شاعری

تم جو کہتے ہو کہ آویں گے ترے ہاں کل تک

تم جو کہتے ہو کہ آویں گے ترے ہاں کل تک کون جیتا ہے جدائی میں مری جاں کل تک تیرے وحشی کا اگر خاک اڑانا ہے یہی کہیں ڈھونڈا بھی نہ پاوے گا بیاباں کل تک کچھ بھی کہتے ہیں جراحت کی میرے اے ہمدم اکتفا کیونکہ کرے ایک نمکداں کل تک دور سے گر اسے تصویر دکھا دوں تیری آپ میں آوے نہ پھر شاہد ...

مزید پڑھیے

تدبیر میں یارو نہیں تقصیر تمہاری

تدبیر میں یارو نہیں تقصیر تمہاری تقدیر مری ہو گئی تدبیر تمہاری کیا مر گئے زنداں میں اسیران محبت آواز نہیں دیتی ہے زنجیر تمہاری تم آن کے سمجھاؤ مرے دل کو تو شاید کر جائے نصیحت کوئی تاثیر تمہاری رہتی ہے پریشاں جو سراسر یہ ہمیشہ کس پیچ میں ہے زلف گرہ گیر تمہاری جب داد سخن ملتی ...

مزید پڑھیے

ہوویں برعکس بھلا کیوں نہ وہ اغیار سے خوش

ہوویں برعکس بھلا کیوں نہ وہ اغیار سے خوش کسی معشوق کو دیکھا نہ وفادار سے خوش ہر دعا پر ہمیں دشنام میسر ہے کہاں شامت نفس ہے گر ہوویں نہ سرکار سے خوش نقد دل بھی جو کوئی دے کے نہ مانگے بوسہ وہ ہوا کرتے ہیں بس ایسے خریدار سے خوش غور سے میں نے جو دیکھا تو کہیں عالم میں کوئی ہوگا نہ ...

مزید پڑھیے

جہاں سے دوش عزیزاں پہ بار ہو کے چلے

جہاں سے دوش عزیزاں پہ بار ہو کے چلے یہ سوئے ملک عدم شرمسار ہو کے چلے ہمارے دیکھنے کو خوش ابھی سے ہیں اعدا ذرا نہ دیکھ سکے اشک بار ہو کے چلے پہنچ ہی جاؤ گے مے خانہ میں خضر تم بھی ہمارے ساتھ جو یاروں کے یار ہو کے چلے تمہاری رہ کا رہا ہم کو ہر طرف دھوکا چلے جدھر کو سو بے اختیار ہو کے ...

مزید پڑھیے

سر جو رہتا ہے مرا رونے سے اکثر بھاری

سر جو رہتا ہے مرا رونے سے اکثر بھاری پاؤں پر رکھتا نہیں ان کے سمجھ کر بھاری بے تکلف حرکت کچھ جو فلک کرتا ہے آج کل مجھ پہ ستارہ ہے مقرر بھاری غیر کے سامنے یوں مجھ پہ یکایک نہ اٹھے دست نازک میں تیرے کاش ہو زیور بھاری اور کچھ ہیں ترے دل بند کے تیور بہ خدا آج کی رات ہر اک بت کو ہے آذر ...

مزید پڑھیے

اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیا

اچھا ہوا کہ دم شب ہجراں نکل گیا دشوار تھا یہ کام پر آساں نکل گیا بک بک سے ناصحوں کی ہوا یہ تو فائدہ میں گھر سے چاک کر کے گریباں نکل گیا پھر دیکھنا کہ خضر پھرے گا بہا بہا گر سوئے دشت میں کبھی گریاں نکل گیا خوبی صفائے دل کی ہماری یہ جانیے سینے کے پار صاف جو پیکاں نکل گیا ہنگامے ...

مزید پڑھیے

آہ کو جو کہوں برائی کی

آہ کو جو کہوں برائی کی بخت نے کون سی رسائی کی مہرباں وہ ہوئے تو حیراں ہوں ان سے کیا میں نے بے وفائی کی اس کے رفع گمان بد کے لئے مدتوں ہم نے پارسائی کی ضعف میں سر ہلا نہ بالیں سے گو بہت طاقت آزمائی کی سب سے بیگانہ ہم رہے عارفؔ دوستی کی نہ آشنائی کی

مزید پڑھیے

یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپ

یاں چلا آئے جو وہ سیم بدن آپ سے آپ دفع ہو دل سے مرے رنج و محن آپ سے آپ مت رہو چیں بہ جبیں اس سے کہ کوئی دن میں اس سے بے ساختہ وہ دے گی شکن آپ سے آپ کل اسے دیکھ کے بھر آئی جو چھاتی میری بھر گئے سینے کے سب زخم کہن آپ سے آپ اس کے رخسار کو کب دل سے بھلایا ہم نے رک گیا ہم سے وہ کچھ رشک چمن ...

مزید پڑھیے

سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیں

سچ ہے کہ آہ سرد مری بے اثر نہیں پتھر کو جھاڑیے تو نکلتا شرر نہیں اوروں کو ہو تو ہو ہمیں مرنے سے ڈر نہیں خط لے کے ہم ہی جاتے ہیں گر نامہ بر نہیں ہر چند مجھ میں کوئی کمال و ہنر نہیں ہر چرخ کینہ دوز سے میں بے خطر نہیں اٹھتا قدم جو آگے کو اب راہبر نہیں پیچھے تو چھوڑ آئے کہیں اس کا گھر ...

مزید پڑھیے

وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کر

وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کر ہم بھاگتے تھے زلف گرہ گیر دیکھ کر جب تک نہ خاک ہو جیے حاصل نہیں کمال یہ بات کھل گئی ہمیں اکسیر دیکھ کر عذر گناہ داور محشر سے کیوں کروں غم مٹ گیا ہے نامۂ تقدیر دیکھ کر ہوں تشنہ کام دشت شہادت زبس کہ میں گرتا ہوں آب خنجر و شمشیر دیکھ کر عارفؔ چھپا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 178 سے 4657