شاعری

جب تن نہ رہا میرا ہوں واصل جانانہ

جب تن نہ رہا میرا ہوں واصل جانانہ دیوار کے گرنے سے ہم سایا ہو ہم خانہ آئینے میں دیکھ آ کر منہ اپنا اے جانانہ تا قدر مری جانے کاش اپنا ہو دیوانہ اس زلف میں کئی دن سے بیتابیٔ دل گم ہے زنجیر جھنکتی نئیں کیا مر چکا دیوانہ بجلی مرے نالے کی جوں چمکے تو موند آنکھیں اے آشنا آگے تو اتنا ...

مزید پڑھیے

غیر آہ سرد نہیں داغوں کے جانے کا علاج

غیر آہ سرد نہیں داغوں کے جانے کا علاج جز صبا کیا ہے چراغوں کے بجھانے کا علاج دل شکستوں کی دوا غیر از گداز عشق نہیں ہے گلانا ٹوٹے شیشوں کے بنانے کا علاج جور سے نادم ہو لب کا کاٹنا قاتل کا ہے دل کے زخموں کو مرے بخیہ دلانے کا علاج

مزید پڑھیے

آج دل بے قرار ہے میرا

آج دل بے قرار ہے میرا کس کے پہلو میں یار ہے میرا کیوں نہ عشاق پر ہوؤں منصور جوں سپند آہ دار ہے میرا بے قرار اس کا ہوں گا حشر میں بھی یہی اس سے قرار ہے میرا رنگ زرد اور سرشک سرخ تو دیکھ کیا خزاں میں بہار ہے میرا میرے قاتل کے کف حنائی نہیں مشت خوں یادگار ہے میرا کھول کر قبر دیکھ ...

مزید پڑھیے

جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخ

جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخ نماز توڑ اٹھے تیرے رام رام کو شیخ سوا ہمارے تو زاہد کو مت دکھا آنکھیں بغیر رندوں کے کیا جانے قدر جام کو شیخ جو آوے وقت نماز اس کے سامنے مرا شوخ کروں میں سجدہ اگر پھیرے سر سلام کو شیخ

مزید پڑھیے

جوں گل ازبسکہ جنوں ہے مرا سامان کے سات

جوں گل ازبسکہ جنوں ہے مرا سامان کے سات چاک کرتا ہوں میں سینے کو گریبان کے سات چشم تر ہیں مری صحرا ہے جنوں کی ممنوں ربط ہے رونے کوں میرے اسی دامان کے سات بے خودی کا ہے مزہ شور اسیری سے مجھے رنگ اڑے ہے مرا زنجیر کی افغان کے سات جوں بگولہ ہوں میں منت کش صحرا گردی زندگانی ہے مری سیر ...

مزید پڑھیے

دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھب

دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھب کہ ہو جہاں پہ نہ ظاہر یہ ہے مرا مذہب مجھے غرض نہیں جز یہ کہ یار نالہ سے اثر جلاوے ہے جوں دود شعلہ یارب کہا میں رات پتنگوں کو شمع کے آگے گرو ہو آنکھ میں معشوق کی یہ کیا ہے ادب تو کہنے لاگے اے عزلتؔ مرے سے عشق کے نئیں نظر میں پاس ادب ہم کو جلنا ہے ...

مزید پڑھیے

درد جوں شمع ملے ہے شب ہجراں مجھ کو

درد جوں شمع ملے ہے شب ہجراں مجھ کو کھا گئے رو رو مرے دیدۂ گریاں مجھ کو نو بہار آئی مبارک ہوئے جوں غنچہ و گل خاطر جمع تجھے حال پریشاں مجھ کو گر دم صبح شہیدان چمن سیر کرو تیغ قاتل ہے دم منت احساں مجھ کو جوں بگھولا ہے مجھے خجلت عصیاں دم فخر بال پرواز ہوئے دست پشیماں مجھ کو آفتاب‌ ...

مزید پڑھیے

بندے ہیں تیری چھب کے مہ سے جمال والے

بندے ہیں تیری چھب کے مہ سے جمال والے سب گل سے گال والے سنبل سے بال والے سیدھی ادا بھی بھولے گئے داغ ہو چھبیلے اے ٹیڑھی چال والے ٹھوڑی کے خال والے مت ہو تو نیلا پیلا بخت سیہ کر اجلی اے الفی شال والے بھگوے رومال والے کر سرمہ خاک ساری دل کی نین سے دیکھا چل گئے وہ حال والے رہ گئے ہیں ...

مزید پڑھیے

ایک اشارے میں بدل جاتا ہے میخانے کا نام

ایک اشارے میں بدل جاتا ہے میخانے کا نام چشم ساقی تیری گردش سے ہے پیمانے کا نام پہلے تھا موج بہاراں دل کے لہرانے کا نام مسکن برق تپاں ہے اب تو کاشانے کا نام آس جس کی ابتدا تھی یاس جس کی انتہا اے دل ناکام کیا ہو ایسے افسانے کا نام رنگ لا کر ہی رہا آخر محبت کا اثر آج تو ان کی زباں پر ...

مزید پڑھیے

مست نظروں کا التفات نہ پوچھ

مست نظروں کا التفات نہ پوچھ جھوم اٹھی دل کی کائنات نہ پوچھ اپنی نظروں کی کیفیات نہ پوچھ مسکرا دی مری حیات نہ پوچھ عشق میں ہر قدم ہے اک منزل راہ الفت کی مشکلات نہ پوچھ میں ہوں اور آپ کا تصور ہے اب مری رونق حیات نہ پوچھ جیسے ہر لحظہ دیکھتے ہو مجھے مری مشق تصورات نہ پوچھ حرف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 289 سے 4657