درد بہتا ہے دریا کے سینے میں پانی نہیں
درد بہتا ہے دریا کے سینے میں پانی نہیں اس کا چٹان پہ سر پٹکنا کہانی نہیں بات پہنچے سماعت کو تاثیر دے کس طرح لفظ ہیں اور لفظوں میں زور بیانی نہیں ٹوٹ جائے گی دیوار جتنی بھی مضبوط ہو اس کے احساس کی دھوپ بھی سائبانی نہیں کیا سمجھ بوجھ کر ہم بھی اپنا خدا ہو گئے جیسے دنیا ہمیشہ کی ...