شاعری

شب مہتاب بھی اپنی بھری برسات بھی اپنی

شب مہتاب بھی اپنی بھری برسات بھی اپنی تمہارے دم قدم سے زندگی تھی زندگی اپنی یہاں پابندی، ناراضی، جنونی بات ہے ورنہ جمال یار سے کچھ کم نہیں تابندگی اپنی مجھے شادابیٔ صحن چمن سے خوف آتا ہے یہی انداز تھے جب لوٹ گئی تھی زندگی اپنی تمہارا غم اسے آشوب صرصر بچائے گا ہواؤں سے بھڑک ...

مزید پڑھیے

اک شخص رات بند قبا کھولتا رہا

اک شخص رات بند قبا کھولتا رہا شب کی سیاہیوں میں شفق گھولتا رہا تنہائیوں میں آتی رہی جب بھی اس کی یاد سایہ سا اک قریب مرے ڈولتا رہا حسن بہار خوب مگر دیدۂ بہار موتی چمن کی خاک پہ کیوں رولتا رہا اس نے سکوت کو بھی تکلم سمجھ لیا کچھ اس ادائے خاص سے دل بولتا رہا ہجراں کی رات مشغلۂ ...

مزید پڑھیے

اب عشق سے لو لگائیں گے ہم

اب عشق سے لو لگائیں گے ہم اب دل کے بھی کام آئیں گے ہم جب جھٹپٹا ہوگا شام غم کا پلکوں پہ دیئے جلائیں گے ہم ہم بن گئے ہیں ادا تمہاری چھیڑوگے تو روٹھ جائیں گے ہم اے مونس دل اے ہجر کی رات لے چل دیے اب نہ آئیں گے ہم کیا بیٹھے بٹھائے ہو گیا ہے پوچھیں گے تو کیا بتائیں گے ہم وہ آنکھ بڑی ...

مزید پڑھیے

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا

مرا ہی بن کے وہ بت مجھ سے آشنا نہ ہوا وہ بے نیاز تھا اتنا تو کیوں خدا نہ ہوا شکن ہمیشہ جبیں پر رہے تو عادت ہے مجھے یقیں ہے وہ مجھ سے کبھی خفا نہ ہوا تمام عمر تری ہمرہی کا شوق رہا مگر یہ رنج کہ میں موجۂ صبا نہ ہوا حجاب حسن سے بڑھتی ہے وار عریانی یہی سبب ہے میں آزردۂ‌ حیا نہ ...

مزید پڑھیے

ہیں بزم گل میں بپا نوحہ خوانیاں کیا کیا

ہیں بزم گل میں بپا نوحہ خوانیاں کیا کیا بہار چھوڑ گئی ہے نشانیاں کیا کیا تمام عمر گل و مل کے درمیاں گزری تمام عمر رہیں سر گرانیاں کیا کیا وہ شخص عطر بدن جب بھی سامنے آیا دل و نظر پہ ہوئیں گل و فشانیاں کیا کیا خبر نہ تھی یہی وجہ سکون جاں ہوگی نگاہ یار سے تھیں بدگمانیاں کیا ...

مزید پڑھیے

ہوائے ہجر چلی دل کی ریگزاروں میں

ہوائے ہجر چلی دل کی ریگزاروں میں شرار جلتے ہیں پلکوں کی شاخساروں میں کوئی تو موجۂ طوفاں ادھر بھی آ نکلے سفینے ڈوب چلے بحر کے کناروں میں انہیں کی حسرت رفتہ کی یادگار ہوں میں جو لوگ رہ گئے تنہا بھری بہاروں میں ہمیں وہ سوکھے ہوئے زرد پیڑ ہیں جو کبھی بہار بانٹتے پھرتے تھے ...

مزید پڑھیے

دل مر چکا ہے اب نہ مسیحا بنا کرو

دل مر چکا ہے اب نہ مسیحا بنا کرو یا ہنس پڑو یا ہاتھ اٹھا کر دعا کرو اب حسن کے مزاج سے واقف ہوا ہوں میں اک بھول تھی جو تم سے کہا تھا وفا کرو دل بھی صنم پرست نظر بھی صنم پرست کس کی ادا سہو تو کسے رہنما کرو جس سے ہجوم غیر میں ہوتی ہیں چشمکیں اس اجنبی نگاہ سے بھی آشنا کرو اک سوز اک ...

مزید پڑھیے

میں ہوں وحشت میں گم میں تیری دنیا میں نہیں رہتا

میں ہوں وحشت میں گم میں تیری دنیا میں نہیں رہتا بگولا رقص میں رہتا ہے صحرا میں نہیں رہتا بڑی مدت سے تیرا حسن دل بن کر دھڑکتا ہے بڑی مدت سے دل تیری تمنا میں نہیں رہتا یہ پانی ہے مگر مژگاں کی شاخوں پر سلگتا ہے یہ موتی ہے مگر دامان دریا میں نہیں رہتا وہ جلوہ جو سکوت بزم یکتائی میں ...

مزید پڑھیے

لوح مزار دیکھ کے جی دنگ رہ گیا

لوح مزار دیکھ کے جی دنگ رہ گیا ہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا بدنام ہو کے عشق میں ہم سرخ رو ہوئے اچھا ہوا کہ نام گیا ننگ رہ گیا ہوتی نہ ہم کو سایۂ دیوار کی تلاش لیکن محیط زیست بہت تنگ رہ گیا سیرت نہ ہو تو عارض و رخسار سب غلط خوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیا اپنے گلے میں اپنی ہی ...

مزید پڑھیے

یہ کاروبار چمن اس نے جب سنبھالا ہے

یہ کاروبار چمن اس نے جب سنبھالا ہے فضا میں لالہ و گل کا لہو اچھالا ہے ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے ہجوم گل میں چہکتے ہوئے سمن پوشو زمین صحن چمن آج بھی جوالا ہے ہمارے عشق سے درد جہاں عبارت ہے ہمارا عشق ہوس سے بلند و بالا ہے سنا ہے آج کے دن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 211 سے 4657