شاعری

سکون دل نہ سہی جوش اضطراب تو ہے

سکون دل نہ سہی جوش اضطراب تو ہے حساب تیری عنایت کا بے حساب تو ہے یہاں قیام مسرت کا نقش کیسے ملے جہاں مصائب پیہم کا ایک باب تو ہے فسانہ دل کا پہنچتا ہے دیکھیے ان تک نگاہ شوق سر بزم بے حجاب تو ہے قفس اداس فضا دم بخود چمن ویراں بقدر درد فغاں آج کامیاب تو ہے خدا کا شکر کہ اظہرؔ بہ ...

مزید پڑھیے

جاگے جو خواب غم سے پھر نیند ہی نہ آئی

جاگے جو خواب غم سے پھر نیند ہی نہ آئی دہشت کے زیر و بم سے پھر نیند ہی نہ آئی معلوم ہی نہیں کچھ ہم کیسے سو گئے تھے ڈر کر رخ ستم سے پھر نیند ہی نہ آئی تاروں سے رابطے کچھ قائم رہے ہمہ شب اس شغل مغتنم سے پھر نیند ہی نہ آئی گونجی سکوت شب میں آواز جانے کس کی ہم کو تو خوف غم سے پھر نیند ہی ...

مزید پڑھیے

آ گیا پھر بہار کا موسم

آ گیا پھر بہار کا موسم حسن کے کاروبار کا موسم کس ادا سے سنور کے آیا ہے رنگ لیل و نہار کا موسم اہل دل کے لیے پلٹ آیا فرصت انتظار کا موسم خود بخود پھول بے حجاب ہوئے جوش میں ہے نکھار کا موسم اب کھلے گا بھرم وفاؤں کا رنگ لائے گا پیار کا موسم کیوں نہ ہو ذکر گل رخاں اظہرؔ اوج پر ہے ...

مزید پڑھیے

فرقت کی شب فضا پہ اداسی محیط ہے

فرقت کی شب فضا پہ اداسی محیط ہے گلزار پر ہوا پہ اداسی محیط ہے مغموم ماہ و گل ہیں پریشاں ہے چاندنی فطرت کی ہر ادا پہ اداسی محیط ہے تارے چمک رہے ہیں پر اپنے خیال میں تاروں کی کل ضیا پہ اداسی محیط ہے آ جاؤ اب خدا کے لئے بہر اتصال معمورۂ وفا پہ اداسی محیط ہے اظہرؔ کو آج دیکھ تو لو ...

مزید پڑھیے

آپ پر جب سے طبیعت آئی

آپ پر جب سے طبیعت آئی روز و شب مجھ پہ قیامت آئی ہائے برباد کیا ہے کیا کیا راس ہم کو نہ محبت آئی اے ہوس کار تری نظروں میں کب بھلا میری حقیقت آئی زندگی بیت گئی ہے یوں ہی جب بھی آئی شب فرقت آئی ظلم گو اس نے بہت بار کئے لب پہ میرے نہ شکایت آئی تیری خاطر سے جہاں کو چھوڑا پھر بھی تجھ ...

مزید پڑھیے

کسی طرف جانے کا رستہ کہیں نہیں

کسی طرف جانے کا رستہ کہیں نہیں ایسا گھور اندھیرا دیکھا کہیں نہیں کس ظالم نے پر پیڑوں کے کاٹ دیے آگ اگلتی دھوپ میں سایہ کہیں نہیں تشنہ روح کی پیاس بجھانے پہنچے تھے دریا میں بھی پانی پایا کہیں نہیں کانچ کی صورت سارے سپنے ٹوٹ گئے چھم سے برسنے بادل آیا کہیں نہیں محفل محفل اظہرؔ ...

مزید پڑھیے

میرے خورشید و قمر آئے نہیں

میرے خورشید و قمر آئے نہیں ظلمتوں کے چارہ گر آئے نہیں فصل گل کی خاصیت کو کیا ہوا شاخ دل پر برگ و بر آئے نہیں خستہ سامانی ہماری دیکھنے لوگ آتے تھے مگر آئے نہیں میں فقط باغوں کا رکھوالا رہا میرے حصے میں ثمر آئے نہیں گدلے جوہڑ چیتھڑوں سی بستیاں اہل دل کیا اس نگر آئے نہیں

مزید پڑھیے

دم نیم شب کل فضا سو رہی ہے

دم نیم شب کل فضا سو رہی ہے خراماں خراماں ہوا سو رہی ہے شکستہ ستاروں کو نیند آ رہی ہے حزیں ٹمٹماتی ضیا سو رہی ہے مکمل خموشی ہے ہر رقص گہ میں لب چنگ و نے پر نوا سو رہی ہے زمیں سے فلک تک فلک سے زمیں تک برنگ تخیل دعا سو رہی ہے نہ جانے کہاں عشق سستا رہا ہے کہاں زندگی کی ادا سو رہی ...

مزید پڑھیے

دل کا موسم زرد ہو تو کچھ بھلا لگتا نہیں

دل کا موسم زرد ہو تو کچھ بھلا لگتا نہیں کوئی منظر کوئی چہرہ خوش نما لگتا نہیں دھندلے دھندلے اجنبی سے لوگ آتے ہیں نظر مدتوں کا آشنا بھی آشنا لگتا نہیں سخت مشکل ہو گیا ہے امتیاز خوب و زشت پھول سی پوشاک میں بد خو برا لگتا نہیں لوٹ کر آتے نہیں کیوں آشیانوں کی طرف بھولے بھالے ...

مزید پڑھیے

ساغر و جام کو چھلکاؤ کہ کچھ رات کٹے

ساغر و جام کو چھلکاؤ کہ کچھ رات کٹے جام کو جام سے ٹکراؤ کہ کچھ رات کٹے کھائے جاتی ہے یہ تنہائی یہ تاریکئ شب دو گھڑی کے لئے آ جاؤ کہ کچھ رات کٹے چپ تمہاری مجھے دیوانہ بنا دیتی ہے آج للہ نہ شرماؤ کہ کچھ رات کٹے ہاں یہ وعدہ رہا اب پھر نہیں روکیں گے کبھی آج کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ کچھ رات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 188 سے 4657