شاعری

زرد گلابوں کی خاطر بھی روتا ہے

زرد گلابوں کی خاطر بھی روتا ہے کون یہاں پر میلے کپڑے دھوتا ہے جس کے دل میں ہریالی سی ہوتی ہے سب کے سر کا بوجھ وہی تو ڈھوتا ہے سطحی لوگوں میں گہرائی ہوتی ہے یہ ڈوبے تو پانی گہرا ہوتا ہے صدیوں میں کوئی ایک محبت ہوتی ہے باقی تو سب کھیل تماشا ہوتا ہے دکھ ہوتا ہے وقت رواں کے ٹھہرنے ...

مزید پڑھیے

بہت کچھ وصل کے امکان ہوتے

بہت کچھ وصل کے امکان ہوتے شرارت کرتے ہم شیطان ہوتے سمٹ آئی ہے اک کمرے میں دنیا تو بچے کس طرح نادان ہوتے کسی دن عقدۂ مشکل بھی کھلتا کبھی ہم پر بھی تم آسان ہوتے خطا سے منہ چھپائے پھر رہے ہیں فرشتے بن گئے انسان ہوتے ہر اک دم جاں نکالی جا رہی ہے ہم اک دم سے کہاں بے جان ہوتے

مزید پڑھیے

آئینے مد مقابل ہو گئے

آئینے مد مقابل ہو گئے درمیاں ہم ان کے حائل ہو گئے کچھ نہ ہوتے ہوتے اک دن یہ ہوا سیکڑوں صدیوں کا حاصل ہو گئے کشتیاں آ کر گلے لگنے لگیں ڈوب کر آخر کو ساحل ہو گئے اور احساس جہالت بڑھ گیا کس قدر پڑھ لکھ کے جاہل ہو گئے اپنی اپنی راہ چلنے والے لوگ بھیڑ میں آخر کو شامل ہو گئے تندرستی ...

مزید پڑھیے

ہے میرے سر سے کوئی بوجھ اتارنے والا

ہے میرے سر سے کوئی بوجھ اتارنے والا پکارتا ہے یہ ہر دم پکارنے والا پھرا ہے یوں وہ رخ آئنہ نما مجھ سے کوئی نہیں میری صورت سنوارنے والا بنا ہوں سینۂ دریا کا بوجھ مدت سے کوئی رہا ہی نہیں پار اتارنے والا بدلتی جاتی ہے حالت زمیں کے چہرے کی کہ آسماں ہے نیا روپ دھارنے والا اتر کے کار ...

مزید پڑھیے

ستارے چپ ہیں کہ نغمہ سرا سمندر ہے

ستارے چپ ہیں کہ نغمہ سرا سمندر ہے شب خموش کے دل کی صدا سمندر ہے سکوت لب کو صداؤں کا پیش رو سمجھو کہ رود بار کے آگے کھلا سمندر ہے وہ دیکھتا ہے مرے اضطراب کو ہنس کر میں تیز رو ہوں وہ ٹھہرا ہوا سمندر ہے مہہ‌ و نجوم دکھاتے ہیں آئنہ اس کو فلک کے سامنے چہرہ نما سمندر ہے مٹا چلے ہیں ...

مزید پڑھیے

گاڑی کی کھڑکی سے دیکھا شب کو اس کا شہر

گاڑی کی کھڑکی سے دیکھا شب کو اس کا شہر چاروں اور تھا کالا جنگل بیچ میں اجلا شہر یاد نہ آتا کیوں گاؤں میں ہم کو بھی لاہور لوگ سمندر پار نہ پائیں اس سے اچھا شہر سچ ہے ہر اک ملک خدا کا دیس ہے ہر انساں کا لیکن اپنا شہر ہے یارو آخر اپنا شہر خواب میں سن کر جاگ اٹھتا ہوں ان کی چیخ ...

مزید پڑھیے

پانی پانی رہتے ہیں

پانی پانی رہتے ہیں خاموشی سے بہتے ہیں میری آنکھ کے تارے بھی جلتے بجھتے رہتے ہیں بیچارے معصوم دیے دکھ سانسوں کا سہتے ہیں جس کی کچھ تعبیر نہ ہو خواب اسی کو کہتے ہیں اپنوں کی ہمدردی سے دشمن بھی خوش رہتے ہیں مسجد بھی کچھ دور نہیں وہ بھی پاس ہی رہتے ہیں

مزید پڑھیے

یوں ہی ہم درد اپنا کھو رہے ہیں

یوں ہی ہم درد اپنا کھو رہے ہیں یہی رونا ہے ہم کیوں رو رہے ہیں قیامت خواب سے آنکھیں کھلی تھیں پھر آنکھیں کھول کر ہم سو رہے ہیں بہت زرخیز سیلاب بلا تھا یہاں اب خوب فصلیں بو رہے ہیں ہوائے وصل نے وہ خاک اڑائی ابھی تک ہاتھ منہ ہم دھو رہے ہیں دیے سارے بدن میں تیرتے ہیں کیوں اتنا پانی ...

مزید پڑھیے

برگزیدہ ہیں ہواؤں کے اثر سے ہم بھی

برگزیدہ ہیں ہواؤں کے اثر سے ہم بھی دیکھتے ہیں تجھے دنیا کی نظر سے ہم بھی اپنے رستے میں بڑے لوگ تھے رفتار شکن اور کچھ دیر میں نکلے ذرا گھر سے ہم بھی رات اس نے بھی کسی لمحے کو محسوس کیا لوٹ آئے کسی بے وقت سفر سے ہم بھی سب کو حیرت زدہ کرتی ہے یہاں بے خبری چونک پڑتے تھے یوں ہی پہلے ...

مزید پڑھیے

خوشی سے اپنا گھر آباد کر کے

خوشی سے اپنا گھر آباد کر کے بہت روئیں گے تم کو یاد کر کے خیال و خواب بھی ہیں سر جھکائے غلامی بخش دی آزاد کر کے جو کہنے کے لیے ہی آبرو تھی وہ عزت بھی گئی فریاد کر کے پرندے سر پہ گھر رکھے ہوئے ہیں مجھے چھوڑیں گے یہ صیاد کر کے یہاں ویسے بھی کیا آباد رہتا یہ دھڑکا تو گیا برباد کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 194 سے 4657