شاعری

ہر غزل ہر شعر اپنا استعارہ آشنا

ہر غزل ہر شعر اپنا استعارہ آشنا فصل گل میں جیسے شاخ گل شرارا آشنا خون تھوکا دل جلایا نقد جاں قربان کی شہر فن میں میں رہا کتنا خسارا آشنا کہہ گیا اپنی نظر سے ان کہے قصے بھی وہ بزم حرف و صوت میں جو تھا اشارا آشنا اپنے ٹوٹے شہپروں کے نوحہ گر تو تھے بہت دشت فن میں تھا نہ کوئی سنگ ...

مزید پڑھیے

کیا دعائے فرسودہ حرف بے اثر مانگوں

کیا دعائے فرسودہ حرف بے اثر مانگوں تشنگی میں جینے کا اب کوئی ہنر مانگوں دھوپ دھوپ چل کر بھی جب تھکے نہ ہمراہی کیسے اپنی خاطر میں سایۂ شجر مانگوں آئنہ نوازی سے کچھ نہیں ہوا حاصل خود بنے جو آئینہ اب وہی ہنر مانگوں اک طرف تعصب ہے اک طرف ریاکاری ایسی بے پناہی میں کیا سکوں کا گھر ...

مزید پڑھیے

کچھ یقیں رہنے دیا کچھ واہمہ رہنے دیا

کچھ یقیں رہنے دیا کچھ واہمہ رہنے دیا سوچ کی دیوار میں اک در کھلا رہنے دیا کشتیاں ساری جلا ڈالیں انا کی جنگ میں میں نے بھی کب واپسی کا راستہ رہنے دیا میں نے ہر الزام اپنے سر لیا اس شہر میں با وفا لوگوں میں خود کو بے وفا رہنے دیا ایک نسبت ایک رشتہ ایک ہی گھر کے مکیں وقت نے دونوں ...

مزید پڑھیے

ہر آدمی کو خواب دکھانا محال ہے

ہر آدمی کو خواب دکھانا محال ہے شعلوں میں جیسے پھول کھلانا محال ہے کاغذ کی ناؤ بھی ہے کھلونے بھی ہیں بہت بچپن سے پھر بھی ہاتھ ملانا محال ہے انساں کی شکل ہی میں درندے بھی ہیں مگر ہر عکس آئینے میں دکھانا محال ہے مشکل نہیں اتارنا سورج کو تھال میں لیکن چراغ اس سے جلانا محال ہے اک ...

مزید پڑھیے

اترے تو کئی بار صحیفے مرے گھر میں

اترے تو کئی بار صحیفے مرے گھر میں ملتے ہیں مگر صرف جریدے مرے گھر میں آواز میں لذت کا نیا شہد جو گھولیں اترے نہ کبھی ایسے پرندے مرے گھر میں نیزے تو شعاعوں کے رہے خون کے پیاسے نم دیدہ تھے دیوار کے سائے مرے گھر میں قندیل نوا لے کے سفر ہی میں رہا میں دھندلا گئے ارمانوں کے شیشے مرے ...

مزید پڑھیے

آئنے میں خود اپنا چہرا ہے

آئنے میں خود اپنا چہرا ہے پھر بھی کیوں اجنبی سا لگتا ہے جس پہ انسانیت کو ناز تھا کل اب وہ سب سے بڑا درندہ ہے فکر بھی ہے عجیب سا جنگل جس کا موسم بدلتا رہتا ہے کیسے اپنی گرفت میں آئے آگہی اک بسیط دریا ہے اس میں ظلمت پنپ نہیں سکتی ذہن سورج کی تاب رکھتا ہے وہ سمجھتا ہے آئنے کی ...

مزید پڑھیے

آ کے جب خواب تمہارے نے کہا بسم اللہ

آ کے جب خواب تمہارے نے کہا بسم اللہ دل مسافر تھکے ہارے نے کہا بسم اللہ ہجر کی رات میں جب درد کے بستر پہ گرا شب کے بہتے ہوئے دھارے نے کہا بسم اللہ شام کا وقت تھا اور ناؤ تھی ساحل کے قریب پاؤں چھوتے ہی کنارے نے کہا بسم اللہ اجنبی شہر میں تھا پہلا پڑاؤ میرا بام سے جھک کے ستارے نے ...

مزید پڑھیے

یہ عہد کیا ہے کہ سب پر گراں گزرتا ہے

یہ عہد کیا ہے کہ سب پر گراں گزرتا ہے یہ کیا طلسم ہے کیا امتحاں گزرتا ہے وہ قحط لطف ہے ہر دم ترے فقیروں پر ہزار وسوسہ آتش بجاں گزرتا ہے جو خاک ہو گئے تیرے فراق میں ان کا خیال بھی کبھی اے جان جاں گزرتا ہے جب اس کی بزم سے چل ہی پڑے تو سوچنا کیا کہ عرصۂ غم ہجراں کہاں گزرتا ہے کبھی وہ ...

مزید پڑھیے

جنبش ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیں

جنبش ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیں ان دنوں گردش حالات میں آئے ہوئے ہیں اب جو تو چاہے جہاں چاہے ہمیں لے جائے کیا کریں ہم جو ترے ہاتھ میں آئے ہوئے ہیں میں اکیلا ہی نہیں آیا تجھے دیکھنے کو کچھ ستارے بھی مرے ساتھ میں آئے ہوئے ہیں اے مہ چار دہم تیری خوشی کی خاطر اک سیہ رات کی بہتات ...

مزید پڑھیے

دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ

دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ گزر رہی ہے مسلسل کسی عذاب کے ساتھ ہم اہل درد پکارے گئے صحیفوں میں ہم اہل عشق اتارے گئے کتاب کے ساتھ پھر ایک شام پذیرائی چشم تر کی ہوئی پھر ایک شام گزاری گئی جناب کے ساتھ ہمیں یہ خوف اندھیرے نگل نہ جائیں کہیں سو ہم نے جسم کو ڈھانپا ہے آفتاب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 209 سے 4657