ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا
ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا اپنی فطرت میں نہیں پیچھے پلٹ کر دیکھنا اب وہ برگد ہے نہ وہ پنگھٹ نہ اب وہ گوپیاں ایسے پس منظر میں کیا گاؤں کا منظر دیکھنا جادۂ گل کی مسافت ہی نہیں ہے زندگی زندگی کرنا ہے انگاروں پہ چل کر دیکھنا اپنے مخلص دوستوں پر وار میں کیسے کروں کوئی ...