شاعری

ابھرتے ڈوبتے تاروں کے بھید کھولے گا

ابھرتے ڈوبتے تاروں کے بھید کھولے گا فصیل شب سے اتر کر کوئی تو بولے گا یہ عہد وہ ہے جو قائل نہیں صحیفوں کا یہ حرف حرف کو مصلوب کر کے تولے گا اتر ہی جائے گا رگ رگ میں آج زہر سکوت وہ پیار سے مرے لہجے میں شہد گھولے گا مرا نصیب ہی ٹھہرا جو رابطوں کی شکست طلسم جاں کا بھی یہ قفل کوئی ...

مزید پڑھیے

ٹوٹے تختے پر سمندر پار کرنے آئے تھے

ٹوٹے تختے پر سمندر پار کرنے آئے تھے ہم سفر طوفان غم سے پیار کرنے آئے تھے ڈر کے جنگل کی فضا سے پیچھے پیچھے ہو لیے لوگ چھپ کر قافلے پر وار کرنے آئے تھے اس گنہ پر مل رہی ہے سنگ ساری کی سازی پتھروں کو نیند سے بیدار کرنے آئے تھے لوگ سمجھے اپنی سچائی کی خاطر جان دی ورنہ ہم تو جرم کا ...

مزید پڑھیے

جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میں

جھیل میں اس کا پیکر دیکھا جیسے شعلہ پانی میں زلف کی لہریں پیچاں جیسے ناگ ہو لپکا پانی میں چاندنی شب میں اس کے پیچھے جب میں اترا پانی میں چاندی اور سیماب لگا تھا پگھلا پگھلا پانی میں کتنے رنگ کی مچھلیاں آئیں للچاتی اور بل کھاتی قطرہ قطرہ میری رگوں سے خون جو ٹپکا پانی میں روشن ...

مزید پڑھیے

اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو چلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دو تحفے میں انوکھا زخم حالات نے بخشا ہے احساس کا خوں دے کر شاداب ہی رہنے دو وہ ہاتھ میں آتا ہے اور ہاتھ نہیں آتا سیماب صفت پیکر سیماب ہی رہنے دو گہرائی میں خطروں کا امکاں تو زیادہ ہے دریائے تعلق کو پایاب ہی رہنے ...

مزید پڑھیے

چل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیا

چل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیا ہم سفر جب مل گئے جنگل میں منگل ہو گیا میں تھا باغی خشک قطرہ بادلوں کے دیس کا سنگ دل لمحوں سے ٹکرایا تو جل تھل ہو گیا ہاں اتر آتی ہیں اس وادی میں پریاں چاند کی کہتے ہیں اک اجنبی سیاح پاگل ہو گیا رس بھری برسات میں کھلنے لگا دھرتی کا روپ جسم کا ...

مزید پڑھیے

آندھی ہے تیز دھول سے گھر اور اٹ نہ جائے

آندھی ہے تیز دھول سے گھر اور اٹ نہ جائے ٹوٹے کواڑ بند کرو دم الٹ نہ جائے بے سمت زندگی کا سفر بن کی رات ہے ناگن سا وقت ڈس کے اچانک پلٹ نہ جائے اجڑا ہوا مکان ہے دستک نہ دیجیے سایہ کوئی کہیں سے نکل کر لپٹ نہ جائے چھوٹا سا گھر سہی اسے رکھیے سنبھال کے ملکوں کی قسمتوں کی طرح یہ بھی بٹ ...

مزید پڑھیے

خواب رنگوں سے بنی ہے یاد تازہ

خواب رنگوں سے بنی ہے یاد تازہ دھوپ لکھ لائی مبارک یاد تازہ پھر بہا لے جائے گا لاوا لہو کا سنگ دل پر گھر کی رکھ بنیاد تازہ آب تازہ خنجر خاموش کو دے ہے بریدہ لب پہ اک فریاد تازہ بے ستونی پھر اٹھائے سنگ سر ہے چاہتی ہے جوئے خوں فرہاد تازہ بے چراغاں بستیوں کو زندگی دے اک ستم ایسا ...

مزید پڑھیے

کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں

کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں ورنہ اک پر لطف سماں ہے خود اپنی گہرائی میں فطرت نے عطا کی ہے بے شک مجھ کو بھی کچھ عقل سلیم کون خلل انداز ہوا ہے میری ہر دانائی میں جھوٹ کی نمکینی سے باتوں میں آ جاتا ہے مزا کوئی نہیں لیتا دلچسپی پھیکی سی سچائی میں اپنے تھے بیگانے تھے ...

مزید پڑھیے

تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتا

تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتا پیغام ترا تیری زبانی نہیں ملتا میں بیچ سمندر میں ہوں اور پیاس سے بیتاب پینے کو تو اک بوند بھی پانی نہیں ملتا دنیا کے کرشموں میں معمہ تو یہی ہے دنیا کے کرشمات کا بانی نہیں ملتا میرا بھی تو اک دوست تھا غم بانٹنے والا اب دشت بلا میں وہی جانی ...

مزید پڑھیے

میرے نازک سوال میں اترو

میرے نازک سوال میں اترو ایک حرف جمال میں اترو نقش بندی مجھے بھی آتی ہے کوئی صورت خیال میں اترو پھینک دو دور آج سورج کو خود ہی اب ماہ و سال میں اترو خوب چمکو گی آؤ شمشیرو میرے زخموں کے جال میں اترو کچھ تو لطف تضاد آئے گا میرے غار زوال میں اترو خواہ پت جھڑ کی ہی ہوا بن کر پیڑ کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 216 سے 4657