شاعری

زہرہ سہیل شمس خور بدر بہا تو کون ہے

زہرہ سہیل شمس خور بدر بہا تو کون ہے ہوش ربا ستم گر مہ لقا تو کون ہے بھوت خبیث نازنیں گل پری بلا کہوں دل لگی اچھی یہ نہیں مجھ سے ہنسا تو کون ہے راگ خیال گاتا ہے رقص خوشی دکھاتا ہے دور سے کیوں رجھاتا ہے پاس تو آ تو کون ہے بند ہیں لب جواب میں گھر گیا میں عذاب میں آیا جو میرے خواب میں ...

مزید پڑھیے

سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھا

سن رکھو اسے دل کا لگانا نہیں اچھا دنیا یہ بری ہے یہ زمانہ نہیں اچھا سب لوٹ لیا ایک نظر دیکھ کے مجھ کو اے دز‌د نگہ دل کا چرانا نہیں اچھا کیوں جھینپتے ہو غیروں میں ہاں پھر تو کہو وہ گالی ہی تو تھی بات بنانا نہیں اچھا عریاں بدنی پر نہ حبابوں کی پڑے آنکھ دریا میں مری جان نہانا نہیں ...

مزید پڑھیے

نایاب ہے سکون دل بے قرار میں

نایاب ہے سکون دل بے قرار میں بسمل کی ہے تڑپ مرے کنج مزار میں گلزار دہر میں چمن بے خزاں ہوں میں لالے کا رنگ ہے جگر داغ دار میں کانٹا ملا ہے گونج کا زلفوں کا جال ہے بالی کی مچھلی ہاتھ لگی ہے شکار میں نو لاکھ کی جبھی ہوئی قیمت اسے نصیب موتی تھے میرے آبلوں کے ان کے ہار میں ایام عیش ...

مزید پڑھیے

بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرو

بتو خدا سے ڈرو سنگ دل سوا نہ کرو یہ موم دل ہے ہمارا اسے جدا نہ کرو نہ ٹھنڈی سانسیں بھرو دور مے میں ہم نفساں یہ آگ بھڑکے گی مے خانے میں ہوا نہ کرو ہم آنکھیں بند کریں پھر دکھاؤ رنگینی جو چور پکڑا ہے تم شوخئ حنا نہ کرو چکور ہم کو بنایا دکھا کے عریانی یہ کھیل چاندنی میں آ کے مہ لقا نہ ...

مزید پڑھیے

عشق سے کچھ کام نے کچھ کوئے جاناں سے غرض

عشق سے کچھ کام نے کچھ کوئے جاناں سے غرض گل سے مطلب ہے نہ کچھ خار بیاباں سے غرض عشق کی سرکار کو بے باک بالکل کر چکے اب نہ کچھ زنجیر سے مطلب نہ زنداں سے غرض کس سے ہم جھگڑیں نہیں اپنا کسی ملت میں میل عشق کے بندے کو کیا گبر و مسلماں سے غرض عالم وحشت میں عریانی کا جامہ چاہئے کام ...

مزید پڑھیے

سنا ہے کوچ تو ان کا پر اس کو کیا کہیے

سنا ہے کوچ تو ان کا پر اس کو کیا کہیے زبان خلق کو نقارۂ خدا کہیے مسی لگا کے سیاہی سے کیوں ڈراتے ہو اندھیری راتوں کا ہم سے تو ماجرا کہیے ہزار راتیں بھی گزریں یہی کہانی ہو تمام کیجیے اس کو نہ کچھ سوا کہیے ہوا ہے عشق میں خاصان حق کا رنگ سفید یہ قتل عام نہیں شوخئ حنا کہیے تراب پائے ...

مزید پڑھیے

کبھی لطف زبان خوش بیاں تھے

کبھی لطف زبان خوش بیاں تھے زمین شعر کے ہم آسماں تھے لگا ٹھوکر نہ پائے ناز سے تو کبھی تاج سر ہندوستاں تھے زمیں پر چرخ دیتا ہے عبث تو کبھی پیر فلک ہم بھی جواں تھے زر گل بن گیا نالہ ہمارا چمن میں بھی ہمیں آتش فشاں تھے مکیں تھی روح چھوڑا جسم جس دم کرائے کے یہ سب قصر و مکاں تھے وہی ...

مزید پڑھیے

اللہ اے بتو ہمیں دکھلائے لکھنؤ

اللہ اے بتو ہمیں دکھلائے لکھنؤ سوتے میں بھی یہ کہتے ہیں ہم ہائے لکھنؤ ایسا ہوا ہوں ہجر میں اس کے نحیف و زار دیکھے اگر مجھے وہیں شرمائے لکھنؤ آئے نہ میرے پاس تو میں آپ ہی چلوں مجھ کو خدا کرے کہیں بلوائے لکھنؤ کلکتہ کے حسینوں کو جب دیکھ لیتا ہوں اس وقت دل میں ہوتا ہے سودائے ...

مزید پڑھیے

محبت سے بندہ بنا لیجئے گا

محبت سے بندہ بنا لیجئے گا بتا دیجیے کیا خدا لیجئے گا کہاں تک یہ چھلا چھپول رہے گی بتا دیجیے ہم سے کیا لیجئے گا اگر کھوٹی الفت سے ہے تم کو دھوکہ کسوٹی پر اس کو چڑھا لیجئے گا گلوری رقیبوں نے بھیجی ہے صاحب کسی اور کو بھی کھلا لیجئے گا مچلکے کا کیوں نام آیا زباں پر محبت کا ہم سے ...

مزید پڑھیے

یاد میں اپنے یار جانی کی

یاد میں اپنے یار جانی کی ہم نے مر مر کے زندگانی کی دوستوں کو عدو کیا ہم نے کر کے تعریف یار جانی کی کیوں نہ رسوا کرے زمانے میں یہ کہانی غم نہانی کی روح ہوے گی حشر میں صاحب اک نشانی سرائے فانی کی خاکساری سے بڑھ گیا انساں ارض پر سیر آسمانی کی زرد صورت پہ ہجر میں نہ ہنسو شرح ہے رنگ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 283 سے 4657