شاعری

دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیں

دل فسردہ کو اب طاقت قرار نہیں نگاہ شوق کو اب تاب انتظار نہیں نہیں نہیں مجھے برداشت اب نہیں کی نہیں خدا کے واسطے کہنا نہ اب کی بار نہیں ہمیشہ وعدے کئے اب کے مل ہی جا آ کر حیات و وعدہ و دنیا کا اعتبار نہیں دکھاتی اپنی محبت کو چیر کر سینہ مگر نمود مرا شیوہ و شعار نہیں مری بہن مری ...

مزید پڑھیے

تخئیل کا در کھولے ہوئے شام کھڑی ہے

تخئیل کا در کھولے ہوئے شام کھڑی ہے گویا کوئی تصویر خیالوں میں جڑی ہے ہر منظر ادراک میں پھر جان پڑی ہے احساس فراواں ہے کہ ساون کی جھڑی ہے ہے وصل کا ہنگام کہ سیلاب تجلی طوفان ترنم ہے کہ الفت کی گھڑی ہے تہذیب الم کہیے کہ عرفان غم ذات کہنے کو تو دو لفظ ہیں ہر بات بڑی ہے سایہ ہو شجر ...

مزید پڑھیے

تپش سے پھر نغمۂ جنوں کی سرود و چنگ و رباب ٹوٹے

تپش سے پھر نغمۂ جنوں کی سرود و چنگ و رباب ٹوٹے کسی حقیقت کے ایک سنگ گراں سے ٹکرا کے خواب ٹوٹے حیات کی جوئے درد و غم میں سفینے امید و آرزو کے بشکل موج نسیم ابھرے برنگ جسم حباب ٹوٹے سنا رہی ہیں وفا کی راہیں شکست پرواز کا فسانہ کہ دور تک وادیٔ طلب میں پڑے ہیں ہر سمت خواب ٹوٹے برہنہ ...

مزید پڑھیے

وہ ہمیں راہ میں مل جائیں ضروری تو نہیں

وہ ہمیں راہ میں مل جائیں ضروری تو نہیں خودبخود فاصلے مٹ جائیں ضروری تو نہیں چاند چہرے کہ ہیں گم وقت کے سناٹے میں ہم مگر ان کو بھلا پائیں ضروری تو نہیں جن سے بچھڑے تھے تو تاریک تھی دنیا ساری ہم انہیں ڈھونڈ کے پھر لائیں ضروری تو نہیں تشنگی حد سے سوا اور سفر جاری ہے پر سرابوں سے ...

مزید پڑھیے

میں کس لئے ہوں میں کیا ہوں کیوں آ گیا ہوں یہاں

میں کس لئے ہوں میں کیا ہوں کیوں آ گیا ہوں یہاں بہ روئے آئینہ کب سے کھڑا ہوں میں حیراں بڑی عریض و وسیع ہے بہت کشادہ ہے ہے تنگ دستوں پہ پھر تنگ کیوں فضائے جہاں جھلک دکھا کے اچانک سدھار جاتا ہے مثال خواب حسیں ہے حقیقت انساں میں سر نگوں ہی رہا غایت ندامت سے پلٹ گئی مرے پاس آ کے رحمت ...

مزید پڑھیے

میری بربادیوں کی یہ تصویر

میری بربادیوں کی یہ تصویر گردش وقت کی ہے ایک لکیر حسن تدبیر کی نگاہوں سے دیکھ تو اپنے بخت کی تحریر دور کر دے دلوں کی تاریکی اے جمال خلوص کی تنویر تم سمجھتے ہو جن کو میر چمن زلف حرص و ہوا کے ہیں وہ اسیر کھا رہا ہوں فریب آزادی دیکھ کر پاؤں کی نئی زنجیر جھوٹی توقیر کے لیے ...

مزید پڑھیے

فصیل جسم گرا کر بکھر نہ جاؤں میں

فصیل جسم گرا کر بکھر نہ جاؤں میں یہی خیال ہے جی میں کہ گھر نہ جاؤں میں بدن کے تپتے جہنم میں خواہشوں کا سفر اسی سفر کے بھنور میں اتر نہ جاؤں میں ہوئی تمام مسافت اس ایک خواہش میں کہ اب وہ لاکھ بلائے مگر نہ جاؤں میں بکھیر دیتا ہے کچھ اور جب بھی ملتا ہے اسے تو وہم یہی ہے سنور نہ جاؤں ...

مزید پڑھیے

محرم عشق ہیں ہونٹوں کو سیے بیٹھے ہیں

محرم عشق ہیں ہونٹوں کو سیے بیٹھے ہیں شیشۂ دل میں کئی داغ لئے بیٹھے ہیں ماہ و انجم پہ پہنچ کر بھی نہیں رکتی نظر رخ کسی اور ہی منزل کا کئے بیٹھے ہیں اب تو کچھ اور ہی عالم ہے فروغ غم سے صورت جاں ترے ہر غم کو لئے بیٹھے ہیں بھولتا ہی نہیں اس نرگس شہلا کا کرم ایک مے ہے کہ شب و روز پئے ...

مزید پڑھیے

صبا کو لے کے حریم چمن سے نکلی ہے

صبا کو لے کے حریم چمن سے نکلی ہے وہ اک ادا کہ ترے بانکپن سے نکلی ہے لجا کے خود سے نہاں ہو گئی ہے پھولوں میں شمیم خوش کہ ترے پیرہن سے نکلی ہے بہ رنگ نور جھلکتی ہے ماہ و انجم میں ضیا جو تیری جبیں کی کرن سے نکلی ہے لطیف تر ہو سبک تر ہو ناز پرور ہو مہک یہ اپنے علاوہ سمن سے نکلی ...

مزید پڑھیے

اب کہاں لطف بہاراں کے زمانے باقی

اب کہاں لطف بہاراں کے زمانے باقی اب کہاں سوسن و سنبل کے فسانے باقی ایک کیفیت حسرت ہے افق تک طاری اب کہاں مطرب بلبل کے ترانے باقی اب کسی سمت بھی لہراتی نہیں زلف شمیم مشک و عنبر کے کہاں اب وہ ٹھکانے باقی خاک ہر راہ میں آوارہ ہے وحشت بن کر اب مسرت کے کہاں سبز خزانے باقی اب تصور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 187 سے 4657