شاعری

یوں نہ جاؤ کہ بہت رات ابھی باقی ہے

یوں نہ جاؤ کہ بہت رات ابھی باقی ہے میرے حصے کی ملاقات ابھی باقی ہے رات مہکے گی تو خواہش بھی بہک جائے گی جو نہ ہو پائی ہے وہ بات ابھی باقی ہے خیر سے مل گئیں راتیں وہ مرادوں والی آپ کے حسن کی خیرات ابھی باقی ہے چاندنی رات کا ہر قرض اتارا ہم نے پیاسے ارمانوں کی بارات ابھی باقی ...

مزید پڑھیے

ہو گئے عنبر فشاں دونوں جہاں میرے لیے

ہو گئے عنبر فشاں دونوں جہاں میرے لیے مسکرایا گلشن کون و مکاں میرے لیے کیا ہوا میں نے جو گائے نغمۂ دار و رسن تم نے خود چھیڑ تھا ساز امتحاں میرے لیے آنکھ بھر آئی گلوں کے چاک داماں دیکھ کر نشتر غم ہے چمن کی داستاں میرے لیے یہ سمجھ کر اپنی بربادی پر ہنستی ہوں مدام تیری دنیا میں ...

مزید پڑھیے

اب اشک تو کہاں ہے جو چاہوں ٹپک پڑے

اب اشک تو کہاں ہے جو چاہوں ٹپک پڑے آنکھوں سے وقت گریہ مگر خوں ٹپک پڑے پہنچی جو ٹک جھلک ترے رانوں کی گوش تک خجلت سے آب ہو در مکنوں ٹپک پڑے طغیاں سرشک کا تو یہاں تک ہے چشم سے اک قطرہ آب کا ہو تو جیجوں ٹپک پڑے ڈوبا ہے بحر شعر میں ایسا نواؔ کہ اب دے طبع کو فشار تو مضموں ٹپک پڑے

مزید پڑھیے

نہ شام غم نہ صبح معتبر ہوں

نہ شام غم نہ صبح معتبر ہوں تماشائے جمال دیدہ ور ہوں کوئی رت ہو وہی بے برگ و باری زمیں پر ایک بے موسم شجر ہوں کہیں اک لمحۂ گزراں کا سایہ کہیں آئندہ صدیوں کا سفر ہوں ہوں حرف ناشنیدہ بے سخن کو شعور دیدۂ اہل نظر ہوں کبھی دل کا کبھی دنیا کا ماتم میں اپنی ذات میں اک چشم تر ہوں نہ ...

مزید پڑھیے

اس شام کو جب روٹھ کے میں گھر سے چلا تھا

اس شام کو جب روٹھ کے میں گھر سے چلا تھا اک سایہ بھی بچھڑے ہوئے منظر سے چلا تھا اب آسماں ہاتھوں میں ہے پیروی میں زمیں ہے میں بے سر و سامان ترے در سے چلا تھا بے بس اسے کر دے گی ہواؤں کی سیاست بادل کا وہ ٹکڑا جو سمندر سے چلا تھا دینے لگا آکاش کے دروازوں پہ دستک انسان کا وہ دور جو ...

مزید پڑھیے

مجنوں بھی خیریت سے ہے لیلیٰ مزے میں ہے

مجنوں بھی خیریت سے ہے لیلیٰ مزے میں ہے اک تم مرے نہ ہو سکے دنیا مزے میں ہے تتلی اداس ہو کے چھپی دیکھتی رہی پھولوں سے کھیلتا ہوا بھنورا مزے میں ہے دنیا کے سارے رنگ وہی ہیں تمہارے بعد مجھ کو اکیلا کرکے زمانہ مزے میں ہے موسم تمہارے حسن کے مستی شباب کی رہتے ہو جس میں تم وہ علاقہ مزے ...

مزید پڑھیے

ہمارا ہو کے بھی کب اپنے بس میں رہتا ہے

ہمارا ہو کے بھی کب اپنے بس میں رہتا ہے یہ دل ہمیشہ تری دسترس میں رہتا ہے اسے شرابی نہ سمجھو کہ صبح ہوتے ہی وہ مندروں کے سنہرے کلس میں رہتا ہے ہے اعتبار سے بے اعتبار سرحد تک وہ فاصلہ جو مرے ہم نفس میں رہتا ہے تمنا یہ ہے کہ کچھ لمحے دل کے نام کریں مگر دماغ کہ حرص و ہوس میں رہتا ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے گم ہوا پرتو

کون کہتا ہے گم ہوا پرتو لحظہ لحظہ ہے آئینہ پرتو ہر طرف چھا گیا ہے اک جلوہ جانے کس کا یہ پڑ گیا پرتو نقش پلکوں پہ جب ہوا روشن اپنی آنکھوں میں بھر لیا پرتو میرے اندر نہاں ہے عکس مرا آئینے میں ہے آپ کا پرتو ڈر رہا ہے ذکیؔ اندھیروں سے کھو نہ جائے کہیں ترا پرتو

مزید پڑھیے

نور یہ کس کا بسا ہے مجھ میں

نور یہ کس کا بسا ہے مجھ میں روشنی حد سے سوا ہے مجھ میں حرف حق کی سی صدا ہے مجھ میں کون یہ بول رہا ہے مجھ میں کس نے دستک در دل پر دی ہے شور یہ کیسا بپا ہے مجھ میں روز سنتا ہوں میں ہنسنے کی صدا کون یہ میرے سوا ہے مجھ میں کیا ملے گی مرے فن کی مجھے داد کچھ زیادہ ہی انا ہے مجھ میں مستقل ...

مزید پڑھیے

ترے بغیر کٹے دن نہ شب گزرتی ہے

ترے بغیر کٹے دن نہ شب گزرتی ہے حیات کس سے کہوں کیسے اب گزرتی ہے گمان ہوتا ہے مجھ کو تمہارے آنے کا ہوا ادھر سے دبے پانوں جب گزرتی ہے ہمارا کیا ہے کسی طور کٹ ہی جائے گی سکوں سے ان کی تو شام طرب گزرتی ہے مجھے وہ لمحہ قیامت سے کم نہیں ہوتا کوئی کراہ سماعت سے جب گزرتی ہے گزر رہا ہوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 184 سے 4657