شاعری

یہ ضروری نہیں ہے جہاں دیکھنا

یہ ضروری نہیں ہے جہاں دیکھنا وہ جدھر کو چلے بس وہاں دیکھنا ان کی قسمت میں تھی ایسی منظر کشی پنکھڑی سے لبوں پر دھواں دیکھنا کوئی آتا نہیں کوئی جاتا نہیں ایسا سنسان کوئی نشاں دیکھنا پیڑ نے اپنے پھل کو سکھایا نہیں دوسروں کے گھروں میں اماں دیکھنا لے گیا جو بچھڑ کے ملا تھا ...

مزید پڑھیے

لاکھ اونچی سہی اے دوست کسی کی آواز

لاکھ اونچی سہی اے دوست کسی کی آواز اپنی آواز بہر حال ہے اپنی آواز اب کنویں پر نظر آتا نہیں پیاسوں کا ہجوم تیرے پازیب کی کیا ٹوٹ کے بکھری آواز وہ کسی چھت کسی دیوار سے روکے نہ رکی گرم ہونٹوں کے تصادم سے جو ابھری آواز لوگو سچ مت کہو سچ کی نہیں قیمت کوئی کسی دیوانے کی سناٹے میں ...

مزید پڑھیے

خاک زادے خاک میں یا خاک پر ہیں آج بھی

خاک زادے خاک میں یا خاک پر ہیں آج بھی سامنے اک کوزہ گر کے چاک پر ہیں آج بھی یہ نہ جانا کس طرف سے آئی چنگاری مگر تہمتیں ساری خس و خاشاک پر ہیں آج بھی جس تکبر کی بدولت چھن گئے ان کے حقوق اس کے اثرات رعونت ناک پر ہیں آج بھی میں نے رتی بھر نظام فکر کو بدلا نہیں منحصر افکار سب ادراک پر ...

مزید پڑھیے

راحتوں کے دھوکے میں اضطراب ڈھونڈے ہیں

راحتوں کے دھوکے میں اضطراب ڈھونڈے ہیں ہم نے اپنی خاطر ہی خود عذاب ڈھونڈے ہیں یہ تو اس کی عادت ہے روز گل مسلتا ہے آج بھی مسلنے کو کچھ گلاب ڈھونڈے ہیں رات آندھی آنے پر اڑ گئے تھے خیمے سب غافلوں نے مشکل سے کچھ طناب ڈھونڈے ہیں تیری حکمرانی بھی ختم ہونے والی ہے ہم نے کچھ کتابوں میں ...

مزید پڑھیے

امیروں کے برے اطوار کو جو ٹھیک سمجھے ہے

امیروں کے برے اطوار کو جو ٹھیک سمجھے ہے مری حق بات کو وہ قابل تشکیک سمجھے ہے بہت مشکل ہے جو اس کی غریبی دور ہو جائے عجب خوددار ہے امداد کو بھی بھیک سمجھے ہے مرے بارے میں اس کے کان بھرتا ہے کوئی شاید بیاں توصیف کرتا ہوں تو وہ تضحیک سمجھے ہے ترے خط تیری تصویریں شکستہ دل کے کچھ ...

مزید پڑھیے

یہ کیسا کام اے دست مسیح کر ڈالا

یہ کیسا کام اے دست مسیح کر ڈالا جو دل کا زخم تھا وہ ہی صحیح کر ڈالا شب سیاہ کا چہرہ اداس دیکھا تو نکل کے چاند نے اس کو ملیح کر ڈالا ذرا سا جھانک کے تاریکیوں سے سورج نے ملیح چہرۂ شب کو صبیح کر ڈالا میں کیسے عقل کا پیکر سمجھ لوں انساں کو خود اپنی زیست کو جس نے قبیح کر ڈالا کل اس نے ...

مزید پڑھیے

دنیائے فکر نو کا تمنائی بن گیا

دنیائے فکر نو کا تمنائی بن گیا ہر آدمی حیات کا شیدائی بن گیا جب سے دل ان کی زلف کا سودائی بن گیا میرے لیے وہ باعث رسوائی بن گیا وہ دل جو اپنے آپ سے بیگانہ ہو گیا سچ تو یہ ہے کہ مرکز دانائی بن گیا طوفان غم سے کھیلے گا وہ کس طرح بھلا ساحل پہ بیٹھ کر جو تماشائی بن گیا اس غم پہ ہوں ...

مزید پڑھیے

وجد میں موج صبا ہے شاید

وجد میں موج صبا ہے شاید پھر کوئی نغمہ سرا ہے شاید دل مسرت سے جدا ہے شاید وہ نظر مجھ سے خفا ہے شاید قافلہ بھٹکا ہوا ہے شاید راہزن راہنما ہے شاید اس طرح زہر غم دل پینا جرم الفت کی سزا ہے شاید رہرو شوق کو منزل نہ ملی راستہ بھول گیا ہے شاید تیرے احساس کا اے جان وفا آئنہ ٹوٹ گیا ہے ...

مزید پڑھیے

لیجئے اب راز دل افشا ہوا

لیجئے اب راز دل افشا ہوا ہر طرف باتیں ہوئیں چرچا ہوا مجھ پہ بھی طاری تھی جیسے بے خودی وہ بھی تھا جیسے کہیں کھویا ہوا تیرے بن جینا کسے منظور تھا زندگی سے ایک سمجھوتہ ہوا خانۂ دل میں چراغ آرزو ہے کبھی جلتا کبھی بجھتا ہوا اس کی رنگت پر کھلے ہر اک لباس روپ اس کا ہے عجب نکھرا ...

مزید پڑھیے

بظاہر انجمن آرائیاں ہیں

بظاہر انجمن آرائیاں ہیں وہی غم ہے وہی تنہائیاں ہیں بلندی پر سنبھل کر پاؤں رکھنا بہت گہری یہاں پر کھائیاں ہیں کہاں گم ہو گیا بچپن ہمارا وہی جھولے وہی امرائیاں ہیں تری یادوں کی مدھم روشنی ہے سکوت شام ہے تنہائیاں ہیں ضمیرؔ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں یہاں پر جا بجا رسوائیاں ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 190 سے 4657