ریت کے اک شہر میں آباد ہیں در در کے لوگ
ریت کے اک شہر میں آباد ہیں در در کے لوگ بے زمیں بے آسماں بے پاؤں کے بے سر کے لوگ میرا گھائل جسم ہے میری رہائش کا پتہ میں جہاں رہتا ہوں رہتے ہیں وہاں پتھر کے لوگ ایک اک لمحہ ہے قطرہ زندگی کے خون کا عافیت کا سانس بھی لیتے ہیں تو ڈر ڈر کے لوگ اور دیواروں سے دیواریں نکلتی ہیں ...