شاعری

چیز جو بھول کر گئی ہوئی تھی

چیز جو بھول کر گئی ہوئی تھی لوٹنے پر وہیں پڑی ہوئی تھی باپ اور بھائیوں کے ہوتے ہوئے اپنے پیروں پہ خود کھڑی ہوئی تھی کتنے گھنٹوں کا خواب دیکھنا ہے ہاتھ میں تو گھڑی بندھی ہوئی تھی میں نے احباب سے کنارہ کیا مجھ کو پیسوں کی جب کمی ہوئی تھی کئی سالوں میں برقعہ چھوٹا تھا بڑی مشکل ...

مزید پڑھیے

چاند کی بے بسی کو سمجھوں گی

چاند کی بے بسی کو سمجھوں گی روشنی کی کمی کو سمجھوں گی ایک پتھر سے دوستی کر کے آپ کی بے رخی کو سمجھوں گی میں چراغوں کو طاق پر رکھ کر حاصل زندگی کو سمجھوں گی اس بدن کا طلسم ٹوٹے تو پھول کی تازگی کو سمجھوں گی لوگ کہتے ہیں جب مجھے بے حس میں بھلا کیوں کسی کو سمجھوں گی فون پر بات ...

مزید پڑھیے

آپ کو کیوں نہیں لگا پتھر

آپ کو کیوں نہیں لگا پتھر کیسے ناکام ہو گیا پتھر لڑکیاں خامشی سے بیٹھی ہوئیں ہائے وہ بولتا ہوا پتھر ٹوٹنا ٹھوکروں سے بہتر تھا پھول کیا سوچ کر بنا پتھر آئینے ٹوٹ کر بکھر بھی گئے اور وہ ڈھونڈھتا رہا پتھر میرے حصے میں سختیاں آئیں ہر کسی نے مجھے کہا پتھر ایک ہی زندگی میں دوسرا ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں کو فسانہ نہیں بناتی میں

حقیقتوں کو فسانہ نہیں بناتی میں تمہارے خواب سے خود کو نہیں جگاتی میں وہ فاختہ کی علامت اگر سمجھ جاتا تو اس کے سامنے تلوار کیوں اٹھاتی میں جناب واقعی میں نے کہیں نہیں جانا وگرنہ آپ کی گاڑی میں بیٹھ جاتی میں پھر ایک دم مرے پیروں میں گر گئے کچھ لوگ قریب تھا کہ کوئی فیصلہ سناتی ...

مزید پڑھیے

گھٹنے والے تھے جب عذاب مرے

گھٹنے والے تھے جب عذاب مرے آ گئے یاد مجھ کو خواب مرے ایک پہلو میں سو رہے ہیں وہ ایک پہلو میں ہے کتاب مرے ناپ لیں گے اب اور کتنی بار کپڑے سی دیجئے جناب مرے عشق اگر رائیگاں ہوا تو کیا آج بچے ہیں کامیاب مرے ویسے بھی آپشن نہیں تھا کوئی بن گئے تم ہی انتخاب مرے مرے گالوں تک آ گیا ...

مزید پڑھیے

بوئے گل رقص میں ہے باد خزاں رقص میں ہے

بوئے گل رقص میں ہے باد خزاں رقص میں ہے یہ زمیں رقص میں ہے سارا جہاں رقص میں ہے روح سرشار ہے اور چشم تخیل بیدار بعد مدت کے وہی شعلۂ جاں رقص میں ہے جل اٹھے ذہن کے ایوان میں لفظوں کے چراغ آج پھر گرمئ انداز بیاں رقص میں ہے پھر کسی یاد کی کشتی میں رواں ہیں لمحات جوئے دل رقص میں ہے ...

مزید پڑھیے

مارا ہمیں اس دور کی آساں طلبی نے

مارا ہمیں اس دور کی آساں طلبی نے کچھ اور تھے اس دور میں جینے کے قرینے ہر جام لہو رنگ تھا دیکھا یہ سبھی نے کیوں شیشۂ دل چور تھا پوچھا نہ کسی نے اب حلقۂ گرداب ہی آغوش سکوں ہے ساحل سے بہت دور ڈبوئے ہیں سفینے ہر لمحۂ خاموش تھا اک دور پر آشوب گزرے ہیں اسی طور سے سال اور مہینے ماضی کے ...

مزید پڑھیے

کہاں تک کاوش‌ اثبات پیہم

کہاں تک کاوش‌ اثبات پیہم کہاں تک زخم دل تدبیر مرہم سکوت شب ہجوم ناامیدی شمار داغ ہائے زیست اور ہم کبھی عالم غبار چشم حیراں کبھی وہ اک نگہ اور ایک عالم بڑھاؤ جرأت افکار کی لو ابھی ہے گرمی‌ٔ بزم جنوں کم دہکنے دو ابھی داغوں سے محفل چھلکنے دو ابھی پیمانۂ غم یہ کس منزل پہ لے ...

مزید پڑھیے

قطرۂ آب کو کب تک مری دھرتی ترسے

قطرۂ آب کو کب تک مری دھرتی ترسے آگ لگ جائے سمندر میں تو پانی برسے سرخ مٹی کی ردا اوڑھے ہے کب سے آکاش نہ شفق پھولے نہ رم جھم کہیں بادل برسے ہم کو کھینچے لیے جاتے ہیں سرابوں کے بھنور جانے کس وقت میں ہم لوگ چلے تھے گھر سے کس کی دہشت ہے کہ پرواز سے خائف ہیں طیور قمریاں شور مچاتی نہیں ...

مزید پڑھیے

سوا ہے حد سے اب احساس کی گرانی بھی

سوا ہے حد سے اب احساس کی گرانی بھی گراں گزرنے لگی ان کی مہربانی بھی کس اہتمام سے پڑھتے رہے صحیفۂ زیست چلیں کہ ختم ہوئی اب تو وہ کہانی بھی لکھو تو خون جگر سے ہوا کی لہروں پر یہ داستاں انوکھی بھی ہے پرانی بھی کسی طرح سے بھی وہ گوہر طلب نہ ملا ہزار بار لٹائی ہے زندگانی بھی ہمیں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 186 سے 4657