شاعری

سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے

سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے مرے کھو گئے کارواں کیسے کیسے وہ چتون وہ ابرو وہ قد یاد سب ہے سناؤں میں گزرے بیاں کیسے کیسے مرے داغ سوزاں کا مضموں نہ سوچو جلے کہہ کے آتش‌ زباں کیسے کیسے رہا عشق سے نام مجنوں کا ورنہ تہ خاک ہیں بے نشاں کیسے کیسے شب وصل میں مہ کو عریاں کریں گے عیاں ...

مزید پڑھیے

اے نسیم سحری ہم تو ہوا ہوتے ہیں

اے نسیم سحری ہم تو ہوا ہوتے ہیں دم جو گھٹتا ہے محبت میں خفا ہوتے ہیں ہم فقیرانہ غزل کہتے ہیں اے شاہ جہاں خیر ہو خیر ہو مصروف دعا ہوتے ہیں بحر عالم میں یہ انسان ہیں مانند حباب دم میں بنتے ہیں یہ دم بھر میں فنا ہوتے ہیں ہم غریبوں کو نہ اس بزم سے اٹھوا اے بت صحبت عام میں خاصان خدا ...

مزید پڑھیے

جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتی

جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتی اس وقت مری جان مروت نہیں آتی نزدیک بھی جا کر نہ ملا پردہ نشیں سے جا دور ہو اے دل تجھے چاہت نہیں آتی اک ہم ہیں کہ ہیں نام مبارک پہ تصدق تم کو تو کبھی دیکھ کے الفت نہیں آتی یا رنج ہے یا ہجر ہے یا حزن ہے یا غم کچھ شکل بنا کر تو مصیبت نہیں آتی کیا ...

مزید پڑھیے

الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کا

الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کا دریا کا نہ جنگل کا سما کا نہ زمیں کا اقلیم معانی میں عمل ہو گیا میرا دنیا میں بھروسہ تھا کسے تاج و نگیں کا تقدیر نے کیا قطب فلک مجھ کو بنایا محتاج مرا پاؤں رہا خانۂ زیں کا اک بوریے کے تخت پہ اوقات بسر کی زاہد بھی مقلد رہا سجادہ نشیں کا اخترؔ ...

مزید پڑھیے

غنچۂ دل کھلے جو چاہو تم

غنچۂ دل کھلے جو چاہو تم گلشن دہر میں صبا ہو تم بے مروت ہو بے وفا ہو تم اپنے مطلب کے آشنا ہو تم کون ہو کیا ہو کیا تمہیں لکھیں آدمی ہو پری ہو کیا ہو تم پستۂ لب سے ہم کو قوت دو دل بیمار کی دوا ہو تم ہم کو حاصل کسی کی الفت سے مطلب دل ہو مدعا ہو تم یہی عاشق کا پاس کرتے ہیں کیوں جی کیوں ...

مزید پڑھیے

دستار فقیرانہ اک تاج سے افزوں ہے

دستار فقیرانہ اک تاج سے افزوں ہے راہ طرح خم خانہ معراج سے افزوں ہے ایسے ہی حکومت ہے ایسے ہی عبادت ہے یہ شاہ فقیرانہ محتاج سے افزوں ہے چلتے ہو پرستاں میں پریاں ہیں بہت شائق اب حسن پری خانہ پھر آج سے افزوں ہے کیا غم ہے چھلک جائے ساغر مرا اے ساقی وہ تاکنا پیمانہ آماج سے افزوں ...

مزید پڑھیے

برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لا

برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لا اے باد صبا خاک در یار ادھر لا صیاد سے کیا فکر ہے اے طائر مضموں کاغذ کے تجھے پر بھی لگیں کام تو کر لا لے جا دل بے تاب نشانی مری قاصد سیماب سے ہے مرتبۂ عشق خبر لا یہ کان ہیں مشتاق خبر قاصد جاناں آنکھوں کو بھی دیدار ہے منظور نظر لا حسرت ہے کہیں ...

مزید پڑھیے

لجیائی سے نازک ہے اے جان بدن تیرا

لجیائی سے نازک ہے اے جان بدن تیرا اب چھو نہیں سکتے ہم پھولا یہ چمن تیرا آنکھیں تری نرگس ہیں رخسار ترے گل ہیں چٹواتا ہے ہونٹھوں کو یہ سیب ذقن تیرا ناخن ترے سورج ہیں اور چاند ہتھیلی ہے آئینہ خود رو ہے شفاف بدن تیرا دنداں ترے موتی ہیں خورشید سا ماتھا ہے در جھڑتے ہیں باتوں میں ...

مزید پڑھیے

گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیں

گرمیاں شوخیاں کس شان سے ہم دیکھتے ہیں کیا ہی نادانیاں نادان سے ہم دیکھتے ہیں غیر سے بوسہ زنی اور ہمیں دشنامیں منہ لیے اپنا پشیمان سے ہم دیکھتے ہیں فصل گل اب کی جنوں خیز نہیں صد افسوس دور ہاتھ اپنا گریبان سے ہم دیکھتے ہیں آج کس شوخ کی گلشن میں حنا بندی ہے سرو رقصاں ہیں گلستان ...

مزید پڑھیے

کوئی ہر مرض کی دوا بانٹتا ہے

کوئی ہر مرض کی دوا بانٹتا ہے خلوص و محبت وفا بانٹتا ہے مسیحائی پر اس کی قربان جاؤ مرض دینے والا شفا بانٹتا ہے نہ دیکھا ہے جس نے کبھی اپنا چہرہ وہی شہر میں آئینہ بانٹتا ہے سمجھتا ہے خود کو جو بہلول دانا چلو چل کے دیکھیں وہ کیا بانٹتا ہے یہاں کون کیا کس کو دیتا ہے ہر اک مقدر کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 284 سے 4657