شاعری

عاشقی کے آشکارے ہو چکے

عاشقی کے آشکارے ہو چکے حسن یکتا کے پکارے ہو چکے اٹھ گیا پردہ جو فی مابین تھا من و تو کے تھے اشارے ہو چکے ہے بہار گلشن دنیا دو روز بلبل و گل کے نظارے ہو چکے چل دیئے اٹھ کر جہاں چاہے وہاں ایک رنگی کے سہارے ہو چکے یاس سے کہہ دیں گے وقت قتل ہم ہم تو اے پیارے تمہارے ہو چکے واصل‌ ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈ ہم ان کو پریشان بنے بیٹھے ہیں

ڈھونڈ ہم ان کو پریشان بنے بیٹھے ہیں وہ تو پردہ لئے انسان بنے بیٹھے ہیں ذوق حاصل انہیں ہوتا ہے ہر یک صورت سے رنگ‌ و بے رنگی سے ہر آن بنے بیٹھے ہیں چھوڑ مسجد کو گئے دیر میں پوجا کرنے تھے مسلمان وہ رہبان بنے بیٹھے ہیں بات یہ ہے کہ ہیولیٰ سے ہے صورت پیدا ہر یک اجسام میں رحمان بنے ...

مزید پڑھیے

اس کی یاد اور درد کی سوغات میرے ساتھ تھی

اس کی یاد اور درد کی سوغات میرے ساتھ تھی اس سے بڑھ کر ایک تنہا رات میرے ساتھ تھی مجھ کو تنہائی میں بھی احساس تنہائی نہ تھا ہر گلی میں گردش حالات میرے ساتھ تھی رفتہ رفتہ بند کلیوں کے بھی لب کھلنے لگے آب صبر و حدت اثبات میرے ساتھ تھی بند کھڑکی پر بھی خالدؔ ایک دن پہرے لگے ایسی بھی ...

مزید پڑھیے

روشنی کا قالب جب تیرگی میں ڈھلتا ہے

روشنی کا قالب جب تیرگی میں ڈھلتا ہے خواہشوں کے سینے میں میرا دل مچلتا ہے ریگزار سوچوں کا سورجوں کی زد میں ہے جسم آرزوؤں کا ہولے ہولے جلتا ہے جب بھی کوئی ہم راہی ساتھ چھوڑ جاتا ہے مدتوں خیال اس کا ساتھ ساتھ چلتا ہے عمر بھر کی قسمت کب اتنا تو ٹھہر جاتا جتنا ایک مفلس کے گھر چراغ ...

مزید پڑھیے

اپنا پتہ مجھے بتا بہر خدا تو کون ہے

اپنا پتہ مجھے بتا بہر خدا تو کون ہے تجھ پہ ہیں سارے مبتلا بہر خدا تو کون ہے نام خدا سنا کیا تیرے سوا نہیں ملا ساری صفت سے ہے بھرا بہر خدا تو کون ہے تیرا حسد تو نام تھا ہو گیا بندہ کس طرح تیری ہی ذات ہے بقا بہر خدا تو کون ہے تیرے سے ہست کل ہوئی تھی تو عدم میں بے نشاں ہادی مظل ہے ...

مزید پڑھیے

آپ کو بھول کے میں یاد خدا کرتا ہوں

آپ کو بھول کے میں یاد خدا کرتا ہوں خود انا کہتا ہوں موجود بقاء کرتا ہوں کفر و اسلام کا موجد ہوا بندہ ہو کر پھر وہ میں کون ہوں جو خود ہوں کہا کرتا ہوں علم اعداد سے ہوتا ہے حجاب اکبر ایک ہر حال میں ہوں کل میں رہا کرتا ہوں ہوں بصارت میں نہاں عذر ہے بینائی کا روز روشن میں ہی خود آپ ...

مزید پڑھیے

شرک کا پردہ اٹھایا یار نے

شرک کا پردہ اٹھایا یار نے ہم کو جب اپنا بنایا یار نے روز روشن کی طرح دیکھا اسے گرچہ منہ اپنا چھپایا یار نے ظاہراً موجود ہے ہر شان سے ہر طرح رخ کو دکھایا یار نے خویش و بیگانہ فقط کہنے کو ہے اپنا دیوانہ بنایا یار نے بندہ بن جانا فقط چھپنے کو ہے گھر کو ویرانہ بنایا یار نے پھیر ...

مزید پڑھیے

زخم میرے دل پہ اک ایسا لگا

زخم میرے دل پہ اک ایسا لگا اپنی جاں کا روح کو دھڑکا لگا اس کا چہرہ بھی جو اوروں سا لگا آسماں پہ چاند مٹی کا لگا دیکھتا کیا کیا کنار آب جو خود میں اپنے آپ کو الٹا لگا خود نمائی کے بھرے اک شہر میں اپنے قد سے ہر کوئی اونچا لگا روشنی دل کی اچانک گل ہوئی خود کو تھوڑی دیر میں اندھا ...

مزید پڑھیے

ذہن کا کچھ منتشر تو حال کا خستہ رہا

ذہن کا کچھ منتشر تو حال کا خستہ رہا کتنا میری ذات سے وہ شخص وابستہ رہا صبح کاذب روشنی کے جال میں آنے لگی سیم گوں سورج اجالے پر کمر بستہ رہا دیکھنے میں کچھ ہوں میں محسوس کرنے میں ہوں کچھ چشم بینا پر مرا یہ راز سربستہ رہا اپنے زنداں سے نکلنا اپنی طاقت میں نہیں ہر بشر اپنے لیے ...

مزید پڑھیے

بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیا

بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیا ایسی چلیں ہوائیں کہ موسم پلٹ گیا پتھر پہ گر کے آئینہ ٹکڑوں میں بٹ گیا کتنا مرے وجود کا پیکر سمٹ گیا کٹتا نہیں ہے سرد و سیہ رات کا پہاڑ سورج تھا سخت دھوپ تھی دن پھر بھی کٹ گیا چھالیں شجر شجر سے اترنے کو آ گئیں بوسیدہ پیرہن ہوا اتنا کہ پھٹ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 262 سے 4657