شاعری

بلندی سے اتارے جا چکے ہیں

بلندی سے اتارے جا چکے ہیں زمیں پر لا کے مارے جا چکے ہیں دکھائے بیچ دریا کون رستہ فلک خالی ہے تارے جا چکے ہیں معانی کیا رہے خودداریوں کے کہ دامن تو پسارے جا چکے ہیں یہ پورا سچ ہے تم مانو نہ مانو کہ اچھے دن تمہارے جا چکے ہیں بھنک تک بھی نہ پہنچی اس کی ہم تک ہمارے دن گزارے جا چکے ...

مزید پڑھیے

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے اک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئے لازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے نیزے پہ رکھ کے اور مرا سر بلند کر دنیا کو اک چراغ تو جلتا دکھائی دے دل میں ترے خیال کی بنتی ہے اک دھنک سورج سا آئینے سے گزرتا دکھائی دے چل ...

مزید پڑھیے

مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے

مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے مجھے نہ مانگ مرا ہاتھ مانگنے والے یہ لوگ کیسے اچانک امیر بن بیٹھے یہ سب تھے بھیک مرے ساتھ مانگنے والے تمام گاؤں ترے بھولپن پہ ہنستا ہے دھوئیں کے ابر سے برسات مانگنے والے نہیں ہے سہل اسے کاٹ لینا آنکھوں میں کچھ اور مانگ مری رات مانگنے والے کبھی ...

مزید پڑھیے

جیب و گریباں ٹکڑے ٹکڑے دامن کو بھی تار کیا

جیب و گریباں ٹکڑے ٹکڑے دامن کو بھی تار کیا کیسے کیسے ہم نے اپنی وحشت کا اظہار کیا طوق و سلاسل ہم نے پہنے خود کو سپرد دار کیا ہم خود اپنی جان سے گزرے تب تیرا دیدار کیا خون جگر آنکھوں سے بہایا غم کا صحرا پار کیا تیری تمنا کی کیا ہم نے جیون کو آزار کیا رنج و الم کی بستی میں ہم اب تک ...

مزید پڑھیے

زہر غم دل میں سمونے بھی نہیں دیتا ہے

زہر غم دل میں سمونے بھی نہیں دیتا ہے کرب احساس کو کھونے بھی نہیں دیتا ہے دل کی زخموں کو کیا کرتا ہے تازہ ہر دم پھر ستم یہ ہے کہ رونے بھی نہیں دیتا ہے اشک خوں دل سے امنڈ آتے ہیں دریا کی طرح دامن چشم بھگونے بھی نہیں دیتا ہے اٹھنا چاہیں تو گرا دیتا ہے پھر ٹھوکر سے بے خودی چاہیں تو ...

مزید پڑھیے

سر میں سودا بھی وہی کوچۂ قاتل بھی وہی

سر میں سودا بھی وہی کوچۂ قاتل بھی وہی رقص بسمل بھی وہی شور سلاسل بھی وہی بات جب ہے کہ ہر اک پھول کو یکساں سمجھو سب کا آمیزہ وہی آب وہی گل بھی وہی ڈوب جاتا ہے جہاں ڈوبنا ہوتا ہے جسے ورنہ پیراک کو دریا وہی ساحل بھی وہی دیکھنا چاہو تو زخموں کا چراغاں ہر سمت محفل غیر وہی انجمن دل ...

مزید پڑھیے

پل پل جینے کی خواہش میں کرب شام و سحر مانگا

پل پل جینے کی خواہش میں کرب شام و سحر مانگا سب تھے نشاط نفع کے پیچھے ہم نے رنج ضرر مانگا اب تک جو دستور جنوں تھا ہم نے وہی منظر مانگا صحرا دل کے برابر چاہا دریا آنکھوں بھر مانگا دیکھنا یہ ہے اپنے لہو کی کتنی اونچی ہے پرواز ایسی تیز ہوا میں ہم نے کاغذ کا اک پر مانگا ابر کے احساں ...

مزید پڑھیے

نام سے گاندھیؔ کے چڑھ بیر آزادی سے ہے

نام سے گاندھیؔ کے چڑھ بیر آزادی سے ہے نفرتوں کی کھاد ہیں الفت مگر کھادی سے ہے عالموں کا علم سے وہ ربط ہے اس دور میں ربط دھوبی کے گدھے کا جس طرح لادی سے ہے خواب غفلت سے وہی نسبت ہے میری قوم کو عاشقوں کا جو تعلق دل کی بربادی سے ہے شوہروں سے بیبیاں لڑتی ہیں چھاپہ مار جنگ رابطہ ان کا ...

مزید پڑھیے

ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہے

ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہے مرے حصے کی ٹوٹی چارپائی چھین لیتا ہے اسے موقع ملے تو پائی پائی چھین لیتا ہے یہاں بھائی کی خوشیاں اس کا بھائی چھین لیتا ہے بھلا فرصت کسے ہے جو یہاں رشتوں کو پہچانے یہ دور خود فریبی آشنائی چھین لیتا ہے جہالت میں وہ کامل ہے معلم بن گیا ...

مزید پڑھیے

ایسے لمحے پر ہمیں قربان ہو جانا پڑا

ایسے لمحے پر ہمیں قربان ہو جانا پڑا ایک ہی لغزش میں جب انسان ہو جانا پڑا بے نیازانہ گزرنے پر اٹھیں جب انگلیاں مجھ کو اپنے عہد کی پہچان ہو جانا پڑا زندگی جب نا شناسی کی سزا بنتی گئی رابطوں کی خود مجھے میزان ہو جانا پڑا ریزہ ریزہ اپنا پیکر اک نئی ترتیب میں کینوس پر دیکھ کر حیران ...

مزید پڑھیے
صفحہ 208 سے 4657