پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گا
پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گا لیکن اسی لحاظ سے پتھر بھی آئے گا حالات جب بھی شہر کے فلمائے جائیں گے پردے پہ میرے قتل کا منظر بھی آئے گا بے چہرہ پھر رہا ہوں مگر اس یقیں کے ساتھ آئینہ میرے قد کے برابر بھی آئے گا کب تک کوئی چھپے گا عداوت کے غار میں دشمن کبھی تو سامنے کھل کر بھی ...