سفر کا سلسلہ آخر کہاں تمام کروں
سفر کا سلسلہ آخر کہاں تمام کروں کہاں چراغ چلاؤں کہاں قیام کروں سبھی کے سر پہ ہے رکھی کلاہ نخوت کی قدوں کی بھیڑ میں کس کس کا احترام کروں ہیں جتنے مہرے یہاں سارے پٹنے والے ہیں کسے میں شہہ کروں اپنا کسے غلام کروں عجیب شہر ہے کوئی سخن شناس نہیں متاع فکر میں منسوب کس کے نام ...