شاعری

انہیں قید کرنے کی کوشش ہے کیسی

انہیں قید کرنے کی کوشش ہے کیسی خلا میں صداؤں کی بندش ہے کیسی نہاں مجھ میں ہے اور میرے بدن کا لہو چاٹتی ہے جو خواہش ہے کیسی مجھے مسکرانے کی کس نے سزا دی مری ذات پر یہ نوازش ہے کیسی ملی خوشبوؤں کے جزیرے کی دعوت مجھے پھر رلانے کی سازش ہے کیسی مقدر میں ہے جب ہمارے اندھیرے نظر میں ...

مزید پڑھیے

لغزشیں تنہائیوں کی سب بتا دی جائیں گی

لغزشیں تنہائیوں کی سب بتا دی جائیں گی رنگتیں چہروں کی اس صورت اڑا دی جائیں گی خشک پیڑوں پر نئے موسم اگانے کے لیے زرد پتوں کی یہ تحریریں مٹا دی جائیں گی قحط نیندوں کا پڑے گا چاہتوں کے کھیت میں خواب کی فصلیں اگر ساری جلا دی جائے گی ان سرابوں میں مقید مجھ سے قیدی کے لیے کیا فصیلیں ...

مزید پڑھیے

سر پر دکھ کا تاج سہانا لگتا ہے

سر پر دکھ کا تاج سہانا لگتا ہے میرا چہرہ کیا شاہانا لگتا ہے جب میں کچا پھل تھا تو محفوظ تھا میں اب جو پکا تو مجھ پہ نشانہ لگتا ہے شہر دل کے خواب کی کیا تعبیر کروں کبھی نیا یہ کبھی پرانا لگتا ہے ہاتھوں میں کشکول لیے تو دے نہ صدا بہروں کا تو یہ کاشانہ لگتا ہے آئینے میں دیکھ کے یہ ...

مزید پڑھیے

آپ اپنا نشاں نہیں معلوم

آپ اپنا نشاں نہیں معلوم لٹ گئے ہم کہاں نہیں معلوم لے چلا ہے جنون شوق کدھر ہوگی منزل کہاں نہیں معلوم دوڑتا ہوں غبار کے پیچھے ہے کہاں کارواں نہیں معلوم جھک گیا سر بصد خلوص و نیاز کس کا ہے آستاں نہیں معلوم ایک ہلچل ہے خانۂ دل میں کون ہے میہماں نہیں معلوم برق چمکی تھی ایک بار ...

مزید پڑھیے

ہم روایت کے سانچے میں ڈھلتے بھی ہیں

ہم روایت کے سانچے میں ڈھلتے بھی ہیں اور طرز کہن کو بدلتے بھی ہیں جادۂ عام پر بھی ہے اپنی نظر جادۂ عام سے بچ کے چلتے بھی ہیں راہبانہ قناعت کے خوگر سہی والہانہ کبھی ہم مچلتے بھی ہیں دامن نشہ دیتے نہیں ہات سے رند گرتے بھی ہیں اور سنبھلتے بھی ہیں یوں تو اخفائے غم کا نمونہ ہیں ...

مزید پڑھیے

ہر پیکر رعنائی نے مجھے تیری ہی یاد دلائی ہے

ہر پیکر رعنائی نے مجھے تیری ہی یاد دلائی ہے کچھ عشق مرا ہرجائی ہے کچھ حسن ترا ہرجائی ہے ہاں سوچ سمجھ کر جان وفا میں وہ پتھر ہوں کنارے کا جو موج بھنور سے نکلی ہے اٹھ کر مجھ سے ٹکرائی ہے ٹھہراؤ ہے وضع ساحل میں طوفاں تو نہیں برپا دل میں کجلا تو چلا ہے انگارہ ایسے میں ہوا پروائی ...

مزید پڑھیے

سارا بدن ہے خون سے کیوں تر اسے دکھا

سارا بدن ہے خون سے کیوں تر اسے دکھا شہ رگ کٹی ہے جس سے وہ نشتر اسے دکھا آئے گی کیسے نیند دکھا وہ ہنر اسے پھر اس کے بعد خواب کو چھو کر اسے دکھا آنکھوں سے اپنے اشک کے تاروں کو توڑ کر سوکھی ندی کے درد کا منظر اسے دکھا دکھ سکھ جو دھوپ چھاؤں کا اک کھیل ہے تو پھر سورج کے ساتھ بادلوں کے ...

مزید پڑھیے

کورے کاغذ کی طرح بے نور بابوں میں رہا

کورے کاغذ کی طرح بے نور بابوں میں رہا تیرگی کا حاشیہ بن کر کتابوں میں رہا میں اذیت ناک لمحوں کے عتابوں میں رہا درد کا قیدی بنا خانہ خرابوں میں رہا جس قدر دی جسم کو مقروض سانسوں کی زکوٰۃ کیا بتاؤں جسم اتنا ہی عذابوں میں رہا بے صفت صحرا ہوں کیوں صحرا نوردوں نے کہا ہر قدم پر جب کہ ...

مزید پڑھیے

یہ ہم نے مانا کہ ہوگا وصال یار نصیب

یہ ہم نے مانا کہ ہوگا وصال یار نصیب دل حزیں کو مگر ہے کہاں قرار نصیب یہ اپنا اپنا مقدر ہے اور کیا کہیے خزاں نصیب کوئی ہے کوئی بہار نصیب کوئی تو ایک نظر کے لیے ترستا ہے کسی کو ہوتا ہے دیدار بار بار نصیب نہ آرزو تری کرتے نہ آبرو کھوتے خود اپنے دل پہ اگر ہوتا اختیار نصیب سنا تو ہے ...

مزید پڑھیے

داغہائے دل کی تابانی گئی

داغہائے دل کی تابانی گئی ان کے جلووں کی فراوانی گئی آشنا نا آشنا سے ہو گئے اپنی صورت بھی نہ پہچانی گئی ایک دل میں سیکڑوں غم کا ہجوم پھر بھی اس گھر کی نہ ویرانی گئی اب کہاں وہ جذبۂ مہر و وفا آدمی سے خوئے انسانی گئی آئینے میں وقت کے اے ہم نفس دوستوں کی شکل پہچانی گئی رہ گئے ہوش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 232 سے 4657