شاعری

جب بھی وہ مجھ سے ملا رونے لگا

جب بھی وہ مجھ سے ملا رونے لگا اور جب تنہا ہوا رونے لگا دوستوں نے ہنس کے جب بھی بات کی وہ ہنسا پھر چپ رہا رونے لگا جب بھی میرے پاؤں میں کانٹا چبھا پتہ پتہ باغ کا رونے لگا آبیاری کے لیے آیا تھا کون ہر شجر مرجھا گیا رونے لگا چاند نکلا جب محرم کا کہیں چپ سے دشت کربلا رونے لگا اس پہ ...

مزید پڑھیے

میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوں

میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوں پھر اک جدید خاکہ ترتیب دے رہا ہوں ہر ساز کا ترنم یکسانیت نما ہے اک تازہ کار نغمہ ترتیب دے رہا ہوں جس میں تری تجلی خود آ کے جا گزیں ہو دل میں اک ایسا گوشہ ترتیب دے رہا ہوں لمحوں کے سلسلے میں جیتا رہا ہوں لیکن میں اپنا خاص لمحہ ترتیب دے رہا ...

مزید پڑھیے

بڑھے کچھ اور کسی التجا سے کم نہ ہوئے

بڑھے کچھ اور کسی التجا سے کم نہ ہوئے مرے حریف تمہاری دعا سے کم نہ ہوئے سیاہ رات میں دل کے مہیب سناٹے خروش نغمۂ شعلہ نوا سے کم نہ ہوئے وطن کو چھوڑ کے ہجرت بھی کس کو راس آئی مسائل ان کے وہاں بھی ذرا سے کم نہ ہوئے فراز خلق سے اپنا لہو بھی برسایا غبار پھر بھی دلوں کی فضا سے کم نہ ...

مزید پڑھیے

نقاب اس نے رخ حسن زر پہ ڈال دیا

نقاب اس نے رخ حسن زر پہ ڈال دیا کہ جیسے شب کا اندھیرا سحر پہ ڈال دیا سماعتیں ہوئیں پر شوق حادثوں کے لیے ذرا سا رنگ بیاں جب خبر پہ ڈال دیا تمام اس نے محاسن میں عیب ڈھونڈ لیے جو بار نقد و نظر دیدہ ور پہ ڈال دیا اب اس کو نفع کہیں یا خسارۂ الفت جو داغ اس نے دل معتبر پہ ڈال دیا قریب و ...

مزید پڑھیے

تمام رنگ جہاں التجا کے رکھے تھے

تمام رنگ جہاں التجا کے رکھے تھے لہو لہو وہیں منظر انا کے رکھے تھے کرم کے ساتھ ستم بھی بلا کے رکھے تھے ہر ایک پھول نے کانٹے چھپا کے رکھے تھے سکون چہرے پہ ہر خوش ادا کے رکھے تھے سمندروں نے بھی تیور چھپا کے رکھے تھے مری امید کا سورج کہ تیری آس کا چاند دیے تمام ہی رخ پر ہوا کے رکھے ...

مزید پڑھیے

خوش گماں ہر آسرا بے آسرا ثابت ہوا

خوش گماں ہر آسرا بے آسرا ثابت ہوا زندگی تجھ سے تعلق کھوکھلا ثابت ہوا جب شکایت کی کبیدہ خاطری حاصل ہوئی صبر محرومی مرا حرف دعا ثابت ہوا بے طلب ملتی رہیں یوں تو ہزاروں نعمتیں تھے طلب کی آس میں برہم تو کیا ثابت ہوا روبرو ہوتے ہوئے بھی ہم رہے منزل سے دور اک انا کا مسئلہ زنجیر پا ...

مزید پڑھیے

حرف تدبیر نہ تھا حرف دلاسہ روشن

حرف تدبیر نہ تھا حرف دلاسہ روشن میں جو ڈوبا تو ہوا ساحل دریا روشن عہد میں اپنے مسلط ہے اندھیروں کا عذاب طاق میں وقت کے رکھ دو کوئی لمحہ روشن یوسف آسا سر بازار ہیں رسوا لیکن وادیٔ عشق میں ہے عزم زلیخا روشن جو مری ماں نے دیا رخت سفر کی صورت میرے ماتھے پہ ابھی تک ہے وہ بوسہ ...

مزید پڑھیے

ہوتی ہیں جل سے جیسے ندیوں کی عزتیں

ہوتی ہیں جل سے جیسے ندیوں کی عزتیں صدق مقال سے ہیں یاروں کی عزتیں جن کو مرے نبی کی خلوت ہوئی عطا افضل ہیں بستیوں سے غاروں کی عزتیں سجدے میں سر کٹا کے کربل کی ریت پر شبیر نے بڑھائیں سجدوں کی عزتیں دیکھو ذرا تماشہ جھوٹوں کے جھنڈ میں نیلام ہو رہی ہیں سچوں کی عزتیں بیٹھے نہ ہوتے ...

مزید پڑھیے

بے قناعت قافلے حرص و ہوا اوڑھے ہوئے

بے قناعت قافلے حرص و ہوا اوڑھے ہوئے منزلیں بھی کیوں نہ ہوں پھر فاصلہ اوڑھے ہوئے اس قدر خلقت مگر ہے موت کو فرصت بہت ہر بشر ہے آج خود اپنی قضا اوڑھے ہوئے ان کے باطن میں ملا شیطان ہی مسند نشیں جو بظاہر تھے بہت نام خدا اوڑھے ہوئے کیا کرے کوئی کسی سے پرسش احوال بھی آج سب ہیں اپنی ...

مزید پڑھیے

کبھی دعا تو کبھی بد دعا سے لڑتے ہوئے

کبھی دعا تو کبھی بد دعا سے لڑتے ہوئے تمام عمر گزاری ہوا سے لڑتے ہوئے ہوئے نہ زیر کسی انتہا سے لڑتے ہوئے محاذ ہار گئے ہم قضا سے لڑتے ہوئے بکھر رہا ہوں فضا میں غبار کی صورت خلاف مصلحت اپنی انا سے لڑتے ہوئے فضا بدلتے ہی جاگ اٹھی فطرت مے کش شکست کھا گئی توبہ گھٹا سے لڑتے ہوئے قلم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 217 سے 4657