شاعری

میرے خوابوں کا کبھی جب آسماں روشن ہوا

میرے خوابوں کا کبھی جب آسماں روشن ہوا رہ گزار شوق کا ایک اک نشاں روشن ہوا اجنبی خوشبو کی آہٹ سے مہک اٹھا بدن قہقہوں کے لمس سے خوف خزاں روشن ہوا پھر مرے سر سے تیقن کا پرندہ اڑ گیا پھر مرے احساس میں تازہ گماں روشن ہوا جانے کتنی گردنوں کی ہو گئیں شمعیں قلم تب کہیں جا کر یہ تیرہ خاک ...

مزید پڑھیے

بھرے تو کیسے پرندہ بھرے اڑان کوئی

بھرے تو کیسے پرندہ بھرے اڑان کوئی نہیں ہے تیر سے خالی یہاں کمان کوئی تھیں آزمائشیں جتنی تمام مجھ پہ ہوئیں نہ بچ کے جائے گا اب مجھ سے امتحان کوئی یہ طوطا مینا کے قصے بہت پرانے ہیں ہمارے عہد کی اب چھیڑو داستان کوئی نئے زمانے کی ایسی کچھ آندھیاں اٹھیں رہا سفینے پہ باقی نہ بادبان ...

مزید پڑھیے

دریدہ جیب گریباں بھی چاک چاہتا ہے

دریدہ جیب گریباں بھی چاک چاہتا ہے وہ عشق کیا ہے جو دامن کو پاک چاہتا ہے مرے غموں سے سروکار بھی وہ رکھے گا میری خوشی میں جواب اشتراک چاہتا ہے پھر آج شرط لگائی ہے دل نے وحشت سے پھر آج دامن احساس پاک چاہتا ہے وہ تنگ آ کے زمانے کی سرد مہری سے تعلقات میں پھر سے تپاک چاہتا ہے تمام ...

مزید پڑھیے

رکھی نہ گئی دل میں کوئی بات چھپا کر

رکھی نہ گئی دل میں کوئی بات چھپا کر دیوار سے ٹھہرا تھا کوئی کان لگا کر تو خواب ہے یا کوئی حقیقت نہیں معلوم کرتی ہوں میں تصدیق ابھی بتی جلا کر مائل تھی میں خود اس کی طرف کیا پتا اس کو وہ مجھ سے مخاطب ہوا رومال گرا کر ملنے کے لئے کیسی جگہ ڈھونڈھ لی تم نے میں چھو بھی نہیں سکتی تمہیں ...

مزید پڑھیے

گل پوش بام و در ہیں مگر گھر میں کچھ نہیں

گل پوش بام و در ہیں مگر گھر میں کچھ نہیں یہ سب نظر کا نور ہے منظر میں کچھ نہیں موجوں کا اضطراب ہو یا گوہر حیات احساس کا فسوں ہے سمندر میں کچھ نہیں پرچھائیوں کا ناچ ہے ویران صحن میں آسیب شب ہے اور مرے گھر میں کچھ نہیں منزل سے بے نیاز چلے جا رہے ہیں لوگ بھٹکے ہوؤں کی آنکھ کے پتھر ...

مزید پڑھیے

تو بے وفا ہے ترا اعتبار کون کرے

تو بے وفا ہے ترا اعتبار کون کرے تمام عمر ترا انتظار کون کرے بہت دنوں سے میں خوش فہمیٔ وصال میں ہوں جو تو نہیں تو مجھے بے قرار کون کرے سنائیں حال بھی دل کا اگر سنے کوئی سنے نہ جب کوئی چیخ و پکار کون کرے وہ آئے یا کہ نہ آئے یہ اس کی ہے مرضی شمار گردش لیل و نہار کون کرے جو میں بھی سب ...

مزید پڑھیے

عتاب و قہر کا ہر اک نشان بولے گا

عتاب و قہر کا ہر اک نشان بولے گا میں چپ رہا تو شکستہ مکان بولے گا ابھی ہجوم ہے اس کو جلوس بننے دے ترے خلاف ہر اک بے زبان بولے گا ہماری چیخ کبھی بے اثر نہیں ہوگی زمیں خموش سہی آسمان بولے گا جو تم ثبوت نہ دوگے عذاب کے دن کا گواہ بن کے یہ سارا جہان بولے گا کبھی تو آئے گا وہ وقت بھی ...

مزید پڑھیے

سمٹے ہوئے جذبوں کو بکھرنے نہیں دیتا

سمٹے ہوئے جذبوں کو بکھرنے نہیں دیتا یہ آس کا لمحہ ہمیں مرنے نہیں دیتا قسمت مری راتوں کی سنورنے نہیں دیتا وہ چاند کو اس گھر میں اترنے نہیں دیتا کرتی ہے سحر زرد گلابوں کی تجارت معیار ہنر زخم کو بھرنے نہیں دیتا بادل کے سوا کون ہے ہمدرد رفیقو ترشول سی کرنوں کو بکھرنے نہیں ...

مزید پڑھیے

بے مکاں میرے خواب ہونے لگے

بے مکاں میرے خواب ہونے لگے رت جگے بھی عذاب ہونے لگے حسن کی محفلوں کا وزن بڑھا جب سے ہم باریاب ہونے لگے ہے عجب لمس ان کے ہاتھوں کا سنگ ریزے گلاب ہونے لگے اب پگھلنے لگے ہیں پتھر بھی رابطے کامیاب ہونے لگے میرا سچ بولنا قیامت تھا کیسے کیسے عتاب ہونے لگے ذکر تھا ان کی بے وفائی ...

مزید پڑھیے

زور سے تھوڑی اسے پکارا کرنا ہے

زور سے تھوڑی اسے پکارا کرنا ہے ہم نے تو بس ایک اشارا کرنا ہے بیٹا بیٹی کا حصہ کیوں کھا جائے میں نے خود ان میں بٹوارا کرنا ہے بہت زیادہ بولنے والی لڑکی کو دیواروں کے ساتھ گزارا کرنا ہے ورنہ اک دن لے ڈوبے گا وہ ہم کو اس دریا سے جلد کنارہ کرنا ہے یہ جو اسے ہر بات پہ غصہ آتا ہے ہم نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 185 سے 4657