شاعری

غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسے

غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسے ہے سرو قد وہ اصل میں لنگڑا کہیں جسے معشوق چاہیے کہ ہو ایسا سیاہ فام مجنوں میاں بھی دیکھ کے لیلیٰ کہیں جسے مے کو جو اصطلاح میں کہتے ہیں دخت رز وہ مغبچہ ہے رندوں کا سالا کہیں جسے سب جانور نہ حضرت انساں سے کیوں ڈریں پیدا ہیں اس کے پیٹ سے حوا کہیں ...

مزید پڑھیے

تمنا ہے کسی کی تیغ ہو اور اپنی گردن ہو

تمنا ہے کسی کی تیغ ہو اور اپنی گردن ہو پھر اس کے بعد یا رب سر کٹے نالے میں مدفن ہو ہجوم عام ہو اور مجتمع گوروں کی پلٹن ہو سمجھ لو لوٹ آئے ہیں جو اسٹیشن پہ دن دن ہو کہیں قاتل کو ہم محبوب اگر ہے عین نادانی حذر لازم ہے ایسے شخص سے جو اپنا دشمن ہو لب شیریں اگر معشوق کا قند مکرر ...

مزید پڑھیے

چور ہے شیشۂ دل ایک نظر اور سہی

چور ہے شیشۂ دل ایک نظر اور سہی اک نیا خواب مرے دیدۂ تر اور سہی کیوں نہ دو چار قدم ساتھ بھی چل کر دیکھیں ہے مری راہ جدا تیرا سفر اور سہی اس کی بھیگی ہوئی آنکھوں سے چلو مل آئیں اے مری زندگی اک زخم جگر اور سہی اب کے شاید کسی منزل کا پتہ مل جائے رائیگاں لمحوں میں اک راہ گزر اور ...

مزید پڑھیے

گر بنانا ہے محبت کا کوئی گھر صاحب

گر بنانا ہے محبت کا کوئی گھر صاحب دستکیں دیجئے لوگوں کے دلوں پر صاحب جتنی بڑھتی گئیں تنہائیاں جسم و جاں کی گہرا ہوتا گیا آنکھوں کا سمندر صاحب دور تک اس کو بچھڑتے ہوئے ہم دیکھ سکیں روک لو آنسو کہ دھندلائے نہ منظر صاحب شہر جادو کا ہے چلتے رہو بس چلتے رہو مڑ کے دیکھو گے تو ہو جاؤ ...

مزید پڑھیے

عجب کیا ہے رہے اس پار بہتے جگنوؤں کی روشنی تحلیل کی زد میں

عجب کیا ہے رہے اس پار بہتے جگنوؤں کی روشنی تحلیل کی زد میں ہوائے بے وطن رکھ لے طلوع مہر کا اک زائچہ زنبیل کی زد میں غم بے چہرگی کا عکس تھا جس نے وجود سنگ کو مبہوت کر ڈالا تراشیں سلوٹیں جوں ہی خد و خال تحیر آ گئے تشکیل کی زد میں شب وعدہ فصیل ہجر سے آگے چمکتا ہے ترا اسم ستارہ جو کہ ...

مزید پڑھیے

کل رات بہت زور تھا ساحل کی ہوا میں

کل رات بہت زور تھا ساحل کی ہوا میں کچھ اور ابھر آئیں سمندر سے چٹانیں اک فصل اگی جوں ہی زمینوں پہ سروں کی ترکش سے گرے تیر فصیلوں سے کمانیں محسوس ہوا ایسے کہ چپ چاپ ہیں سب لوگ جب غور کیا ہم نے تو خالی تھیں نیامیں تم حبس کے موسم کو ذرا اور بڑھا لو بے سمت نہ ہو جائیں پرندوں کی ...

مزید پڑھیے

دنیا کی سلطنت میں خدا کے خلاف ہیں

دنیا کی سلطنت میں خدا کے خلاف ہیں شہر چراغ میں جو ہوا کے خلاف ہیں فرسودہ و فضول روایت کے نام پر اپنے تمام دوست وفا کے خلاف ہیں خاموشیوں کے دشت میں کیوں چیختے ہو تم قانون سب یہاں کے صدا کے خلاف ہیں کب سے اڑا رہی ہیں قناعت کی دھجیاں یہ حاجتیں جو صبر و رضا کے خلاف ہیں انسانیت کی ...

مزید پڑھیے

چلو پی لیں کہ یار آئے نہ آئے

چلو پی لیں کہ یار آئے نہ آئے یہ موسم بار بار آئے نہ آئے ہم اس کی راہ دیکھیں گے ہمیشہ وہ جان انتظار آئے نہ آئے یہ سوچا ہے کہ اس کو بھول جائیں اب اس دل کو قرار آئے نہ آئے گلابوں کی طرح تم تازہ رہنا زمانے میں بہار آئے نہ آئے ضمیرؔ اس زندگی سے کیوں خفا ہو اسے پھر تم پہ پیار آئے نہ ...

مزید پڑھیے

کہاں دھواں ہے کہاں گھر سمجھ میں آئے گا

کہاں دھواں ہے کہاں گھر سمجھ میں آئے گا ہوا چلے گی تو منظر سمجھ میں آئے گا تلاش گوہر نایاب سطح پر کیوں ہے بھنور میں اترو سمندر سمجھ میں آئے گا ابھی سے تبصرہ شخصیتوں پہ ٹھیک نہیں ہو گفتگو تو سخنور سمجھ میں آئے گا ہر ایک خواب نئی صبح کی امانت ہے کر انتظار مقدر سمجھ میں آئے ...

مزید پڑھیے

نہ آنسوؤں میں کبھی تھا نہ دل کی آہ میں ہے

نہ آنسوؤں میں کبھی تھا نہ دل کی آہ میں ہے تماش بین ہمیشہ سے رقص گاہ میں ہے بنام عشق مری زندگی ترے قرباں مگر نصیب مرا بے طلب نباہ میں ہے میں جانتا ہوں کہ ہے کس کی آنکھ کا آنسو وہ ایک لعل جو اب تک مری کلاہ میں ہے دلوں کے رشتے ہیں سب الوداعی منزل میں کہ ناگزیر اذیت ہر ایک چاہ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 183 سے 4657