ترے ناز و ادا کو تیرے دیوانے سمجھتے ہیں
ترے ناز و ادا کو تیرے دیوانے سمجھتے ہیں حقیقت شمع کی کیا ہے یہ پروانے سمجھتے ہیں مکمل وارداتیں ہیں مرے گزرے زمانے کی حقائق سے جو ناواقف ہیں افسانے سمجھتے ہیں جنوں کے کیف و کم سے آگہی تجھ کو نہیں ناصح گزرتی ہے جو دیوانوں پہ دیوانے سمجھتے ہیں تری مخمور آنکھوں کو کوئی کچھ بھی ...