شاعری

داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیا

داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیا دامن میں خار چاک گریباں میں رہ گیا جب دو قدم جنوں میں مرا ساتھ ہو گیا پھیلا کے پاؤں قیس بیاباں میں رہ گیا ابروئے یار سے جو بہت منفعل ہوا منہ ڈال کر ہلال گریباں میں رہ گیا تقلید بن پڑی نہ تمہاری خرام کی طاؤس لڑکھڑا کے گلستاں میں رہ گیا آئی بہار ...

مزید پڑھیے

واعظ کے میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیا

واعظ کے میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیا جام شراب لائے بھی ساقی کدھر گیا بلبل کہاں بہار کہاں باغباں کہاں وہ دن گزر گئے وہ زمانہ گزر گیا ایسی ہوا چلی مری آہوں کی رات کو سب آسماں پہ خرمن انجم بکھر گیا اچھا ہوا جو ہو گئے وحدت پرست ہم فتنہ گیا فساد گیا شور و شر گیا کعبے کی سمت سجدہ کیا دل ...

مزید پڑھیے

عدوئے جاں بت بے باک نکلا

عدوئے جاں بت بے باک نکلا بڑا قاتل بڑا سفاک نکلا صنوبر قد کشی میں خاک نکلا وہ سرو قد چمن کی ناک نکلا فرشتوں کو کیا مات آدمی نے قیامت کا یہ مشت خاک نکلا اڑا دی قید مذہب دل سے ہم نے قفس سے طائر‌ ادراک نکلا محبت سے کھلا حال زمانہ یہ دل لوح طلسم خاک نکلا نکل آئی فلک کی دور سے ...

مزید پڑھیے

قبر پر باد فنا آئیے گا

قبر پر باد فنا آئیے گا بے محل پاؤں نہ پھیلائیے گا لاکھ ہو وصل کا وعدہ لیکن وقت پر صاف نکل جائیے گا جائیں دم بھر کو تو فرماتے ہیں چھاؤنی تو نہ کہیں چھائیے گا سر ہوئے اس کے ملمع سے نہ آپ زلف مشکیں سے خطا پائیے گا نہ کریں آپ وفا ہم کو کیا بے وفا آپ ہی کہلائیے گا اٹھ گیا دل سے دوئی ...

مزید پڑھیے

عشق کا اختتام کرتے ہیں

عشق کا اختتام کرتے ہیں دل کا قصہ تمام کرتے ہیں قہر ہے قتل عام کرتے ہیں ترک ترکی تمام کرتے ہیں طاق ابرو سے ان کے در گزرے ہم یہیں سے سلام کرتے ہیں شیخ اس سے پناہ مانگتے ہیں برہمن رام رام کرتے ہیں جوہری پر ترے در دنداں آب و دانہ حرام کرتے ہیں خط قسمت پڑھا نہیں جاتا صرف منطق تمام ...

مزید پڑھیے

باغ عالم میں ہے بے رنگ بیان واعظ

باغ عالم میں ہے بے رنگ بیان واعظ صورت برگ خزانی ہے زبان واعظ مصر میں بھی نہ یہ فرعون کا عالم ہوگا دیکھے مسجد میں کوئی شوکت و شان واعظ ایک کانٹا سا نکل جائے ہمارے دل سے سنسیوں سے کوئی کھینچے جو زبان واعظ قلقل‌ شیشۂ مے سے ترے میکش ساقی سن رہے ہیں خبر راز نہان واعظ حال معلوم ہوا ...

مزید پڑھیے

اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریا

اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریا سیل گریہ نے یہ نظروں سے اتارے دریا دیکھ لیں گر مری اشکوں کے شرارے دریا خشک برسات میں ہوں خوف کے مارے دریا دونوں چشموں سے مری اشک بہا کرتے ہیں موج زن رہتا ہے دریا کے کنارے دریا رغبت اس ترک کو مچھلی کے کبابوں سے نہیں آتش شوق سے شیخی نہ بگھارے ...

مزید پڑھیے

رنگ ہے اے ساقیٔ سرشار قیصر باغ میں

رنگ ہے اے ساقیٔ سرشار قیصر باغ میں پھول پیتے ہیں ترے مے خوار قیصر باغ میں دیکھ کر رنگیں ترا رخسار قیصر‌ باغ میں گل سے بلبل ہو گئے بیزار قیصر‌ باغ میں ساتھ ہے اک غیرت گل زار قیصر‌ باغ میں بلبلوں کو دے رہے ہیں خار قیصر‌ باغ میں باتیں بلبل کو سنا شیداۓ رخ گل کو بنا کبک کو چل کر ...

مزید پڑھیے

کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیں

کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیں توبہ ہے رو سیاہ کیا ہیں اللہ ہے عفو کرنے والا میں کیا ہوں مرے گناہ کیا ہیں اے دوست ترے گدا کے آگے کچھ بھی نہیں بادشاہ کیا ہیں تم سا کوئی بد چلن نہ ہوگا ہے ہے عاشق تباہ کیا ہیں گوری گوری ہے ان کی صورت اس پر گیسوئے سیاہ کیا ہیں چکر میں ہیں شیخ و گبر ...

مزید پڑھیے

ان کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوا

ان کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوا رندہ گیا پس گیا مٹی ہوا پامال ہوا دشت وحشت کا علاقہ مجھے امسال ہوا داغ سودا صفت نیر اقبال ہوا اس بکھیڑے سے الٰہی کہیں چھٹکارا ہو عشق گیسو نہ ہوا جان کا جنجال ہوا نظر لطف نہ کی تو نے مرے رونے پر طفل اشک اے مہ خوبی نہ خوش اقبال ہوا ہیں وہ صوفی جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 304 سے 4657