شاعری

اپنا اپنا سمے بتا رہے ہیں

اپنا اپنا سمے بتا رہے ہیں ہم تعلق کہاں نبھا رہے ہیں وہ بھی سب آپ کا دیا ہوا تھا یہ بھی ہے آپ کا جو کھا رہے ہیں سو رہے ہیں کسی کے پہلو میں اور ترا خواب گنگنا رہے ہیں اس کے چہرے سے صبح اٹھائی ہے اس کی آنکھوں سے شب چرا رہے ہیں داد وہ دے نہیں رہے ہیں مگر میرے شعروں سے حظ اٹھا رہے ...

مزید پڑھیے

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے

وہ دن گئے کہ چھپ کے سر بام آئیں گے آنا ہوا تو اب وہ سر عام آئیں گے سوچا نہ تھا کہ ابر سیہ پوش سے کبھی کوندے تیرے بدن کے مرے نام آئیں گے اس نخل نا مراد سے جو پات جھڑ گئے اندھی خنک ہواؤں کے اب کام آئیں گے آنسو ستارے اوس کے دانے سفید پھول سب میرے غم گسار سر شام آئیں گے رکھ تو انہیں ...

مزید پڑھیے

نماز لڑکی محبت خدا ضروری ہے

نماز لڑکی محبت خدا ضروری ہے کسی بھی چیز کا نشہ بڑا ضروری ہے بہت ضروری ہے اس کا ہر ایک پل ہنسنا مجھ ایسے حبس زدہ کو ہوا ضروری ہے تمہارے واسطے رکھا ہے ٹال کر خود کو اب اس کے بعد تمہیں اور کیا ضروری ہے اب اس کی اور مری چاہ میں تضاد ہے دوست مجھے چراغ اسے آئنہ ضروری ہے جدائی اتنی ...

مزید پڑھیے

لازم کہاں کہ سارا جہاں خوش لباس ہو

لازم کہاں کہ سارا جہاں خوش لباس ہو میلا بدن پہن کے نہ اتنا اداس ہو اتنا نہ پاس آ کہ تجھے ڈھونڈتے پھریں اتنا نہ دور جا کے ہمہ وقت پاس ہو اک جوئے بے قرار ہو کیوں دلکشی تری کیوں اتنی تشنہ لب مری آنکھوں کی پیاس ہو پہنا دے چاندنی کو قبا اپنے جسم کی اس کا بدن بھی تیری طرح بے لباس ...

مزید پڑھیے

بے زباں کلیوں کا دل میلا کیا

بے زباں کلیوں کا دل میلا کیا اے ہوائے صبح تو نے کیا کیا کی عطا ہر گل کو اک رنگیں قبا بوئے گل کو شہر میں رسوا کیا کیا تجھے وہ صبح کاذب یاد ہے روشنی سے تو نے جب پردہ کیا بے خیالی میں ستارے چن لیے جگمگاتی رات کو اندھا کیا جاتے جاتے شام یک دم ہنس پڑی اک ستارہ دیر تک رویا کیا روٹھ کر ...

مزید پڑھیے

نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے

نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے بس اک آنسو کے دانے پر بسر اوقات کرتا ہے شجر کے تن میں گہرا زخم ہے کوئی وگرنہ یوں زمیں پر سبز پتوں کی کوئی برسات کرتا ہے وہ جب چاہے بجھا دیتا ہے شمعیں بھی ستارے بھی نگر سارا سپرد پنجۂ ظلمات کرتا ہے وہ اپنی بات سے صدچاک کرتا ہے مرا ...

مزید پڑھیے

چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں

چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں جو جزو کارواں تھے وہ کہاں ہیں نہ جانے کون پیچھے رہ گیا ہے مناظر الٹی جانب کو رواں ہیں زمیں کے تال سب سوکھے پڑے ہیں پرندے آسماں در آسماں ہیں سنا ہے تشنگی بھی اک دعا ہے لبوں پر شبد جس کے پر فشاں ہیں کھلے صحرا میں مت ڈھونڈو ہمیں تم سدا سے ہم تمہارے ...

مزید پڑھیے

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال

تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال تمہارے قدموں کی آندھی میں ہو گئے پامال ترے بدن کی مہک نے سلا دیا تھا مگر ہوا کا اندھا مسافر چلا انوکھی چال وہ ایک نور کا سیلاب تھا کہ اسی کا سفر وہ ایک نقطۂ موہوم تھا کہ یہ بد حال عجیب رنگ میں وارد ہوئی خزاں اب کے دمکتے ہونٹ سلگتی نظر دہکتے ...

مزید پڑھیے

گل نے خوشبو کو تج دیا نہ رہا

گل نے خوشبو کو تج دیا نہ رہا خود سے خود کو کیا جدا نہ رہا رات دیکھے سفر کے خواب بہت پو پھٹی جب تو حوصلہ نہ رہا قافلہ اس کے دم قدم سے تھا چل دیا وہ تو قافلہ نہ رہا ربط اس کا زماں سے کیا رہتا جب زمیں ہی سے سلسلہ نہ رہا ترک کر خامشی کا مسلک سن ہو گیا جو بھی بے صدا نہ رہا عمر بھر اس نے ...

مزید پڑھیے

آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے

آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے خاک پر مہکا ہوا چھوٹا سا گھر میرے لیے لفظ کی چھاگل جو چہکے خاکداں آباد ہو وجد میں آنے لگیں سارے شجر میرے لیے دور تک اڑتے ہوئے جگنو تری آواز کے دور تک ریگ رواں پر اک نگر میرے لیے آشنا نظروں سے دیکھیں رات بھر تارے تجھے گھورتی آنکھوں کی یہ بستی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 296 سے 4657