عاشقی کے آشکارے ہو چکے
عاشقی کے آشکارے ہو چکے حسن یکتا کے پکارے ہو چکے اٹھ گیا پردہ جو فی مابین تھا من و تو کے تھے اشارے ہو چکے ہے بہار گلشن دنیا دو روز بلبل و گل کے نظارے ہو چکے چل دیئے اٹھ کر جہاں چاہے وہاں ایک رنگی کے سہارے ہو چکے یاس سے کہہ دیں گے وقت قتل ہم ہم تو اے پیارے تمہارے ہو چکے واصل ...