ طینت مری زنہار پھری

بت پرستی سے نہ طینت مری زنہار پھری صبح سو بار خریدی گئی سو بار پھری بارہا قہقہوں میں تو نے اڑایا ہے اسے شمع روتی تری محفل سے ہے سو بار پھری چل بسی فصل خزاں موسم گل آ پہنچا لے مبارک ہو ہوا بلبل گل زار پھری ایک جا بھی نظر آئی نہ اثر کی صورت گرتی پڑتی نہ کہاں آہ‌ دل زار پھری زلف ...

مزید پڑھیے

جو عدوئے باغ ہو برباد ہو

جو عدوئے باغ ہو برباد ہو کوئی ہو گلچیں ہو یا صیاد ہو مجھ سا عاشق مورد بیداد ہو تم بڑے سفاک ہو جلاد ہو کوچۂ جاناں سے مطلب ہے ہمیں دیر ویراں ہو حرم برباد ہو قید مذہب واقعی اک روگ ہے آدمی کو چاہئے آزاد ہو دور دور محتسب ہے ساقیا ہائے کیوں کر مے کدہ آباد ہو بک گئے ہیں آپ تو غیروں کے ...

مزید پڑھیے

اک خواب کے اثر میں کئی دن گزر گئے

اک خواب کے اثر میں کئی دن گزر گئے پھر یوں ہوا کہ آنکھ کھلی ہم بکھر گئے جب پاؤں کے نشان نشانی کی طرح تھے تب لوگ کس ڈگر پہ چلے اور کدھر گئے کل آنکھ کے شجر سے کئی پھول یاد کے پلکوں سے ہو کے دل کی سڑک خوب بھر گئے اے دکھ تری طویل رفاقت کے بعد بھی خود سے ملے ہیں لوگ تو کتنے نکھر گئے اس ...

مزید پڑھیے

بغاوت رسم ہے سو یوں ادا کی

بغاوت رسم ہے سو یوں ادا کی لہو ہاتھوں پہ مل مل کر دعا کی دیے کی اوٹ سایا بن گئی ہے پریشانی تو دیکھو اب ہوا کی مجھے مجنوں کے قصے مت سناؤ یہاں میں نے محبت ابتدا کی غبار گریہ چہرے پر جما ہے کوئی تو شکل دیکھے گا خدا کی بظاہر جھوٹ کے پاؤں نہیں ہیں سنو لوگو صدا تھی اک گدا کی

مزید پڑھیے
صفحہ 305 سے 4657