مزاج شعر کو ہر دور میں رہا محبوب
مزاج شعر کو ہر دور میں رہا محبوب کھنکتا لہجہ سلگتا ہوا نیا اسلوب تلاش اور تجسس کے باوجود ہمیں وہ چیز مل نہ سکی جو ہے وقت کو مطلوب کوئی بھی آنکھ وہاں تک پہنچ نہیں سکتی چھپا کے رکھے ہیں تو نے جہاں مرے مکتوب ابھی تو آس کے آنگن میں کچھ اجالا ہے سلونے چاند جدائی کے بادلوں میں نہ ...