جب بھی وہ مجھ سے ملا رونے لگا
جب بھی وہ مجھ سے ملا رونے لگا اور جب تنہا ہوا رونے لگا دوستوں نے ہنس کے جب بھی بات کی وہ ہنسا پھر چپ رہا رونے لگا جب بھی میرے پاؤں میں کانٹا چبھا پتہ پتہ باغ کا رونے لگا آبیاری کے لیے آیا تھا کون ہر شجر مرجھا گیا رونے لگا چاند نکلا جب محرم کا کہیں چپ سے دشت کربلا رونے لگا اس پہ ...