شاعری

کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیں

کون یاد آیا یہ مہکاریں کہاں سے آ گئیں دشت میں خوشبو کی بوچھاریں کہاں سے آ گئیں کیسی شب ہے ایک اک کروٹ پہ کٹ جاتا ہے جسم میرے بستر میں یہ تلواریں کہاں سے آ گئیں خواب شاید پھر ہوا آنکھوں میں کوئی سنگسار زیر مژگاں خون کی دھاریں کہاں سے آ گئیں شاید اب تک مجھ میں کوئی گھونسلہ آباد ...

مزید پڑھیے

تو پھر میں کیا اگر انفاس کے سب تار گم اس میں

تو پھر میں کیا اگر انفاس کے سب تار گم اس میں مرے ہونے نہ ہونے کے سبھی آثار گم اس میں مری آنکھوں میں اک موسم ہمیشہ سبز رہتا ہے خدا جانے ہیں ایسے کون سے اشجار گم اس میں ہزاروں سال چل کر بھی ابھی خود تک نہیں پہنچی یہ دنیا کاش ہو جائے کبھی اک بار گم اس میں وہ جیسا ابر بھیجے جو ہوا سر ...

مزید پڑھیے

میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے

میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے بن گئی ہے مسئلہ سارے زمانے کے لیے ریت میری عمر میں بچہ نرالے میرے کھیل میں نے دیواریں اٹھائی ہیں گرانے کے لیے وقت ہونٹوں سے مرے وہ بھی کھرچ کر لے گیا اک تبسم جو تھا دنیا کو دکھانے کے لیے آسماں ایسا بھی کیا خطرہ تھا دل کی آگ سے اتنی بارش ...

مزید پڑھیے

نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا

نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا نہ بھر سکا کوئی اس کو خلا ہی ایسا تھا وہ مجھ میں رہ کے مجھے کاٹتا رہا پل پل زباں پہ آ نہ سکا ماجرا ہی ایسا تھا نظر نہ آئی کہیں دور دور تک کوئی موج میں غرق ہو گیا طوفاں اٹھا ہی ایسا تھا نہ آیا لطف کسی اور غم کو جھیلنے میں غم حیات ترا ذائقہ ہی ...

مزید پڑھیے

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں

دن کو بھی اتنا اندھیرا ہے مرے کمرے میں سایہ آتے ہوئے ڈرتا ہے مرے کمرے میں غم تھکا ہارا مسافر ہے چلا جائے گا کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہے مرے کمرے میں صبح تک دیکھنا افسانہ بنا ڈالے گا تجھ کو اک شخص نے دیکھا ہے مرے کمرے میں در بہ در دن کو بھٹکتا ہے تصور میرا ہاں مگر رات کو رہتا ہے مرے ...

مزید پڑھیے

چہرہ لالہ رنگ ہوا ہے موسم رنج و ملال کے بعد

چہرہ لالہ رنگ ہوا ہے موسم رنج و ملال کے بعد ہم نے جینے کا گر جانا زہر کے استعمال کے بعد کس کو خبر تھی مختاری میں ہوں گے وہ اتنے مجبور ہم اپنے سے شرمندہ ہیں ان سے عرض حال کے بعد اپنے سوا اپنے رشتے میں اور بھی کچھ دنیائیں تھیں ہم نے اپنا حال لکھا لیکن دیگر احوال کے بعد آنکھیں یوں ...

مزید پڑھیے

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا

زمیں پھر درد کا یہ سائباں کوئی نہیں دے گا تجھے ایسا کشادہ آسماں کوئی نہیں دے گا ابھی زندہ ہیں ہم پر ختم کر لے امتحاں سارے ہمارے بعد کوئی امتحاں کوئی نہیں دے گا جو پیاسے ہو تو اپنے ساتھ رکھو اپنے بادل بھی یہ دنیا ہے وراثت میں کنواں کوئی نہیں دے گا ملیں گے مفت شعلوں کی قبائیں ...

مزید پڑھیے

پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو

پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو خود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیں بنا کر بت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو نہ اطمینان سے بیٹھو نہ گہری نیند سو پاؤ میاں اس مختصر سی زندگی سے چاہتے کیا ہو اسے ٹھہرا سکو اتنی بھی تو ...

مزید پڑھیے

جب اتنی جاں سے محبت بڑھا کے رکھی تھی

جب اتنی جاں سے محبت بڑھا کے رکھی تھی تو کیوں قریب ہوا شمع لا کے رکھی تھی فلک نے بھی نہ ٹھکانا کہیں دیا ہم کو مکاں کی نیو زمیں سے ہٹا کے رکھی تھی ذرا پھوار پڑی اور آبلے اگ آئے عجیب پیاس بدن میں دبا کے رکھی تھی اگرچہ خیمۂ شب کل بھی تھا اداس بہت کم از کم آگ تو ہم نے جلا کے رکھی ...

مزید پڑھیے

دھوپ ہے کیا اور سایا کیا ہے اب معلوم ہوا

دھوپ ہے کیا اور سایا کیا ہے اب معلوم ہوا یہ سب کھیل تماشا کیا ہے اب معلوم ہوا ہنستے پھول کا چہرہ دیکھوں اور بھر آئے آنکھ اپنے ساتھ یہ قصہ کیا ہے اب معلوم ہوا ہم برسوں کے بعد بھی اس کو اب تک بھول نہ پائے دل سے اس کا رشتہ کیا ہے اب معلوم ہوا صحرا صحرا پیاسے بھٹکے ساری عمر جلے بادل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 207 سے 4657