شاعری

رنگ اور روپ سے جو بالا ہے

رنگ اور روپ سے جو بالا ہے کس قیامت کے نقش والا ہے چاپ ابھری ہے دل کے اندر سے کوئی پلکوں پہ آنے والا ہے زندگی ہے لہو کا اک چھینٹا عمر زخموں کی دیپ مالا ہے تول سکتا ہے کون خوشبو کو پھر بھی ہم نے یہ روگ پالا ہے کتنا آباد ہے گھنا جنگل کیسا سنسان یہ شوالا ہے دیکھ اس تیری چاندنی‌ شب ...

مزید پڑھیے

اڑی جو گرد تو اس خاک داں کو پہچانا

اڑی جو گرد تو اس خاک داں کو پہچانا اور اس کے بعد دل بے نشاں کو پہچانا جلا جو رزق تو ہم آسماں کو جان گئے لگی جو پیاس تو تیر و کماں کو پہچانا چلو یہ آنکھ کا جل تھل تو تم نے دیکھ لیا مگر یہ کیا کہ نہ ابر رواں کو پہچانا بہار آئی تو ہر سو تھیں کترنیں اس کی بہار آئی تو ہم نے خزاں کو ...

مزید پڑھیے

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا

تھی نیند میری مگر اس میں خواب اس کا تھا بدن مرا تھا بدن میں عذاب اس کا تھا سفینے چند خوشی کے ضرور اپنے تھے مگر وہ سیل غم بے حساب اس کا تھا دئیے بجھے تو ہوا کو کیا گیا بد نام قصور ہم نے کیا احتساب اس کا تھا یہ کس حساب سے کی تو نے روشنی تقسیم ستارے مجھ کو ملے ماہتاب اس کا تھا فلک پہ ...

مزید پڑھیے

بادل برس کے کھل گیا رت مہرباں ہوئی

بادل برس کے کھل گیا رت مہرباں ہوئی بوڑھی زمیں نے تن کے کہا میں جواں ہوئی مکڑی نے پہلے جال بنا میرے گرد پھر مونس بنی رفیق بنی پاسباں ہوئی شب کی رکاب تھام کے خوشبو ہوئی جدا دن چڑھتے چڑھتے بسری ہوئی داستاں ہوئی کرتے ہو اب تلاش ستاروں کو خاک پر جیسے زمیں زمیں نہ ہوئی آسماں ...

مزید پڑھیے

بے صدا دم بخود فضا سے ڈر

بے صدا دم بخود فضا سے ڈر خشک پتہ ہے تو ہوا سے ڈر کورے کاغذ کی سادگی پہ نہ جا گنگ لفظوں کی اس ردا سے ڈر آسماں سے نہ اس قدر گھبرا تو زمیں کی سزا جزا سے ڈر جانے کس کھونٹ تجھ کو لے جائیں شاہزادے نقوش پا سے ڈر ترک دست طلب پہ مت اترا اپنے دل میں چھپے گدا سے ڈر عرش تک بھی اڑان ہے اپنی ہم ...

مزید پڑھیے

اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے

اس گریۂ پیہم کی اذیت سے بچا دے آواز جرس اب کے برس مجھ کو ہنسا دے یا ابر کرم بن کے برس خشک زمیں پر یا پیاس کے صحرا میں مجھے جینا سکھا دے میں بھی تری خوشبو ہوں مری سمت بھی تو دیکھ مہلت تجھے گر سلسلۂ موج صبا دے سورج نے مجھے برف کیا ہے تو تجھے کیا کیا تجھ کو اگر برف مجھے آگ لگا ...

مزید پڑھیے

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی

منظر تھا راکھ اور طبیعت اداس تھی ہر چند تیری یاد مرے آس پاس تھی میلوں تھی اک جھلستی ہوئی دوپہر کی قاش سینے میں بند سینکڑوں صدیوں کی پیاس تھی اٹھے نہا کے شعلوں میں اپنے تو یہ کھلا سارے جہاں میں پھیلی ہوئی تیری باس تھی کیسے کہوں کہ میں نے کہاں کا سفر کیا آکاش بے چراغ زمیں بے لباس ...

مزید پڑھیے

ذہن رسا کی گرہیں مگر کھولنے لگے

ذہن رسا کی گرہیں مگر کھولنے لگے پھر یوں ہوا کہ لوگ ہمیں تولنے لگے آہستہ بات کر کہ ہوا تیز ہے بہت ایسا نہ ہو کہ سارا نگر بولنے لگے عمر رواں کو پار کیا تم نے اور ہم رسی کے پل پہ پاؤں رکھا ڈولنے لگے دستک ہوا ہی دے کہ یہ بندش تمام ہو سونے گھروں میں کوئی تو رس گھولنے لگے میں بن گیا ...

مزید پڑھیے

ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کو

ترا ہی روپ نظر آئے جا بجا مجھ کو جو ہو سکے یہ تماشا نہ تو دکھا مجھ کو کبھی تو کوئی فلک سے اتر کے پاس آئے کبھی تو ڈسنے سے باز آئے فاصلہ مجھ کو تلاش کرتے ہو پھولوں میں کیسے پاگل ہو اڑا کے لے بھی گئی صبح کی ہوا مجھ کو کسے خبر کہ صدا کس طرف سے آئے گی کہاں سے آ کے اٹھائے گا قافلہ مجھ ...

مزید پڑھیے

تری نظر میں ترے ماسوا نہیں ہوگا

تری نظر میں ترے ماسوا نہیں ہوگا ترے وجود کا جس دن تجھے یقیں ہوگا جو گھر سے نکلا تو ہر اک کو منتظر پایا خیال تھا کہ کوئی جانتا نہیں ہوگا فریب دیتی ہیں ویرانیاں صدا تو لگا مکان ہے تو یقیناً کوئی مکیں ہوگا خبر نہ تھی کہ ہزار آنکھیں ہیں اندھیرے کی اسے خیال تھا چرچا کہیں نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 298 سے 4657