شاعری

ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا

ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنا اپنی فطرت میں نہیں پیچھے پلٹ کر دیکھنا اب وہ برگد ہے نہ وہ پنگھٹ نہ اب وہ گوپیاں ایسے پس منظر میں کیا گاؤں کا منظر دیکھنا جادۂ گل کی مسافت ہی نہیں ہے زندگی زندگی کرنا ہے انگاروں پہ چل کر دیکھنا اپنے مخلص دوستوں پر وار میں کیسے کروں کوئی ...

مزید پڑھیے

نوائے حق پہ ہوں قاتل کا ڈر عزیز نہیں

نوائے حق پہ ہوں قاتل کا ڈر عزیز نہیں پڑے جہاد تو اپنا بھی سر عزیز نہیں پڑا ہوا ہوں سر رہ گزر تو رہنے دے تری گلی سے زیادہ تو گھر عزیز نہیں فقیر شہر کو لعل و گہر سے کیا نسبت مرے عزیز مجھے مال و زر عزیز نہیں پھلوں کو لوٹ کے لے جاؤ پیڑ مت کاٹو شجر عزیز ہے مجھ کو ثمر عزیز نہیں وہ لوگ ...

مزید پڑھیے

ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوں

ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوں میری چھت ٹوٹی پڑی ہے دوسروں کے گھر میں ہوں آئے گا اک دن مرے اڑنے کا موسم آئے گا بس اسی امید پر میں اپنے بال و پر میں ہوں جسم کی رعنائیوں میں ڈھونڈتے ہو تم مجھے اور میں کب سے تمہاری روح کے پیکر میں ہوں دیکھتے ہیں سب نظر آتی ہوئیں ...

مزید پڑھیے

کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھو

کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھو ایسے بھی تم خواب نہ دیکھو ڈوب رہے سورج میں یارو دن کی آب و تاب نہ دیکھو ہرجائی ہیں لوگ یہاں کے اس بستی کے خواب نہ دیکھو اندر سے ہم ٹوٹ رہے ہیں باہر کے اسباب نہ دیکھو فن دیکھو بس ملاحوں کا دریا کے سیلاب نہ دیکھو سچے سپنے دو آنکھوں کو جھوٹے ہوں وہ خواب نہ ...

مزید پڑھیے

جہان تنگ میں تنہا ہوا میں

جہان تنگ میں تنہا ہوا میں بہت اچھا ہوا رسوا ہوا میں مری آنکھوں کا پہچانا ہوا تو نگاہ دہر کا دیکھا ہوا میں ابھر آئی ہوا کی موج سر میں حریف‌ موجۂ دریا ہوا میں جبین آب کی تحریر دنیا حروف سنگ سے لکھا ہوا میں فنا کے ہاتھ میں میری بقا ہے خود اپنی خاک سے پیدا ہوا میں ہوئی وابستہ مجھ ...

مزید پڑھیے

اسی کی دھن میں کہیں نقش پا گیا ہے مرا

اسی کی دھن میں کہیں نقش پا گیا ہے مرا جو آ کے خواب میں در کھٹکھٹا گیا ہے مرا گزر گیا ہے جو پہلو بچا کے مجھ سے تو کیا نظر جھکا کے وہ گھر دیکھتا گیا ہے مرا ہوں مضطرب تری گم گشتہ آرزو کے لیے دکان دل سے در بے بہا گیا ہے مرا اسیر گنبد بے در پڑا ہوں مدت سے مرے ہی دل پہ وہ پہرہ بٹھا گیا ...

مزید پڑھیے

تیرہ و تار زمینوں کے اجالے دریا

تیرہ و تار زمینوں کے اجالے دریا ہم نے صحراؤں کے سینے سے نکالے دریا وادیاں آئیں تو آرام سے سو جاتے ہیں فاصلوں سے نہ کبھی ہارنے والے دریا چاہتے تھے کہ پھریں روئے زمیں پر ہر سو بن گئے راہ میں غاروں کے نوالے دریا تجھ سے چھٹنے پہ ترے دھیان کی آغوش ملی کر گیا مجھ کو سمندر کے حوالے ...

مزید پڑھیے

بساط شوق کے منظر بدلتے رہتے ہیں

بساط شوق کے منظر بدلتے رہتے ہیں ہوا کے رنگ برابر بدلتے رہتے ہیں بتان رنگ بھی کچھ کم نہیں ہیولوں سے قدم قدم پہ یہ پیکر بدلتے رہتے ہیں چھپائے چھپتی نہیں ان سے کہنگی دل کی نئے لباس وہ ہر دم بدلتے رہتے ہیں رہی نہیں کبھی یک رنگ آسماں کی جبیں حروف لوح مقدر بدلتے رہتے ہیں قیام کرتا ...

مزید پڑھیے

وہی لڑکی وہی لڑکا پرانا

وہی لڑکی وہی لڑکا پرانا کہیں ہوتا ہے یہ قصہ پرانا اکیلے پن میں اب اک تازگی ہے ہوا جاتا ہے ہر رشتہ پرانا جہان عقل کا انسان جاہل نیا جغرافیہ نقشہ پرانا جہاں دیکھو وہی فرسودہ منظر جدھر نکلو وہی رستہ پرانا نیا شاعر بھی الجھا ہے زباں میں یہ استادوں سے بھی نکلا پرانا نہ اکتاؤ جو ...

مزید پڑھیے

کئی دلوں میں پڑی اس سے شور و شر کی طرح

کئی دلوں میں پڑی اس سے شور و شر کی طرح ترا خیال ہے اڑتی ہوئی خبر کی طرح نہیں ہے تاب نظر کم عیار آنکھوں میں چمک رہا ہے وہ چہرہ دکان‌ زر کی طرح ہٹے گی گرد مہ و سال کس کے ہاتھوں سے زمانہ بند پڑا ہے قدیم در کی طرح خیال غیر نکلتا نہیں مرے دل سے کسی کے گھر میں یہ بیٹھا ہے اپنے گھر کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 193 سے 4657