شاعری

بے برگ و بار راہ میں سوکھے درخت تھے

بے برگ و بار راہ میں سوکھے درخت تھے منزل تہہ قدم ہوئی ہم تیز بخت تھے حملے چہار سمت سے ہم پر ہوئے مگر اندر سے وار جتنے ہوئے زیادہ سخت تھے تھے پیڑ پر تو مجھ کو بہت خوش نما لگے توڑے تو جتنے پھل تھے کسیلے کرخت تھے سوئے تو یاد قوس قزح میں سمٹ گئی جاگے تو جتنے رنگ تھے وہ لخت لخت تھے سر ...

مزید پڑھیے

جو ذہن و دل میں اکٹھا تھا آس کا پانی

جو ذہن و دل میں اکٹھا تھا آس کا پانی اسے بھی لے گیا ساتھ اپنے یاس کا پانی میں لے کے آیا تھا ہمراہ جن کو دریا تک وہ لوگ پی گئے میری بھی پیاس کا پانی کب اپنے شہر میں سیلاب آنے والا تھا ہمیں ڈبو کے گیا آس پاس کا پانی ہزاروں عیب چھپانے کو لگ کے دنیا میں بدن پہ رکھتے ہیں زریں لباس کا ...

مزید پڑھیے

رات بھر فرقت کے سائے دل کو دہلاتے رہے

رات بھر فرقت کے سائے دل کو دہلاتے رہے ذہن میں کیا کیا خیال آتے رہے جاتے رہے سینکڑوں دل کش بہاریں تھیں ہماری منتظر ہم تری خواہش میں لیکن ٹھوکریں کھاتے رہے عمر بھر دیکھا نہ اپنے چاک دامن کی طرف بس تری الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھاتے رہے جن کی خاطر پی گئے رسوائیوں کا زہر بھی وہ بھری ...

مزید پڑھیے

درد تو زخم کی پٹی کے ہٹانے سے اٹھا

درد تو زخم کی پٹی کے ہٹانے سے اٹھا اور کچھ اور بھی مرہم کے لگانے سے اٹھا اس کے الفاظ تسلی نے رلایا مجھ کو کچھ زیادہ ہی دھواں آگ بجھانے سے اٹھا عہد ماضی بھی تو بے داغ نہیں کیوں کہیے پاسداری کا چلن آج زمانے سے اٹھا وجہ ممکن ہے کوئی اور ہو میں یہ سمجھا وہ تری بزم میں شاید مرے آنے سے ...

مزید پڑھیے

زخم تازہ برگ گل میں منتقل ہوتے گئے

زخم تازہ برگ گل میں منتقل ہوتے گئے پنجۂ سفاک میں خنجر خجل ہوتے گئے دید کے قابل تھا ان صحرا نوردوں کا جنوں منزلیں ملتی گئیں ہم مضمحل ہوتے گئے نور کا رشتہ سواد جسم سے کٹتا گیا ہم بھی آخر باد و آتش آب و گل ہوتے گئے خون میں اونچے چناروں کے نہ حدت آ سکی یوں بظاہر سبز پتے مشتعل ہوتے ...

مزید پڑھیے

چند مہمل سی لکیریں ہی سہی افشا رہوں

چند مہمل سی لکیریں ہی سہی افشا رہوں نوک خامہ پر برنگ روشنائی کیا رہوں کوئی شاید آ ہی جائے راستہ تکتا رہوں ایک سنگ میل بن جاؤں بہ چشم وا رہوں کھائی سے سب کو بچا لوں میں نہ کچلا جاؤں تو بن کے خطرہ کا نشاں رستے میں استادہ رہوں دشت تنہائی میں یادوں کے درندوں سے ڈروں بچ بچا کے بھیڑ ...

مزید پڑھیے

خزاں کے دوش پہ رکھتا ہے وہ بہار کا رنگ

خزاں کے دوش پہ رکھتا ہے وہ بہار کا رنگ عجب ہے اس کی نگاہوں میں انتظار کا رنگ عجب ہے رسم وفا اور اعتبار کا رنگ کہ دل میں بن کے دھڑکتا ہے اس کے پیار کا رنگ سکون دل کا ٹھکانا کہیں نہ مل پایا بسا ہوا ہے نگاہوں میں جو دیار کا رنگ لبوں پہ جھوٹا تبسم نمی سی آنکھوں میں عیاں ہے چہرے سے اس ...

مزید پڑھیے

میں کہ افسردہ مکانوں میں رہوں

میں کہ افسردہ مکانوں میں رہوں آج بھی گزرے زمانوں میں رہوں رات ہے سر پر کوئی سورج نہیں کس لیے پھر سائبانوں میں رہوں کیا وسیلہ ہو مرے اظہار کا لفظ ہوں گونگی زبانوں میں رہوں کون دیکھے گا یہاں طاقت مری تیر ہوں ٹوٹی کمانوں میں رہوں بھیڑیے ہیں چار سو بپھرے ہوئے نیچے اتروں یا ...

مزید پڑھیے

محبت کے سفر میں کوئی بھی رستا نہیں دیتا

محبت کے سفر میں کوئی بھی رستا نہیں دیتا زمیں واقف نہیں بنتی فلک سایا نہیں دیتا خوشی اور دکھ کے موسم سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں کسی کو اپنے حصے کا کوئی لمحہ نہیں دیتا نہ جانے کون ہوتے ہیں جو بازو تھام لیتے ہیں مصیبت میں سہارا کوئی بھی اپنا نہیں دیتا اداسی جس کے دل میں ہو اسی کی ...

مزید پڑھیے

سوکھی زمیں کو یاد کے بادل بھگو گئے

سوکھی زمیں کو یاد کے بادل بھگو گئے پلکوں کو آج بیتے ہوئے پل بھگو گئے آنسو فلک کی آنکھ سے ٹپکے تمام رات اور صبح تک زمین کا آنچل بھگو گئے ماضی کے ابر ٹوٹ کے برسے کچھ اس طرح مدت سے خشک آنکھوں کے جنگل بھگو گئے وقت سفر جدائی کے لمحات مضمحل اک بے وفا کی آنکھ کا کاجل بھگو گئے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 198 سے 4657