شاعری

پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گا

پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گا لیکن اسی لحاظ سے پتھر بھی آئے گا حالات جب بھی شہر کے فلمائے جائیں گے پردے پہ میرے قتل کا منظر بھی آئے گا بے چہرہ پھر رہا ہوں مگر اس یقیں کے ساتھ آئینہ میرے قد کے برابر بھی آئے گا کب تک کوئی چھپے گا عداوت کے غار میں دشمن کبھی تو سامنے کھل کر بھی ...

مزید پڑھیے

سرد رتوں میں لوگوں کو گرمی پہنچانے والے ہاتھ

سرد رتوں میں لوگوں کو گرمی پہنچانے والے ہاتھ برف کے جیسے ٹھنڈے کیوں ہیں اون بنانے والے ہاتھ مٹی کے پیالوں میں ہر دن صبح سے اپنی شام کریں رنگ برنگے پھولوں سے گلدان سجانے والے ہاتھ ایسے تھے حالات کہ چھوٹا ان کا میرا ساتھ مگر یاد بہت آتے ہیں وہ چوڑی کھنکانے والے ہاتھ دفتر سے میں ...

مزید پڑھیے

زوال فکر کو ذہنوں کی تیرگی کہتے

زوال فکر کو ذہنوں کی تیرگی کہتے جو بات ہم نے کہی ہے وہ آپ بھی کہتے فراز دار پہ روداد زندگی کہتے خدا شناس جو ہوتے تو واقعی کہتے ترس رہے ہیں جو راحت کی زندگی کے لئے وہ کیسے غم کو مسرت کی زندگی کہتے اب ایسے لوگ زمانہ سے اٹھ گئے شاید تمہارے غم کو جو سرمایۂ خوشی کہتے یہ فکر نو کے ...

مزید پڑھیے

بخت جاگے تو جہاں دیدہ سی ہو جاتی ہے

بخت جاگے تو جہاں دیدہ سی ہو جاتی ہے شخصیت اور بھی سنجیدہ سی ہو جاتی ہے گو ہمہ وقت نئی لگتی ہے دنیا لیکن شے پرانی ہو تو بوسیدہ سی ہو جاتی ہے کون ہے وہ کہ جسے موند لوں آنکھیں دیکھوں آنکھ کھل جائے تو پوشیدہ سی ہو جاتی ہے کھیل ہی کھیل میں لڑکی وہ شرارت والی بات ہی بات میں سنجیدہ سی ...

مزید پڑھیے

سمٹوں تو صفر سا لگوں پھیلوں تو اک جہاں ہوں میں

سمٹوں تو صفر سا لگوں پھیلوں تو اک جہاں ہوں میں جتنی کہ یہ زمین ہے اتنا ہی آسماں ہوں میں میرے ہی دم قدم سے ہیں قائم یہ نغمہ خوانیاں گلزار ہست و بود کا طوطیٔ خوش بیاں ہوں میں مجھ ہی میں ضم ہیں جان لے دریا تمام دہر کے قطرہ نہ تو مجھے سمجھ اک بحر بیکراں ہوں میں نازاں ہے خد و خال پر ...

مزید پڑھیے

گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئے

گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئے ہم یوں چلے کہ راہ کے پتھر بھی ہٹ گئے ہم نے کھلے کواڑ پہ دستک سنی مگر وہ کون لوگ تھے کہ جو آ کر پلٹ گئے در بند ہی رکھو کہ ہواؤں کا زور ہے اب کے کھلے کواڑ تو سمجھو کہ پٹ گئے غارت گریٔ زور تلاطم ارے غضب کشتی کے بادبان ہواؤں سے پھٹ گئے صحرا کی تیز ...

مزید پڑھیے

چل پڑے تو پھر اپنی دھن میں بے خبر برسوں

چل پڑے تو پھر اپنی دھن میں بے خبر برسوں لوٹ کر نہیں دیکھا ہم نے اپنا گھر برسوں جادۂ حوادث میں چل کے دیکھ لے کوئی کیسے طے کیا ہم نے موت کا سفر برسوں برگ و بار پر اس کے حق نہیں ہمارا ہی اپنے خون سے سینچا ہم نے جو شجر برسوں جو صدف سمندر کی تہہ میں چھان سکتے تھے ڈھونڈتے رہے وہ بھی ...

مزید پڑھیے

طبع روشن کو مری کچھ اس طرح بھائی غزل

طبع روشن کو مری کچھ اس طرح بھائی غزل جب بھی میں تنہا ہوا ہوں مجھ کو یاد آئی غزل جب بھی دن ڈوبا ہوئی فکر سخن لاحق مجھے شام ہوتے ہی مرے ساغر میں در آئی غزل یاد جب آئے مجھے بچھڑے ہوئے ساتھی مرے کانپتے ہونٹوں کی ہر سلوٹ پہ لہرائی غزل پھول سی آنکھوں میں انگارے لیے پھرتا ہوں میں رات ...

مزید پڑھیے

مجھ کو سمجھو نہ حرف غلط کی طرح

مجھ کو سمجھو نہ حرف غلط کی طرح ثبت ہو جاؤں گا دستخط کی طرح غور سے پڑھ رہا ہوں زمانے تجھے اپنے محبوب کے پہلے خط کی طرح وہ ہمیشہ نگاہوں میں تنہا رہا صاف پانی میں شفاف بط کی طرح ہم نے پتھر سے ہیرے تراشے ظفرؔ دست قدرت کے بے مثل قط کی طرح

مزید پڑھیے

خشک لمحات کے دریا میں بہا دے مجھ کو

خشک لمحات کے دریا میں بہا دے مجھ کو مرگ احساس کی سولی پہ چڑھا دے مجھ کو کون آ کر ترے انصاف کا مصداق بنے بے گناہی پہ اگر تو نہ سزا دے مجھ کو ایک پل میں یہ مرا رنگ اڑا دیتے ہیں راس آتے نہیں خوش رنگ لبادے مجھ کو یوں مجھے دیکھ کے چہرہ نہ چھپا ہاتھوں سے میں ترا جسم برہنہ ہوں قبا دے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 192 سے 4657