شاعری

گل ہیں تو آپ اپنی ہی خوشبو میں سوچئے

گل ہیں تو آپ اپنی ہی خوشبو میں سوچئے جو کچھ بھی سوچنا ہے وہ اردو میں سوچئے دل میں اگر نہیں ہے کسی زخم کی نمود سرخی کہاں سے آ گئی آنسو میں سوچئے یہ مسئلہ نہیں کہ جلیں گے کہاں چراغ کیسے ہوائیں آئیں گی قابو میں سوچئے یوں سرسری گزریے نہ اس دشت کرب سے وحشت کہ اضطراب ہے آہو میں ...

مزید پڑھیے

بے حسی پر حسیت کی داستاں لکھ دیجئے

بے حسی پر حسیت کی داستاں لکھ دیجئے دھوپ سے اب برف پر آب رواں لکھ دیجئے کاتب تقدیر ٹھہرے آپ کو روکے گا کون جو بھی انکر سر اٹھائے رائیگاں لکھ دیجئے آپ کی آنکھوں میں چبھ جائے گی ورنہ روشنی ہم چراغوں کے مقدر میں دھواں لکھ دیجئے مشتہر ہو جاؤں گا فرقہ پرستی کے لئے میری پیشانی پہ آپ ...

مزید پڑھیے

امیر شہر اس اک بات سے خفا ہے بہت

امیر شہر اس اک بات سے خفا ہے بہت کہ شہر بھر میں سگ‌ درد چیختا ہے بہت ہر ایک زخم سے زخموں کی کونپلیں پھوٹیں جو باغ تم نے لگایا تھا اب ہرا ہے بہت ذرا سی نرم روی سے پہنچ گئے دل تک تناؤ تھا تو سمجھتے تھے فاصلہ ہے بہت جو دم گھٹے تو شکایت نہ کیجیئے صاحب کہ سانس لینے کو زہروں بھری ہوا ...

مزید پڑھیے

بدن پر سبز موسم چھا رہے ہیں

بدن پر سبز موسم چھا رہے ہیں مگر ارمان سب مرجھا رہے ہیں پرانے غم کہاں ہجرت کریں گے دکانوں پر نئے غم آ رہے ہیں غلطیاں اگلے وقتوں سے ہوئی ہیں مگر صدیوں سے ہم پچھتا رہے ہیں یہاں ہے بوریا اب بھی ندارد بہت دن بعد وہ گھر آ رہے ہیں میاں بیرون و باطن ایک رکھو منافق بھی ہمیں سمجھا رہے ...

مزید پڑھیے

چلچلاتی دھوپ نے غصہ اتارا ہر جگہ

چلچلاتی دھوپ نے غصہ اتارا ہر جگہ چڑھ گیا اونچائی پر ذہنوں کا پارا ہر جگہ اس زمیں پر ہم جہاں بھی ہیں وہاں تاراج ہیں آج کل گردش میں ہے اپنا ستارا ہر جگہ اپنی کیا گنتی فرشتے بھی وہاں مارے گئے خواہشوں نے مینکا کا روپ دھارا ہر جگہ مانگ لیتی ہے ہوا اچھے مواقع دیکھ کر اک نہ اک مٹھی ...

مزید پڑھیے

بھلے ہی آنکھ مری ساری رات جاگے گی

بھلے ہی آنکھ مری ساری رات جاگے گی سجا سجا کے سلیقے سے خواب دیکھے گی اجالا اپنے گھروندے میں رہ گیا تو رات کہاں قیام کرے گی کہاں سے گزرے گی ہماری آنکھ سمندر کھنگالنے والی یقین ہے کہ کبھی موتیوں سے کھیلے گی خود اعتمادی ذرا اعتدال میں رکھیو الٹ گئی تو وہ اپنی زبان بھولے گی سہانی ...

مزید پڑھیے

رکھا ہے بزم میں اس نے چراغ کر کے مجھے

رکھا ہے بزم میں اس نے چراغ کر کے مجھے ابھی تو سننا ہے افسانے رات بھر کے مجھے یہ بات تو مرے خواب و خیال میں بھی نہ تھی ستائیں گے در و دیوار میرے گھر کے مجھے میں چاہتا تھا کسی پیڑ کا گھنا سایہ دعائیں دھوپ نے بھیجی ہیں صحن بھر کے مجھے وہ میرا ہاتھ تو چھوڑیں کہ میں قدم موڑوں بلا رہے ...

مزید پڑھیے

شب کے غم دن کے عذابوں سے الگ رکھتا ہوں

شب کے غم دن کے عذابوں سے الگ رکھتا ہوں ساری تعبیروں کو خوابوں سے الگ رکھتا ہوں جو پڑھا ہے اسے جینا ہی نہیں ہے ممکن زندگی کو میں کتابوں سے الگ رکھتا ہوں اس کی تقدیس پہ دھبہ نہیں لگنے دیتا دامن دل کو حسابوں سے الگ رکھتا ہوں یہ عمل ریت کو پانی نہیں بننے دیتا پیاس کو اپنی سرابوں سے ...

مزید پڑھیے

درد کی دھوپ بھرے دل کی تمازت لے کر

درد کی دھوپ بھرے دل کی تمازت لے کر کیسے جائے کوئی احساس کی ہجرت لے کر پھر کہاں جائیے اب بیٹھیے ماتم کیجے دل کے ہاتھوں میں یہ انمول شرافت لے کر کیا کہیں اب تو نکلنا بھی بہت مشکل ہے اپنے کاندھے پہ خود اپنی ہی ضمانت لے کر پیٹ کی بھوک تماشے پہ تماشہ کر لے ہم تھکیں گے نہیں اس بھوک کی ...

مزید پڑھیے

اک ندی میں سیکڑوں دریا کی طغیانی ملی

اک ندی میں سیکڑوں دریا کی طغیانی ملی ڈوبنے والے کو مر جانے کی آسانی ملی حاشیہ بردار سے پوچھا سمندر نے میاں آج تک اک موج بھی تم کو نہ دیوانی ملی سرپھری پاگل ہوا کو روکنا دشوار تھا ایک ہی دن کے لیے تھی اس کو سلطانی ملی تشنہ لب تالاب نے بادل کو پھر دھوکا دیا پھر وہی صحرا وہی صحرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 230 سے 4657