زرد گلابوں کی خاطر بھی روتا ہے
زرد گلابوں کی خاطر بھی روتا ہے کون یہاں پر میلے کپڑے دھوتا ہے جس کے دل میں ہریالی سی ہوتی ہے سب کے سر کا بوجھ وہی تو ڈھوتا ہے سطحی لوگوں میں گہرائی ہوتی ہے یہ ڈوبے تو پانی گہرا ہوتا ہے صدیوں میں کوئی ایک محبت ہوتی ہے باقی تو سب کھیل تماشا ہوتا ہے دکھ ہوتا ہے وقت رواں کے ٹھہرنے ...