میرے خوابوں کا کبھی جب آسماں روشن ہوا
میرے خوابوں کا کبھی جب آسماں روشن ہوا رہ گزار شوق کا ایک اک نشاں روشن ہوا اجنبی خوشبو کی آہٹ سے مہک اٹھا بدن قہقہوں کے لمس سے خوف خزاں روشن ہوا پھر مرے سر سے تیقن کا پرندہ اڑ گیا پھر مرے احساس میں تازہ گماں روشن ہوا جانے کتنی گردنوں کی ہو گئیں شمعیں قلم تب کہیں جا کر یہ تیرہ خاک ...