نئے گل کھلے نئے دل بنے نئے نقش کتنے ابھر گئے
نئے گل کھلے نئے دل بنے نئے نقش کتنے ابھر گئے وہ پیمبران صد انقلاب جدھر جدھر سے گزر گئے جو شہید راہ وفا ہوئے وہ اسی خوشی میں مگن رہے کہ جو دن تھے ان کی حیات کے غم زندگی میں گزر گئے ابھی ساتھ ساتھ تو تھے مگر مجھے میرے حال پہ چھوڑ کر مرے ہم جلیس کہاں گئے مرے ہم صفیر کدھر گئے مری ...