شاعری

یہ بات اب کے اسے بتانا نہیں پڑے گی

یہ بات اب کے اسے بتانا نہیں پڑے گی غزل کو ہرگز غزل سنانا نہیں پڑے گی جو وہ ملا تو میں خرچ کر دوں گا ایک پل میں بدن کی خوشبو مجھے بچانا نہیں پڑے گی تجھے بیاہوں تو دو قبیلے قریب ہوں گے کسی کو بندوق بھی اٹھانا نہیں پڑے گی میں اپنے لہجے کا ہاتھ تھامے نکل پڑا ہوں کسی کو آواز بھی لگانا ...

مزید پڑھیے

بدن سے روح تلک ہم لہو لہو ہوئے ہیں

بدن سے روح تلک ہم لہو لہو ہوئے ہیں تمہارے عشق میں اب جا کے سرخ رو ہوئے ہیں ہوا کے ساتھ اڑی ہے محبتوں کی مہک یہ تذکرے جو مری جان کو بہ کو ہوئے ہیں وہ شب تو کٹ گئی جو پیاس کی تھی آخری شب شریک گریۂ شبنم میں اب سبھو ہوئے ہیں تمہارے حسن کی تشبیب ہی کہی ہے ابھی چراغ جلنے لگے پھول مشک بو ...

مزید پڑھیے

امید صبح بہاراں خزاں سے کھینچتے ہیں

امید صبح بہاراں خزاں سے کھینچتے ہیں یہ تیر روز دل ناتواں سے کھینچتے ہیں کشید تشنہ لبی قطرہ قطرہ پیتے ہیں یہ آب تلخ غم رفتگاں سے کھینچتے ہیں میں ان سے لقمۂ طیب کی داد کیا چاہوں جو اپنا رزق دہان سگاں سے کھینچتے ہیں سبو سے لذت یک گونہ لیتے ہیں لیکن خمار خاص لب دوستاں سے کھینچتے ...

مزید پڑھیے

تو نے کیوں ہم سے توقع نہ مسافر رکھی

تو نے کیوں ہم سے توقع نہ مسافر رکھی ہم نے تو جاں بھی ترے واسطے حاضر رکھی ہاں اب اس سمت نہیں جانا پر اے دل اے دل بام پر اس نے کوئی شمع اگر پھر رکھی یہ الگ بات کہ وہ دل سے کسی اور کا تھا بات تو اس نے ہماری بھی بظاہر رکھی اب کسی خواب کی زنجیر نہیں پاؤں میں طاق پر وصل کی امید بھی آخر ...

مزید پڑھیے

ہر سمت شور بندہ و صاحب ہے شہر میں

ہر سمت شور بندہ و صاحب ہے شہر میں کیا عہد تلخ حفظ مراتب ہے شہر میں ہر ناروا روا ہے بایں نام مصلحت اک کار عشق غیر مناسب ہے شہر میں کس حسن پر تجلی کی ہر چیز ہے اسیر ہیبت یہ کس کے حکم کی غالب ہے شہر میں اک خوف دشمنی جو تعاقب میں سب کے ہے اک حرف لطف جو کہیں غائب ہے شہر میں میں تنہا ...

مزید پڑھیے

خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہے

خوشا اے زخم کہ صورت نئی نکلتی ہے بجائے خون کے اب روشنی نکلتی ہے نگاہ لطف ہو اس دل پہ بھی او شیشہ بدست اس آئنے سے بھی صورت تری نکلتی ہے مرے حریف ہیں مصروف حرف سازی میں یہاں تو صوت یقیں آپ ہی نکلتی ہے زباں بریدہ شکستہ بدن سہی پھر بھی کھڑے ہوئے ہیں اور آواز بھی نکلتی ہے تمام شہر ...

مزید پڑھیے

جان بے تاب عجب تیرے ٹھکانے نکلے

جان بے تاب عجب تیرے ٹھکانے نکلے بارش سنگ میں سب آئنہ خانے نکلے سب بڑے زعم سے آئے تھے نئے صورت گر سب کے دامن سے وہی خواب پرانے نکلے رات ہر وعدہ و پیمان امر لگتا تھا صبح کے ساتھ کئی عذر بہانے نکلے اے کسی آتے ہوئے زندہ زمانے کے خیال ہم ترے راستے میں پلکیں بچھانے نکلے کاسۂ درد لیے ...

مزید پڑھیے

اب ہے کیا لاکھ بدل چشم گریزاں کی طرح

اب ہے کیا لاکھ بدل چشم گریزاں کی طرح میں ہوں زندہ ترے ٹوٹے ہوئے پیماں کی طرح کوئی دستک کوئی آہٹ نہ شناسا آواز خاک اڑتی ہے در دل پہ بیاباں کی طرح تو مری ذات مری روح مرا حسن کلام دیکھ اب تو نہ بدل گردش دوراں کی طرح میں نے جب غور سے دیکھا تو وہ پتھر نکلا ورنہ وہ حسن نظر آتا تھا ...

مزید پڑھیے

فراق یار کے لمحے گزر ہی جائیں گے

فراق یار کے لمحے گزر ہی جائیں گے چڑھے ہوئے ہیں جو دریا اتر ہی جائیں گے تمام رات در میکدہ پہ کاٹی ہے سحر قریب ہے اب اپنے گھر ہی جائیں گے تو میرے حال پریشاں کا کچھ خیال نہ کر جو زخم تو نے لگائے ہیں بھر ہی جائیں گے میان دار و شبستان یار بیٹھے ہیں جدھر اشارۂ دل ہو ادھر ہی جائیں ...

مزید پڑھیے

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی محبت خندۂ بے باک بھی ہے گریۂ غم بھی تھکن تیرے بدن کی عذر کوئی ڈھونڈھ ہی لیتی حدیث محفل شب کہہ رہی ہے زلف برہم بھی بقدر دل یہاں سے شعلۂ جاں سوز ملتا ہے چراغ حسن کی لو شوخ بھی ہے اور مدھم بھی مری تنہائیوں کی دل کشی تیری بلا جانے میری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 210 سے 4657