شاعری

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا

عمر کی اس ناؤ کا چلنا بھی کیا رکنا بھی کیا کرمک شب ہوں مرا جلنا بھی کیا بجھنا بھی کیا اک نظر اس چشم تر کا میری جانب دیکھنا آبشار نور کا پھر خاک پر گرنا بھی کیا زخم کا لگنا ہمیں درکار تھا سو اس کے بعد زخم کا رسنا بھی کیا اور زخم کا بھرنا بھی کیا تیرے گھر تک آ چکی ہے دور کے جنگل کی ...

مزید پڑھیے

سحر نے آ کر مجھے سلایا تو میں نے جانا

سحر نے آ کر مجھے سلایا تو میں نے جانا پھر ایک سپنا مجھے دکھایا تو میں نے جانا بجز ہوا اب رکے گا کوئی نہ پاس میرے اندھیری شب میں دیا بجھایا تو میں نے جانا گیا یہ کہہ کر کہ ایک شب کی ہے بات ساری مگر وہ جب لوٹ کر نہ آیا تو میں نے جانا میں ایک تنکا رکا کھڑا تھا ندی کنارے ندی نے بہنا ...

مزید پڑھیے

بادل چھٹے تو رات کا ہر زخم وا ہوا

بادل چھٹے تو رات کا ہر زخم وا ہوا آنسو رکے تو آنکھ میں محشر بپا ہوا سوکھی زمیں پہ بکھری ہوئی چند پتیاں کچھ تو بتا نگار چمن تجھ کو کیا ہوا ایسے بڑھے کہ منزلیں رستے میں بچھ گئیں ایسے گئے کہ پھر نہ کبھی لوٹنا ہوا اے جستجو کہاں گئے وہ حوصلے ترے کس دشت میں خراب ترا قافلہ ہوا پہنچے ...

مزید پڑھیے

سکھا دیا ہے زمانے نے بے بصر رہنا

سکھا دیا ہے زمانے نے بے بصر رہنا خبر کی آنچ میں جل کر بھی بے خبر رہنا سحر کی اوس سے کہنا کہ ایک پل تو رکے کہ ناپسند ہے ہم کو بھی خاک پر رہنا تمام عمر ہی گزری ہے دستکیں سنتے ہمیں تو راس نہ آیا خود اپنے گھر رہنا وہ خوش کلام ہے ایسا کہ اس کے پاس ہمیں طویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر ...

مزید پڑھیے

جبین سنگ پہ لکھا مرا فسانہ گیا

جبین سنگ پہ لکھا مرا فسانہ گیا میں رہ گزر تھا مجھے روند کر زمانہ گیا نقاب اوڑھ کے آئے تھے رات کے قزاق پگھلتی شام سے سب دھوپ کا خزانہ گیا کسے خبر وہ روانہ بھی ہو سکا کہ نہیں تمہارے شہر سے جب اس کا آب و دانہ گیا وہ چل دیا تو نگاہوں سے کہ دلوں سے غرور لبوں سے زہر ہواؤں سے تازیانہ ...

مزید پڑھیے

خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ تجھے

خود سے ہوا جدا تو ملا مرتبہ تجھے آزاد ہو کے مجھ سے مگر کیا ملا تجھے اک لحظہ اپنی آنکھ میں تو جھانک لے اگر آؤں نظر میں بکھرا ہوا جا بجا تجھے تھا مجھ کو تیرا پھینکا ہوا پھول ہی بہت لفظوں کا اہتمام بھی کرنا پڑا تجھے یہ اور بات میں نے صدائیں ہزار دیں آئی نہ دشت ہول سے اک بھی صدا ...

مزید پڑھیے

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے

اس کی آواز میں تھے سارے خد و خال اس کے وہ چہکتا تھا تو ہنستے تھے پر و بال اس کے زرد رو ایک ہی پل میں ہوئی مدھ ماتی شام لال ہونے بھی نہ پائے تھے ابھی گال اس کے کہکشاؤں میں تڑپتے تھے ستاروں کے پرند سبز آکاش پہ ہر سو تھے بچھے جال اس کے کاٹ ہی لیں گے جدائی کا زمانہ ہم تو دیکھیے کیسے ...

مزید پڑھیے

کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا

کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا پاگل تھا یوں ہی چمٹ رہا تھا مری رات گزر رہی تھی ایسے میں جیسے ورق الٹ رہا تھا ساگر میں نہیں تھی موج اک بھی ساحل تھا کہ پھر بھی کٹ رہا تھا میں بھی تو جھپٹ رہا تھا خود پر جب میرا اثاثہ بٹ رہا تھا دیکھا تو نظر تھی اس کی جل تھل مشکیزۂ ابر پھٹ رہا تھا قسمت ...

مزید پڑھیے

ستارہ تو کبھی کا جل بجھا ہے

ستارہ تو کبھی کا جل بجھا ہے یہ آنسو سا تری پلکوں پہ کیا ہے درختوں کو تو چپ ہونا تھا اک دن پرندوں کو مگر کیا ہو گیا ہے دھنک دیوار کے رستے میں حائل وگرنہ جست بھر کا فاصلہ ہے اسے بند آنکھ سے میں دیکھ تو لوں مگر پھر عمر بھر کا فاصلہ ہے چلو اپنی بھی جانب اب چلیں ہم یہ رستہ دیر سے سونا ...

مزید پڑھیے

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا

دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا سارا لہو بدن کا رواں مشت پر میں تھا جاتے کہاں کہ رات کی بانہیں تھیں مشتعل چھپتے کہاں کہ سارا جہاں اپنے گھر میں تھا حد افق پہ شام تھی خیمے میں منتظر آنسو کا اک پہاڑ سا حائل نظر میں تھا لو وہ بھی خشک ریت کے ٹیلے میں ڈھل گیا کل تک جو ایک کوہ گراں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 297 سے 4657