شاعری

سفر کا سلسلہ آخر کہاں تمام کروں

سفر کا سلسلہ آخر کہاں تمام کروں کہاں چراغ چلاؤں کہاں قیام کروں سبھی کے سر پہ ہے رکھی کلاہ نخوت کی قدوں کی بھیڑ میں کس کس کا احترام کروں ہیں جتنے مہرے یہاں سارے پٹنے والے ہیں کسے میں شہہ کروں اپنا کسے غلام کروں عجیب شہر ہے کوئی سخن شناس نہیں متاع فکر میں منسوب کس کے نام ...

مزید پڑھیے

لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہے

لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہے ہر اک جانب مگر اندھا کنواں ہے ہے کوئی عکس رنگیں آئنے پر جبھی تو آئنے میں کہکشاں ہے کسی سے کوئی بھی ملتا نہیں اب ہر اک انساں یہاں تو بد گماں ہے فراق و وصل کا قصہ نہیں ہے ادھوری کس قدر یہ داستاں ہے نہیں کچھ بولتے ہیں جبر سہہ کر لگے ترشی ہوئی سب کی ...

مزید پڑھیے

شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوں

شب کے تاریک سمندر سے گزر آیا ہوں ٹوٹا تارہ ہوں خلاؤں سے اتر آیا ہوں تجھ سے جو ہو نہ سکا کام وہ کر آیا ہوں آسماں چھوڑ کے دھرتی پہ اتر آیا ہوں دشت تنہائی میں بکھرا ہوں ہواؤں کی طرح اک صدا بن کے دل سنگ میں در آیا ہوں جانے کس خوف سے پھرتا ہوں میں گھبرایا ہوا کیا بلا بن کے میں خود اپنے ...

مزید پڑھیے

سات رنگوں سے بنی ہے یاد تازہ

سات رنگوں سے بنی ہے یاد تازہ دھوپ لکھ لائی مبارک باد تازہ بن گئی جنت تو ہجرت کر گئے ہیں نو بہ نو ہے دشت جاں آباد تازہ لفظ و معنی کا زیاں ہے خود عذابی لوح دل پر ہے قلم کی داد تازہ آب تازہ خنجر خاموش کو دے ہے بریدہ لب پہ پھر فریاد تازہ پھر بہانے جائے گا لاوا لہو کا خشت دل پر گھر کی ...

مزید پڑھیے

فصل گل کو ضد ہے زخم دل کا ہرا کیسے ہو

فصل گل کو ضد ہے زخم دل کا ہرا کیسے ہو چاندنی بھی ڈس رہی ہے غم کی دوا کیسے ہو رات کی بلائیں ٹلیں تو شاخ صبح سے اتر ساحلوں سے پوچھتی ہے موج صبا کیسے ہو وقت کی نوازشوں نے خون کر دیا سفید سرگراں تھے ہم گلوں سے رنگ جدا کیسے ہو آسماں بھی تھک گیا ہے سر پہ ٹوٹ ٹوٹ کے چلتے چلتے ہے زمیں بھی ...

مزید پڑھیے

جاری ہے کب سے معرکہ یہ جسم و جاں میں سرد سا

جاری ہے کب سے معرکہ یہ جسم و جاں میں سرد سا چھپ چھپ کے کوئی مجھ میں ہے مجھ سے ہی ہم نبرد سا جاتے کہاں کہ زیر پا تھا ایک بحر خوں کنار اڑتے تو بار سر بنا اک دشت لاجورد سا کس چاندنی کی آنکھ سے بکھری شفق کی ریت میں موتی سا ڈھل کے گر پڑا شام کے دل کا درد سا نازک لبوں کی پنکھڑیاں تھرتھرا ...

مزید پڑھیے

کنیز وقت کو نیلام کر دیا سب نے

کنیز وقت کو نیلام کر دیا سب نے یہ وہم کیا ہے بڑا کام کر دیا سب نے کوئی بھی شخص صحت مند کیا نظر آئے منافرت کا سبق عام کر دیا سب نے ملی نہ جب انہیں تعبیر اپنے خوابوں کی پھر اپنی آنکھوں کو نیلام کر دیا سب نے برا سمجھ کے بزرگوں نے جس کو چھوڑا تھا وہ کار بد خوش انجام دیا سب نے ہر ایک ...

مزید پڑھیے

شعلے سے چٹکتے ہیں ہر سانس میں خوشبو کے

شعلے سے چٹکتے ہیں ہر سانس میں خوشبو کے آئی ہے صبا شاید وہ پھول سا تن چھو کے احساس کے جنگل میں اک آگ بھڑکتی ہے جھونکے کسی گلشن میں ہیں رقص کناں لو کے اوروں نے بھی پوجا ہے اے دوست تجھے لیکن یکساں تو نہیں ہوتے جذبات من و تو کے یہ عہد تمنا بھی اک دور قیامت ہے جب حسن پیے آنسو اور عشق ...

مزید پڑھیے

ترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھا

ترا یقین ہوں میں کب سے اس گمان میں تھا میں زندگی کے بڑے سخت امتحان میں تھا شجر شجر مری آمد کا منتظر موسم میں برگ گل سا ہواؤں کی اک اڑان میں تھا پٹک کے توڑ دیا جس نے تیشۂ جاں کو میں جوئے شیر سا پنہاں اسی چٹان میں تھا اندھیری رات میں سمت صدا پہ چھوڑ دیا ہوس کا تیر جو اس جسم کی کمان ...

مزید پڑھیے

دل میں رکھ زخم نوا راہ میں کام آئے گا

دل میں رکھ زخم نوا راہ میں کام آئے گا دشت بے سمت میں اک ہو کا مقام آئے گا اس طرح پڑھتا ہوں بہتے ہوئے دریا کی کتاب صفحۂ آب پر اک عکس پیام آئے گا قریۂ جاں میں تھے یادوں کے شناسا چہرے اجنبی شہر میں کس کس کا سلام آئے گا مصلحت کیش تو گلہائے ستائش سے لدے سچ کے ہاتھوں میں وہی زہر کا جام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 215 سے 4657