شاعری

مزاج شعر کو ہر دور میں رہا محبوب

مزاج شعر کو ہر دور میں رہا محبوب کھنکتا لہجہ سلگتا ہوا نیا اسلوب تلاش اور تجسس کے باوجود ہمیں وہ چیز مل نہ سکی جو ہے وقت کو مطلوب کوئی بھی آنکھ وہاں تک پہنچ نہیں سکتی چھپا کے رکھے ہیں تو نے جہاں مرے مکتوب ابھی تو آس کے آنگن میں کچھ اجالا ہے سلونے چاند جدائی کے بادلوں میں نہ ...

مزید پڑھیے

زخم کا جو مرہم ہوتے ہیں

زخم کا جو مرہم ہوتے ہیں لوگ ایسے اب کم ہوتے ہیں سورج ڈوب کے پھر ابھرے گا کیوں اتنے ماتم ہوتے ہیں کمسن لفظوں کے سینوں میں گہرے مطلب کم ہوتے ہیں لمحہ لمحہ عمر خوشی کی صدیاں صدیاں غم ہوتے ہیں پہلے آپ سمندر سے دریا خود ہی ضم ہوتے ہیں

مزید پڑھیے

تری نگاہ کا یہ انقلاب دیکھا ہے

تری نگاہ کا یہ انقلاب دیکھا ہے دل و نظر میں عجب اضطراب دیکھا ہے کبھی تو عشق میں یہ انقلاب دیکھا ہے کہ اپنے آپ کو ہی بے حجاب دیکھا ہے زمین شہر وفا کیوں نہ ہو فلک کا جواب ہر ایک ذرہ یہاں آفتاب دیکھا ہے جو بے مثال ہے دنیا میں عشق پروانہ تو حسن شمع کو بھی لا جواب دیکھا ہے دیا ہے جس ...

مزید پڑھیے

انسان کو ملتے ہیں نئی بات کے پتھر

انسان کو ملتے ہیں نئی بات کے پتھر ٹکراتے ہیں جس وقت خیالات کے پتھر احساس پہ گرتے ہیں جو اوقات کے پتھر جذبوں کو کچل دیتے ہیں حالات کے پتھر جب پیار کی راہوں میں قدم اس نے بڑھایا مجنوں کو بھی مارے گئے دن رات کے پتھر کعبہ ہو یا کاشی ہو ذرا غور سے دیکھو عظمت کی نشانی ہیں مقامات کے ...

مزید پڑھیے

دلاسا دے کے بہلایا ہے دل کو

دلاسا دے کے بہلایا ہے دل کو بڑی مشکل سے سمجھایا ہے دل کو ترے غم نے جو چمکایا ہے دل کو مثال آئنہ پایا ہے دل کو تری الفت میں اے جان تمنا زمانے بھر سے ٹکرایا ہے دل کو خرد سے بے تعلق ہو گئے جب جنوں کی راہ میں پایا ہے دل کو زہے قسمت کہ حق گوئی کا جذبہ مقام دار تک لایا ہے دل کو کسی نے ...

مزید پڑھیے

کلیوں کی چٹک گل کی ہنسی اور زیادہ

کلیوں کی چٹک گل کی ہنسی اور زیادہ آئے تیرے حصہ میں خوشی اور زیادہ آ جائے ان آنکھوں میں نمی اور زیادہ ہو جائے مرے دل کی لگی اور زیادہ کچھ دل کی تڑپ بڑھ گئی منزل پہ پہنچ کر کچھ روح بھی بیتاب ہوئی اور زیادہ ساقی نے جو مخمور نگاہوں سے نوازا صہبا مرے ساغر میں ڈھلی اور زیادہ پھر جاگ ...

مزید پڑھیے

یہ مان لو کہ غم ہے ضروری خوشی کے بعد

یہ مان لو کہ غم ہے ضروری خوشی کے بعد اک تیرگی کا دور ہے اس روشنی کے بعد اے دل یہ اضطراب ترے کام آئے گا مل جائے گا سکون تجھے بیکلی کے بعد جب تبصرہ کریں وہ مرے واقعات پر دیوانگی کی بات چھڑے آگہی کے بعد دنیا سنوارنی ہے تو عقبیٰ کی فکر کر اک اور زندگی بھی ہے اس زندگی کے بعد آباد ہو ...

مزید پڑھیے

گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گا

گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گا وہ یوں ملے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا کرم کرے گا مرے حال پر مگر پہلے شرارتاً وہ مجھے غم شناس کر دے گا شگفتگیٔ چمن پر بہت غرور نہ کر خزاں کا دور تجھے بد حواس کر دے گا گیا وہ دور کہ جب خار بھی مہکتے تھے یہ دور وہ ہے جو پھولوں کو ناس کر دے گا وہ ...

مزید پڑھیے

بات مہندی سے لہو تک آ گئی

بات مہندی سے لہو تک آ گئی گفتگو اب تم سے تو تک آ گئی اب وہ شغل چاک دامانی کہاں اب طبیعت تو رفو تک آ گئی جان جائے یار ہے اب ڈر نہیں بات اپنی آبرو تک آ گئی آرزو تھی جس کو پانے کی ہمیں جستجو اس آرزو تک آ گئی بوٹے بوٹے سے نمایاں ہے بہار ڈالی ڈالی رنگ و بو تک آ گئی وصل کی شب اور اتنی ...

مزید پڑھیے

کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کھلا

کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کھلا اپنے اندر سب کھلے ہیں کون ہے باہر کھلا قتل سے پہلے ذرا چیخوں پہ اک مقتول کی کچھ دریچے تو کھلے لیکن نہ کوئی در کھلا تنگ ہو جائے زمیں بھی اب تو کوئی غم نہیں ہم فقیروں کے لئے ہے آسماں سر پر کھلا آدمی کے ظاہر و باطن میں کتنا فرق ہے آج دوران ...

مزید پڑھیے
صفحہ 191 سے 4657